سپریم کورٹ فیڈرل سروسز ٹریبونل فعال نہ کرنے پر اٹارنی جنرل اور 3 سیکریٹری طلب

اہم اداروں کےسربراہ نہیں،کیا ریاست جمودکا شکار ہےیاکام کرنےکیلیے کوئی نہیں رہا، ناکام ریاست کاتصورنہ دیاجائے،جسٹس ثاقب


Numainda Express February 15, 2014
اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس، اعلیٰ افسران کی ترقیاں کالعدم قراردینے کے فیصلے کیخلاف ریٹائر افسر کی نظرثانی اپیل سماعت کیلیے منظور۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے فیڈرل سروسز ٹریبونل کی عدم فعالیت کا ایک بار پھر سخت نوٹس لیا ہے اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ، سیکریٹری کابینہ ڈویژن،سیکریٹری قانون اور اٹارنی جنرل کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔

عدالت نے وضاحت مانگی ہے کہ 10 مہینے گزرنے کے باوجود چیئرمین اور ارکان ٹربیونل کا تقررکیوں نہیں ہو سکا؟۔ جسٹس ثاقب نثار نے ایک مقدمے میں سوال اٹھایا کہ ریاست جمودکا شکار ہے یا کام کرنے والا کوئی نہیں رہا؟۔ جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس اعجاز افضل پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جمعے کو سماعت کی۔عدالت کو بتایا گیا کہ فیڈرل سروسز ٹریبونل کی عدم فعالیت کی وجہ سے سرکاری ملازمین کے مقدمات التواء کا شکار ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ٹریبونل کی تشکیل کیلیے عدالت نے واضح حکم دیا ہے،عدم تشکیل سے ہزاروں مقدمات متاثر ہورہے ہیں۔ ریاست کے بہت اہم اداروںکے سربراہ نہیں ہیں یا وہاں بہت اہم عہدے خالی پڑے ہوئے ہیں،کیا ریاست جمودکا شکار ہے کہ یہ پوسٹیں پر نہیںکی جارہی ہیں یا کوئی کام کرنے کیلیے نہیں رہا؟۔عدالت نے سماعت بدھ تک ملتوی کردی۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے افسروں کی ترقیوں کے مقدمے میں فیصلے کیخلاف سابق چیف کمشنر اسلام آباد طارق محمود پیرزادہ کی نظرثانی اپیل سماعت کیلیے منظورکرتے ہوئے اٹارنی جنرل اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