امریکا افغانستان کو ہراساں کرنا بند کرے افغان صدر حامد کرزئی

سیکیورٹی معاہدے سے ملک میں امن آتا ہے اور دونوں ممالک کے باہمی مفادات کا احترام کیا جاتا ہے


News Agencies February 15, 2014
طالبان کی اکثریت امن چاہتی ہے، پاکستان اورامریکا ان کے ساتھ مذاکرات شروع کریں، پاکستان کے بغیر افغانستان میں امن ممکن نہیں،ترک خبررساں ادارے کو انٹرویو۔ فوٹو: فائل

افغانستان کے صدرحامد کرزئی نے ایک بار پھر امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ہمیں ہراساں کرنے سے باز آجائے ورنہ اس کے سخت نتائج برآمد ہوں گے۔

بگرام جیل میں بے قصورافراد قید تھے رہا کر کے کوئی غلط کام نہیں کیا، سہ فریقی مذاکرات مثبت اور تعمیری رہے۔ امید ہے اس کے خطے پراچھے اثرات مرتب ہوں گے۔جمعے کو ترکی کے خبررساں ادارے کو انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ جیل سے رہاکیے گئے افغان باشندے ہیں جو بے بنیاد امریکی الزامات کی زد میں تھے۔ اگرافغان عدلیہ کسی قیدی کی رہائی کا فیصلہ کرتی ہے توامریکا کواس سے کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ میں امید کرتا ہوں کہ امریکا افغانستان کوہراساں کرنا بند کردے گا اور افغانستان کی خودمختاری کا احترام کیا جائے گا۔ ایک سوال پرحامد کرزئی نے کہاکہ پاکستان افغانستان کا ہمسایہ اوردوست ملک ہے، پاکستان کے بغیر افغانستان میں قیام امن ممکن نہیں۔

وزیراعظم نوازشریف سے خصوصی اپیل کی ہے کہ وہ افغانستان اورخصوصاً خطے میں قیام امن کے لیے بھرپورکوششیں کریں۔ طالبان رہنمائوں کی اکثریت ملک میں امن واستحکام چاہتی ہے۔ افغانستان کی مدد کیلیے پاکستان اور امریکا طالبان کے ساتھ امن مذاکرات شروع کریں۔ مجھے یقین ہے کہ طالبان رہنمائوں کی اکثریت ملک میں امن واستحکام چاہتی ہے ۔ حامد کرزئی نے واضح کیاکہ امریکا کی خطے میں موجودگی اس کی اپنی دلچسپی اور مفادکی وجہ سے ہے ۔اگر سیکیورٹی معاہدے سے ملک میں امن واستحکام آتا ہے اور دونوں ممالک کے باہمی مفادات کا احترام کیا جاتا ہے تو صرف اسی صورت میں افغان عوام اور حکومت امریکا کے قریبی اتحادی رہیں گے۔ افغان طالبان مذاکرات کے حامی ہیں،امید ہے کہ طالبان بہت جلد افغان اعلیٰ امن کونسل کے ساتھ براہ راست مذاکرت کا آغاز کریں گے۔ امید ہے کہ واشنگٹن حکومت افغان عدلیہ کو ہراساں کرنا بند اور اس ملک کی خودمختاری کا احترام کرنا شروع کردے گی۔

مقبول خبریں