پاک چین تعلقات کی نئی جہتیں

دونوں رہنماؤں نے افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری پر فوری اقدامات پر زور دیا ہے


Editorial February 08, 2022
دونوں رہنماؤں نے افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری پر فوری اقدامات پر زور دیا ہے۔ فوٹو: فائل

RAWALPINDI: وزیر اعظم عمران خان چین کے کامیاب دورے کے بعد وطن واپس آ چکے ہیں ،اپنے اس دورے کے دوران وزیر اعظم نے اتوار کو چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی، میڈیا کے مطابق اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے سی پیک میں توسیع، خطے کے امن، استحکام اور ترقی کے لیے دفاعی تعاون کو اہم عنصر قرار دیا اور اسے آگے بڑھانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا ۔

دونوں رہنماؤں نے افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری پر فوری اقدامات پر زور دیا ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کی جانب سے پاکستان کی خودمختاری و سلامتی کے تحفظ اوراقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا جب کہ پاکستان نے ون چائنا پالیسی کے لیے اپنی وابستگی اور حمایت کا اظہار کیا اور تائیوان، جنوبی بحیرہ چین، ہانگ کانگ، سنکیانگ اور تبت کے معاملے پر چین کے لیے اپنی حمایت کو دہرایا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیراطلاعات فواد چوہدری نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان کا یہ دورہ توقع سے زیادہ کامیاب ہوا ہے۔کشمیر پر چین اور ہماری سوچ یکساں ہے، دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے،افغانستان میں قیام امن کے لیے بھی اہم فیصلے ہوئے ہیں۔

دنیا میں نئی صف بندیاں ہورہی ہیں۔ امریکا اور مغربی یورپ اور ان کے اتحادی اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نیا لائحہ عمل تیار کررہے ہیں اور اس لائحہ عمل کے خدوخال واضح بھی ہورہے ہیں۔ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی آویزش کی تپش دنیا بھر میں محسوس ہو رہی ہے۔

امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ایک منصوبہ کے تحت چین میں جاری سرمائی اولمپکس میں شرکت نہیں کی جس کا واضح مطلب ہے کہ یہ اتحادی قوتیں چین کی بڑھتی ہوئی معاشی قوت سے خائف ہیں اور مستقبل میں عالمی بالا دستی کی راہ میں چین کو ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ ایسے حالات میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کا وفد کے ہمراہ دورہ چین انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

وزیراعظم کے چار روزہ دورہ چین کے اختتام پر اتوار کو جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں جو نکات سامنے آئے ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر بدلتے ہوئے حالات کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے پاکستان اور چین اپنے تعلقات کے نئے فیز میں داخل ہونے جا رہے ہیں۔

اس مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور چینی صدر شی جن پنگ نے صحت، ماحولیات، تجارت، انفرااسٹرکچر، صنعت، زراعت، سائنسی و تکنیکی شعبوں میں تعاون اور مقامی لوگوں کی سماجی و اقتصادی بہبود کے لیے سی پیک کی جائنٹ کوآپریشن کمیٹی (جے سی سی)کو ٹاسک سونپنے پر اتفاق کیا ہے۔وزیراعظم نے چین کی ترقی اور خوشحالی میں صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چینی کمیونسٹ پارٹی کے کردار اور پائیدار پاک،چین شراکت داری کو فروغ دینے میں صدر شی جن پنگ کی ذاتی کاوشوں کو سراہا۔

وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت کا اعادہ بھی کیا۔ فریقین نے وزراء خارجہ سطح کے اسٹرٹیجک ڈائیلاگ کے تین سیشنز کے انعقاد پر اطمینان کا اظہار کیا اور اگلے اجلاس کے جلدازجلد انعقاد پر اتفاق کیا۔ صدر شی جن پنگ کے دور اندیش بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کو سراہتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے اس بات پر زور دیا کہ بی آر آئی کے فلیگ شپ منصوبے کی حیثیت سے سی پیک نے پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان اور چین کے تعلقات میں ماضی کی نسبت زیادہ گہرائی پیدا ہورہی ہے۔ چین کے صوبے سنکیانگ اور اس سے ملحقہ علاقوں کی ترقی کے لیے پاکستان کی راہداری وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے جب کہ پاکستان کو ماضی کی نسبت آج عملی مدد کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔

