ملکہ مشرق کے دربار میں

کتابوں کی باتیں ہوں، ادیبوں سے ملاقاتیں اور اپنی آنکھوں سے اس کثیر المشرب شہر کو انتہا پسندی سے نجات پاتے ہوئے دیکھیں


Zahida Hina February 16, 2014
[email protected]

KABUL: آسمان پر سمندری چڑیاں اپنے سفید پنکھ پھیلائے اڑتی ہیں اور زمین پر سمندر انسانوں کی قید میں ہلکورے لیتا ہے۔ دھوپ کے سنہرے پن کا دوشالہ اوڑھے لگژری ہوٹل کا سی فرنٹ ریستوران کسی بحری جہاز کے عرشے کا لطف دیتا ہے۔ لکڑی کے تختوں سے بنا ہوا یہ عرشہ آہنی ستونوں پر کھڑا ہے اور اس کے نیچے سے گزرتی ہوئی سمندری لہریں اسے مرتعش رکھتی ہیں۔ ہمارے دائیں جانب کیماڑی ہے اور پشت پر کراچی کا بے اماں شہر پھیلا ہوا ہے۔کیماڑی کی طرف دیکھتی ہوں اور مجھے 1982 کے مئی کی وہ گرم دوپہر یاد آجاتی ہے جب میں اسی کیماڑی بندر سے لانچ پر اپنی بیٹیوں فینانہ اور سحینا کے ساتھ سمندر میں لنگر انداز اس جہاز پر گئی تھی جس کا نام MV LOGUSتھا اور جو بچوں اور بڑوں کے لیے ادب، سائنس، جغرافیہ اور تاریخ کی ہزاروں کتابوں کو اپنے دامن میں سمیٹے دنیا کی مختلف بندرگاہوں میں لنگر انداز ہوتا تھا اور کتابوں کے عشاق تک کیسی اعلیٰ اور عمدہ کتابیں پہنچاتا تھا۔ ہم تینوں نے لوگس سے بہت سی کتابیں خریدی تھیں اور اس یقین کے ساتھ گھر واپس آئے تھے کہ ایک دو برس بعد لوگس پھر آئے گا اور ہم ایک بار پھر سمندر کے تلاطم کا لطف اٹھاتے ہوئے کتابوں کے خزانے کی سیر کریں گے۔ لیکن ہماری یہ حسرت دل کی دل میں رہی اور شہر کو ان لوگوں نے اپنے نشانے پر رکھ لیا جنھیں اس شہر نے کیا نہیں دیا تھا۔ یہ زمانے کا دستور ہے کہ جب اپنے ہی اپنی جائے پناہ کو خاک و خون میں نہلا دیں تو دور دراز سے بھیڑیے، لکڑ بگھے اور گیدڑ آپہنچتے ہیں اور شہر کے تن خستہ پر دعوت اڑاتے ہیں۔

ان خیالات کو ذہن سے جھٹک کر میں یہ دیکھتی ہوں کہ ادب، فنون لطیفہ اور سماجیات کے کیسے نامی گرامی اس عرشے پر موجود ہیں۔ ہندوستان سے آئے ہوئے راج موہن گاندھی جو اپنے شانوں پر اپنے عالمی شہرت یافتہ دادا مہاتما گاندھی کی وراثت کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ اشیش نندی سیاست پر کاٹ دار گفتگو کرتے ہوئے چونکاتے ہیں۔ جاتک کہانیوں کی بازیافت کرنے والے انتظار حسین، امر جلیل، ڈاکٹر حسن منظر، ڈاکٹر مبارک علی، روبینہ سہگل، انسانی حقوق کا علم اٹھاکر چلنے والی عاصمہ جہانگیر، ٹیلی وژن ڈرامے کی دنیا کا بڑا نام حسینہ معین، منیزہ ہاشمی، مدیحہ گوہر، اردو افسانے کا اہم نام اسد محمد خان، پیرزادہ سلمان، فاطمہ حسن، خدا بخش ابڑو، عطیہ دائود، اور امداد حسینی، اداکار شکیل... نام کہاں تک لکھوں کہ اس ادبی جشن میں 200 لوگوں سے زیادہ نامی گرامی لوگ ادب اور سیاست کا تعلق بیان کررہے ہیں ، سماجی مسائل کی گتھیاں سلجھارہے ہیں، کہیں پتلی تماشہ ہورہا ہے اور کوئی بچوں کو کہانیاں سناکر انھیں ہنسی کی رسد تقسیم کررہا ہے۔ فسانہ عجائب کی زبان اختیار کروں تو کہا جاسکتا ہے کہ کھوے سے کھوا چھل رہا ہے۔ ادب کے اس جشن میں سعید حسن خان کی خودنوشت پر بھی گفتگو ہوئی ہے جو مختلف براعظموں میں ان کی سیر اور اس زمانے کی نوجوان نسل کے آدرشوں کا قصہ سناتی ہے۔

