ٹائلوں کی غیرقانونی درآمد سے قومی خزانے کو بھاری نقصان

اسمگل شدہ ٹائلوں کا مارکیٹ شیئر40 فیصدہوگیا،انڈرانوائسنگ نے بھی مقامی صنعت کو تباہ کردیا


Business Reporter February 13, 2014
40 ارب کی انویسٹمنٹ،10 ہزار کا روزگار وابستہ ہے،منصفانہ وشفاف نظام بنایاجائے،مینوفیکچررز ، فوٹو: فائل

FAISALABAD: ٹائلوں کی غیرقانونی درآمد سے قومی خزانے کو بھاری نقصان، اسمگلنگ، انڈرانوائسنگ کے باعث مقامی انڈسٹری تباہی سے دوچار ہے۔

ملک کے مغربی حصے میں پڑوسی ملکوں سے ٹائلوں کی اسمگلنگ اور غیر قانونی درآمد، انڈر انوائسنگ سے نہ صرف ایک طرف مقامی انڈسٹری کو اپنی پیداوار کم کرنا پڑی ہے اور بعض صورتوں میں یونٹس کو بھی بند کردیا گیا ہے تو دوسری طرف قومی خزانے کو بھی ڈیوٹی سے محرومی کے باعث بھاری نقصان ہورہا ہے جبکہ ملک کا قیمتی زرمبادلہ بھی ضائع جارہا ہے۔ بلوچستان سے کلیئر ہونے والی امپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ ٹائلوں کو صرف 0.06 ڈالر (7 روپے) فی اسکوائر میٹر کے حساب سے کلیئر کردیا جاتا ہے۔ ان پر مجموعی ٹیکسز یعنی ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس صرف 6 روپے فی اسکوائر میٹر ادا کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس مقامی طور پر تیار کیے جانے والے سرامکس ٹائل پر اوسطاً 100 روپے فی اسکوائر میٹر سیلز ٹیکس ادا کیا جاتا ہے۔ پاکستان سیرامکس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا کہ انڈر انوائس ایرانی ٹائل ملک بھر کی مارکیٹوں میں بڑی تعداد میں دستیاب ہے اور اتنی کم قیمت پر فروخت کیا جارہا ہے جس پر چینی مینوفیکچررز بھی ٹائل تیار نہیں کرسکتے۔

اس کی وجہ تافتان سرحد سے ٹائلوں کی اسمگلنگ ہے اور امپورٹرز کی طرف سے ان کی قیمت غلط بیان کرکے ٹائل کلیئر کروائے جاتے ہیں اور ان ٹائلوں کی جانچ بھی نہیں کی جاتی۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ گزشتہ برس ایرانی ٹائلوں کی مارکیٹ میں موجودگی میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ مزید یہ کہ درآمد شدہ ٹائل، انڈر انوائس ٹائل اور اسمگل شدہ ٹائلوں کا مارکیٹ شیئر بڑھ کر 40 فیصد تک پہنچ گیا ہے جو مقامی انڈسٹری کیلیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ نہ صرف ایرانی ٹائلوں کو انتہائی کم ڈیوٹی کی چھوٹ حاصل ہے بلکہ ٹائلوں کی تیاری میں سبسڈی بھی ملتی ہے جس سے ایرانی ٹائل کی پیداواری لاگت کم ہوجاتی ہے جبکہ مقامی انڈسٹری کو ٹائلوں کی تیاری کیلیے گیس میسر نہیں ہے اور انہیں زیادہ پاور ٹیرف بھی ادا کرنے پڑتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ قدرتی گیس کی قیمت میں متواتر اضافہ انڈسٹری کو درپیش چیلنجز میں مزید اضافے کا باعث ہے جو انڈسٹری کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ٹائل انڈسٹری میں مجموعی طور پر تقریباً 35 ارب سے 40 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، اسی طرح انڈسٹری سے براہ راست وابستہ افراد کی تعداد 10 ہزار افراد سے زیادہ ہے۔ ترجمان نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ٹیکس کے ضمن میں پائی جانے والی اس خرابی کو دور کرے اور ایسا نظام وضع کرے جس سے منصفانہ اور شفاف ڈیوٹی اور ٹیکسز امپورٹرز پر عائد ہو۔