درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی عملی تدبیر کیجیے

پی ٹی آئی کی حکومت گڈ گورننس لانے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے ریاست اور عام آدمی کی زندگی میں مسائل پیدا ہوئے


Editorial January 13, 2022
پی ٹی آئی کی حکومت گڈ گورننس لانے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے ریاست اور عام آدمی کی زندگی میں مسائل پیدا ہوئے۔ فوٹو: فائل

کسی حکومت کو ہمارے جیسے چیلنجزکا سامنا نہیں کرنا پڑا ، اس کے باوجود مشکلات سے نکل آئے ہیں ،نچلے طبقہ کو اوپر اٹھانے کے لیے کوشاں ہیں ، مہنگائی کی عالمی لہر سے پوری دنیا کی طرح پاکستان بھی شدید متاثر ہوا لیکن خطہ کے دیگر ملکوں کی نسبت اب بھی پاکستان بہت سستا ملک ہے،اگلے روز وزیراعظم عمران خان راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیراہتمام 14ویں انٹرنیشنل چیمبر سمٹ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کی اتحادی جماعتوں کے اراکین نے اپنی تقاریر میں مہنگائی کے حوالے سے حکومت پر شدید تنقید کی ہے ۔ ورلڈ بینک نے رواں مالی سال کے لیے پاکستان کی اقتصادی نمو کی شرح 3.4فی صد برقرار رکھی ہے ،جب کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل کو کھپانے کے لیے چند عشروں تک معاشی شرح نمو سات تا نو فی صد رہنا ناگزیر ہے ۔لیبر فورس سروے کے مطابق پاکستان میں 31فی صد نوجوان بے روزگار ہیں ۔مردوں میں بیروزگاری کی شرح سولہ فی صد اور خواتین میں اکاون فی صد ہے ۔

وزیراعظم کے عزم اور خلوص نیت پر شک کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے ،بلاشبہ وہ ملک میں تبدیلی کے خواہاں ہیں ،لیکن عمل درآمد کے ضمن میں ضرور عوام فکر مند ہیں کیونکہ عوام کے لیے مشکل ہوتی زندگی بہت بڑا چیلنج بنتی جارہی ہے،۔

اگلے روز قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان کی رہنماکشور زہرہ نے کہا کہ ہم اتحادی ضروری ہیں مگر ہمیں عوام کو جواب دینا ہے ، اقبال محمدعلی نے کہا کہ منی بجٹ میں ہم سے مشاورت نہیں کی گئی ، جی ڈی اے کے غوث بخش مہر نے کہا کہ کھاد پہلے ہی مہنگی اور بلیک میں مل رہی ہے۔ حکومتی اتحادیوں کی تنقید حکومت کو دعوت فکردیتی ہے کہ بنیادی طور پر ایک زرعی ملک میں کسان یوریا کھاد کے لیے رل گئے ہیں ، اور کہیں اگر بلیک میں دستیاب ہے تو وہ انتہائی مہنگی ہے ، جوعام کسان خریدنے کی قوت نہیں رکھتا، کسان مظاہرے بھی کررہے ہیں ۔

یہ بات درست ہے کہ مہنگائی ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے، دنیا کے سبھی ملکوں میں ضروریات زندگی کی چیزوں میں اضافہ ہورہا ہے ، لیکن وہ ممالک معاشی طور پر کتنے مستحکم ہیں ، اور عام آدمی کی قوت خرید کتنی مستحکم ہے یہ بنیادی بات ہے ، لہذا جب بھی وزیراعظم اور ان کے وزراء اور مشیر حضرات پاکستان کو سستا ملک قرار دے رہے ہوتے ہیں تو ان بنیادی باتوں اور زمینی حقائق کو بھی مد نظر رکھا کریں ۔

ایک مہنگائی وہ ہے جو سرمایہ دارانہ نظام سے جڑی ہوئی ہے اور اس مہنگائی کو کوئی بھی ختم نہیں کرسکتا جب تک سرمایہ دارانہ نظام باقی ہے لیکن بعض عوامی مسائل ایسے ہیں جنھیں ایک منظم طریقے سے عمل پیرا ہوکر ختم نہ سہی کم تو کیا جاسکتا ہے عوام براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ وزراء یا حکومتی عہدیدار جب یہ تقابل کرتے ہیں تو وہ دیگر ممالک کی معیشت کے دیگر اعشاریوں کے ساتھ اپنی معیشت کا مقابلہ کرنا کیوں بھول جاتا ہے، غریب عوام اُن کی اِن تاویلوں کو سننا نہیں چاہتے،انھیں سستا آٹا، گھی، چینی چاہیے تاکہ وہ کم از کم اپنے پیٹ کی آگ بجھا سکیں۔ بچوں کی تعلیم، روزگار اور صحت کے مواقعے تو خیر اب خواب ہو کر رہ گئے ہیں۔