رضا رومی نے اپنا سفر اردو سے شروع کیا تھا۔ پھر وہ انگریزی کی طرف نکل گئے۔ گزشتہ دنوں ان کی کتاب دلی کے بارے میں ایک پاکستانی کے تاثرات: دلّی بائی ہارٹ، شائع ہوئی تھی۔ یہ ایک دل موہ لینے والی کتاب ہے۔ اس پر ادبی میلے میں گفتگو آصف نورانی نے کی اور سننے والوں سے ہال بھرا ہوا تھا۔ کچھ یہی عالم ناز اکرام اللہ کی کتاب گنگا جمنی ایک بھولی بسری تہذیب پر ہونے والی گفتگو کا بھی تھا۔ وہ شائستہ سہروردی اکرام اللہ کی بیٹی اردن کی شہزادی ثروت حسن کی بہن ہیں۔ لوگوں نے ان کی باتیں بہت توجہ سے سنیں۔ اس ادبی جشن میں ملیحہ لودھی، پال کولارڈ اور رچرڈ کولسن کے ساتھ کاملہ شمسی بھی موجود تھیں۔ مجھ سے پوچھیے تو اس جشن میں مرکز نگاہ راج موہن گاندھی، اشیش نندی اور امر جلیل رہے۔ امر جلیل کے پڑھنے والوں کا حلقہ سندھی، اردو اور انگریزی تینوں زبانوں میں موجود ہے۔ ان سے گفتگو شاہ محمد پیرزادہ کررہے تھے۔ پنڈال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ وہ اپنی کہہ رہے تھے اور اپنے پڑھے والوں کی سن رہے تھے۔ جس بات نے سننے والوں کو افسر دہ کیا، وہ یہ تھی کہ تین دہائیوں سے پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے اس نے امر جلیل کو اداس اور مایوس کردیا ہے۔ یہ اداسی تو ہم سب کے دلوں پر سایہ ڈالتی ہے لیکن ہماری نجات صرف اِسی میں ہے کہ ہم اُمید کا دامن اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ وہ جن کے ہاتھوں میں اقتدار ہے جو ہتھیار اٹھائے انسانوں کو مٹی میں ملارہے ہیں، ان سے لڑنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ ادیب اور دانشور اپنے لفظوں سے نفرت، تعصب اور انتہا پسندی کا راستہ روکیں۔ اس کے لیے ہمیں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی امینہ سید اور ہمارے نوجوان ادیب آصف فرخی کو داد دینی چاہیے جنھوں نے اس ادبی جشن کا اہتمام کیا۔

ادیب مستقبل بیں بھی ہوتا ہے۔ وہ اپنے آج سے آنے والے کل کو پہچانتا ہے۔ ایسے ہی ایک بڑے افسانہ نگار غلام عباس تھے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے اس مرتبہ ان کے افسانوں کا ایک انتخاب اور ان کی دوسری بھولی بسری تحریر ''جزیرہ سخنوراں'' شائع کردی ہے۔ ان دونوں کتابوں پر گفتگو مسعود اشعر کے اور میرے حصے میں آئی۔ عارفہ سیدہ زہرا اس بات چیت کی ماڈریٹر تھیں۔ وہ لوگ جو اس روز غلام عباس کی کتابوں کے بارے میں سننے آئے ان کی تعداد نسبتاً کم تھی۔ شاید اس لیے کہ ہم نے بہت دنوں سے اپنے اس بڑے افسانہ نگار کو فراموش کردیا ہے۔ اس روز مجھے اپنے سامنے نئی نسل کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی نظر آرہے تھے۔ اسی لیے میں نے غلام عباس کی ایک جھلک دکھاتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے بردبار اور منکسرالمزاج شخص کا تصور کیجیے جو کراچی کے سب سے مصروف اور پُرشور چوک میں چند ٹھیلوں کے سامنے اُکڑوں بیٹھا ہے اور ان پر لدی ہوئی پرانی کتابوں کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہا ہے۔ کسی کتاب کو کھول کر اس پر جھک جاتا ہے اور اپنی نگاہوں سے اسے تادیر چکھتا رہتا ہے۔ یہ شخص جس کا نام غلام عباس ہے، وہ صرف لفظوں کا جوہری نہیں، اردگرد کے ماحول کا شاہدِ شیریں مقال بھی ہے۔