ان سطور کے ذریعے حکومتی عہدیداروں سے سوال ہے کہ کیا کبھی انھوں نے پاکستانیوں کی فی کس آمدنی کا تقابل خطے کے باقی ممالک سے بھی کیا ہے،فرض کیجیے اگر امریکا میں ڈبل روٹی ایک ڈالر کی ہے توپاکستانی روپوں میں ایک سو اسی روپے ہوئے ، جب کہ پاکستان میں فل سائز ڈبل روٹی،ایک سو چالیس روپے کی ، یوں بظاہر قیمت تو کم ہوئی لیکن امریکا کی اکانومی اور عام آدمی کی قوت خرید کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے ۔پاکستان میں بے روزگاری کی شرح ماضی کے مقابلے میںکئی فی صد اوپر جا چکی ہے، روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں، اب اس صورتِ حال میں صرف بیانات سے کام نہیں چلنے والاہے ، بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔

گو پہلے سردی کے ریکارڈ ٹوٹتے تھے اب مہنگائی کا ''70سالہ'' ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ 3سال میں اجناس کی قیمتوں میںکئی سو گنا اضافہ ہوگیا ہے، اوپر سے آئی ایم ایف کی فرمائش پر تیارکردہ منی بجٹ میں ''17فیصد'' ٹیکس تباہی کا باعث بنے گا۔اب تو بجلی اس سطح پر مہنگی ہو گئی ہے کہ غریب گھروں میں ایک پنکھا چلانا بھی محال ہوتا جا رہا ہے۔ ملک میں شدید سردی ہے ، گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ، لیکن گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہیں ، کیونکہ گیس سرے سے آ نہیں رہی ہے ۔شنید یہ ہے کہ آنے والے دِنوں میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں مزید دس تا پندرہ فیصد اضافہ ہو سکتا ہے، حالات ایسے ہیں کہ غریب تو غریب متوسط طبقے کو بھی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔

مہنگائی کا عفریت عوام پر اپنی گرفت مسلسل مضبوط کرتا چلا جا رہا ہے۔ اشیائے ضروریہ میں سے کوئی ایک شے بھی ایسی نہیں ہے جس کی قیمت میں اضافہ نہ ہوا ہو۔ستم بالائے ستم یہ ہے کہ یہ اضافہ کہیں رک بھی نہیں رہا۔ یہ تمام صورتحال عوام الناس کے لیے شدید پریشانی کا باعث ہے۔ عام آدمی جس کے وسائل میں کوئی اضافہ نہیں ہوا وہ نئے اور اضافہ شدہ نرخوں پر اشیائے ضروریہ کس طرح خرید سکتا ہے۔اس کی تو قوت خرید جواب دے چکی ہے اور وسائل کی کمیابی کی بنا پر اس کے لیے زندگی کے لالے پڑ چکے ہیں۔ عوام کے لیے ہر آنے والا دن ایک افتاد کی خبر لاتا ہے۔

حکومت اگرچہ اپنی طرف سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے بہت بلند بانگ دعوے کرتی ہے۔وزراء اورحکومت کے ترجمان بھی مہنگائی کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکاری دکھائی دیتے ہیں لیکن مہنگائی کا جادو ہے کہ سر چڑھ کر بول رہا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافہ بھی آئے روزمعمول بنتا جا رہا ہے۔نجی بجلی کمپنیوں نے فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر بھی لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔بجلی،گیس اورپٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے ہرشے کے نرخوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ مہنگائی اوربیروزگاری نے عوام کی زندگی انتہائی مشکل کردی ہے۔ ادویات کی قیمتیں عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو گئی ہیں جس کے باعث جسم وجان کا رشتہ برقرار رکھنا بھی مشکل ہورہا ہے ۔

ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکومت نے اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کا لائسنس منافع خوروں کو دے دیا ہے۔حکومت کو چھوٹے اور درمیانے تنخواہ دار اور مڈل کلاس اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت تھی مگر حکومت اس میں بری طرح ناکام رہی، ان ساڑھے تین برسوں میں ان لوگوں کے اخراجات میں اضافہ ہی ہوا ہے مگر آمدنی روز بروز کم ہی ہوتی گئی ہے۔ پاکستان میں سرمایہ ہی منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرونی ملکوں میں چلا جائے گا اور پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں ہو گی اور صنعتیں نہیں لگیں گی تو روزگار کیسے لوگوں کو ملے گا۔

اب عوام اس ملک کے آٹا اور چینی مافیا سے واقف ہو چکی ہے۔ عوام اب یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ سب لوگ کسی نہ کسی طریقے سے حکومت کا حصہ یا پھر اسمبلی میں بیٹھے ہوئے ہیں جو بنیادی ضرورت کی ان اہم اشیا پر منافع لے رہے ہیں۔ان کی لوٹ مار جاری ہے اور یہ لوگ ہر سال سیکڑوں ارب روپے کا منافع بآسانی حاصل کر لیتے ہیں۔ان اسمبلی میں بیٹھے منافع خوروں کی وجہ سے لاکھوں لوگ فاقوں پر مجبور ہوتے جا رہے ہیں،پاکستان میں معاشی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہوتی جا رہی ہیں۔ مگر ہماری اسمبلی میں بھی غریب کے لیے بات نہیں کی جاتی وہاں پر بھی اپنے اپنے کیسز یا پھر فنڈ پر بات کی جاتی ہے۔

حکومت یہ کہتی ہے کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے جب کہ حقیقت اس کے الٹ ہے جو طبقہ ٹیکس نہیں دیتا وہ تو اس ملک کا سرمایہ دار، گدی نشین، قبائلی سردار، وڈیرے اور بڑے بڑے سردار ہیں۔ جب کہ غریب آدمی تو بجلی کے بل،پٹرول،چینی، چائے، آٹا یہاں تک کہ ماچس پر بھی ٹیکس دیتا ہے یعنی بڑے بڑے گھروں میں رہنے والے اور بڑی بڑی گاڑیوں والے لوگ ایک غریب آدمی کے برابر ٹیکس دیتے ہیں۔ میں نے اپنے پچھلے کالم میں بھی لکھا تھا کہ حکمران جس ملک کو سستا ترین ملک کہہ رہے ہیں اس ملک میں سستی صرف انسانی زندگی ہے اور مہنگی روٹی ہے۔

آپ اگر اشیاء خورونوش کی قیمتوں کا جائزہ جو 2018 میں تھیں اور آج سن دوہزار بائیس میں ان کی قیمتیں کہاں پر ہیں تو آپ حیران ہو کر رہ جاتے ہیں۔ چینی 55روپے تھی اور آج 90سے 110روپے فی کلو ہے،آٹا 36 روپے فی کلو تھا اور آج چکیوں پر فروخت ہونے والا آٹا 85 روپے فی کلو ہے،کوکنگ آئل 170روپے تھا آج چار سو روپے کا ایک لیٹر ہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت گڈ گورننس لانے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے ریاست اور عام آدمی کی زندگی میں مسائل پیدا ہوئے اور ناقص گورننس کی وجہ سے ملک میں مہنگائی سونامی عوام سے ٹکرا جاتی ہے، مہنگائی کے ساتھ ساتھ کرپشن بھی اب اپنے عروج پر جا رہی ہے۔پولیس اور بیوروکریسی میں آئے دن اکھاڑ پچھاڑ اور کئی لوگوں کو معطل کرنے کے علاوہ اس حکومت نے کوئی کمال کا کام نہیں کیا،یقیناً وزیراعظم عمران خان کو اس صورتِ حال کا ادراک ہو گا۔

اب بھی وقت ہے حکومت اپنی ترجیحات میں مہنگائی اور غربت کے خاتمے کو سامنے رکھے،ٹیکس کولیکشن کو بہتر بنایا جائے، گراں فروشوں کے خلاف سخت ترین اقدامات کیے جائیں، من مانی قیمتیں وصول کرنے والوں کو روکا جائے، انتظامی اقدامات کو موثر بنایا جائے، کچھ کر کے دکھایا جائے تو صورت حال کسی حد تک قابو میں آ سکتی ہے۔ حکومت صورتِ حال کی سنگینی کا احساس کرے،کہیں ایسا نہ ہو کہ دیر ہو جائے۔

مقبول خبریں