تنگ گلیوں، اداس عمارتوں، سفید پوش محلوں میں رہنے والوں کے بطون میں وہ جھانک کر دیکھتا ہے۔ انھیں ٹٹولتا ہے، ان کی معصومیت اور چھل فریب کا نقشہ کسی ماہر نقشہ نویس کی طرح کاغذ پر اتار دیتا ہے۔ ٹھوکر گلی، ہیرا منڈی، چائوڑی، چوک اور سونا گاچی کے شاہدانِ بازاری کی نظارہ بازی صرف حسین چہروں تک محدود رہتی ہے لیکن وہ ان چہروں کے پیچھے چھپی ہوئی حسرتوں اور حرماں نصیبیوں کو دیکھ لیتا ہے۔ کسی بانکے سجیلے نوجوان کی سج دھج کی پرتیں اتارتا ہے اوور کوٹ، میں ملفوف اس کی عسرت، وہ خود دیکھتا ہے دوسروں کو دکھاتا ہے۔ بازارِ حسن میں ادائیں دکھانے والی عورتوں اور ایک بے وفا بیوی کا موازنہ کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ''یہ سچ سہی میری بیوی با عصمت نہیں لیکن آخر وہ عورتیں بھی کون سی عفیفہ ہیں جن کے پیچھے میں قلاش ہوگیا اور جن سے ملنے کے لیے میں آج بھی تڑپ رہا ہوں۔'' برصغیر کے پڑھے لکھے اور برسر روزگار مرد، بیوی کی بے وفائی کا تجزیہ یوں نہیں کرتے یہ وہ رویہ ہے جو یورپین یا شاید صرف فرانسیسی مردوں سے مخصوص ہے۔ غالب گمان یہ ہے کہ وہ فرانسیسی ادیبوں کی تحریروں کے عاشق تھے اور ان کا لاشعوری عکس انھوں نے قبول کیا۔

میں نے ان کے خیالی افسانے دھنک کے بارے میں مختصراً بات کی۔ یہ پاکستان کے اس مستقبل کے بارے میں ہے جس میں ملک سائنسی بلندیوں پر پہنچ جاتا ہے لیکن پھر کٹھ ملائیت اس پر جس بھیانک انداز سے حملہ آور ہوتی ہے اسے غلام عباس نے نہایت مہارت سے لکھا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ آج کے پاکستان کا قصہ لکھ رہے ہیں۔

کتابوں کے اس جشن کے آخر میں ہماری نہایت ماہر اور مشہور رقاصہ ناہید صدیقی نے غالب کی غزل، فیض کی نظم اور بلھے شاہ کے کلام کو جس ناز وادا سے پیش کیا اس نے دو ہزار سے زیادہ لوگوں کو 90 منٹ تک مسحور رکھا۔ وہ جب اسٹیج سے اتری ہیں تو لوگ دیر تک تالیاں بجاکر انھیں داد دیتے رہے۔ لوگوں نے چاند خاں اور سورج خاں کو ان کے بیٹے حسن محی الدین کو بھی داد دی جو ان کے ساتھ اسٹیج پر موجود تھے۔

تیسرے دن رات گئے محفل لال بینڈ کے کنسرٹ کے ساتھ اختتام کو پہنچی۔ ہم وہاں سے اٹھے تو خواہش یہی تھی کہ 2015ء کا فروری جلد آئے اور ایک بار پھر ہم میں جسے انگریز ملکۂ مشرق کہتے تھے، وہاں کا جشن منائیں۔ کتابوں کی باتیں ہوں، ادیبوں سے ملاقاتیں ہوں اور اپنی آنکھوں سے اس کثیر المشرب شہر کو انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نجات پاتے ہوئے دیکھیں۔ عدم تشدد سے تشدد کو شکست دینے کا اس سے خوبصورت انداز اور کیا ہوسکتا ہے۔

مقبول خبریں