سی پیک کا منصوبہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ کے دوران پاکستان اور چین نے خطے کے امن، استحکام اور ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ سی پیک کو تمام خطرات،منفی پروپیگنڈوں سے محفوظ رکھا جائے گا اور زیرتعمیر منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا ۔

اس وقت پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے خاص طور پر سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے،جس طرح پنجگور اور نوشکی میں دہشت گردوں نے جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیار استعمال کیے ہیں اس نے خطرات کی گھنٹیاں بجا دی ہیں،اس سے سی پیک کے لیے بھی خطرات پیدا ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا.

دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اس امر کے متقاضی ہیں کہ چین جدید دفاعی اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی میں پاکستان کی بھرپور مدد کرے تاکہ پاکستان جدید سیٹلائٹ اور جاسوسی آلات کی ٹیکنالوجی کی مدد سے دہشت گردوں کی آمد کا بروقت پتہ چلا اور ان کا سدباب کر سکے۔پاکستان کو بھی افغان سرحد کے ساتھ جاسوسی آلات کے جدید نظام کو نصب کرنے میں تاخیر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اب یہاں سے ہونے والے دہشت گردی کے واقعات مشرقی سرحد پر موجود خطرات سے زیادہ خوفناک معلوم ہو رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے چین کے صدر شی جن پنگ سے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں ملاقات کی، دونوں لیڈروں کا اس ہال میں ملاقات کرنا ، ظاہر کرتا ہے کہ نئی عالمی صف بندی میں دونوں ملک ساتھ کھڑے ہونے کے لیے تیار ہیں۔میڈیا کی اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاک چین دوطرفہ تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا اور علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ملاقات کا دائرہ خاصا وسیع رہا ہے اور دونوں رہنماؤں نے عالمی امور پر بھی اپنے خیالات سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا ہے ۔وزیراعظم عمران خان نے بیجنگ میں 24ویں اولمپک سرمائی گیمز کی کامیاب میزبانی پر چین کی قیادت اور عوام کو مبارکباد دی اور چین کے نئے سال کے آغاز پر نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس موقعے پر جب کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے بیجنگ سرمائی اولمپک میں شرکت نہیں کی.

وزیراعظم عمران خان کا چین کے صدر کے ساتھ کھڑے ہونا ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان امریکا اور اس کے اتحادیوں کے فیصلے کے ساتھ نہیں اور اس کا پاکستان نے بھرپور اظہار بھی کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا کہ چین پاکستان کا ثابت قدم ساتھی، بہترین حامی اور آئرن برادر ہے،دونوں ملکوں کے درمیان تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری نے وقت کی تمام آزمائشوں کا مقابلہ کیاہے۔دونوں ممالک اپنے وژن، خوشحالی، ترقی اور امن و استحکام کی مشترکہ خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان شراکت داری خطے میں امن و استحکام کا سہارا ہے۔

انھوں نے چین کی جانب سے پاکستان کی خود مختاری، علاقائی سالمیت، آزادی اور قومی ترقی کے لیے غیر متزلزل حمایت کو سراہا۔ وزیراعظم عمران خان نے تمام اہم امور پر چین کی مکمل حمایت کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم اور ہندوتوا ذہنیت پر مبنی آر ایس ایس، بی جے پی کے اقلیتوں کے خلاف ظلم و ستم کو اجاگر کیا اور کہا کہ بھارت میں تیزی سے پھیلتی عسکریت پسندی علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

فریقین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پرامن اور مستحکم افغانستان سے خطے میں معاشی ترقی اور روابط کو فروغ ملے گا۔انھوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے افغانستان کی فوری مدد کرے۔ دونوں رہنماؤں نے صنعتی، خلائی اور ویکسین کی فراہمی سمیت کئی معاہدوں پر دستخط کیے۔ دونوں رہنماؤں نے نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے لیے پاک چین کمیونٹی کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم نے چینی صدر کو عوام کے محور پر مبنی جیواکنامکس سوچ اور ان کی حکومت کی پاکستان میں پائیدار ترقی، صنعت و زراعت میں جدت لانے اور علاقائی رابطہ سے متعلق پالیسیوں سے بھی آگاہ کیا۔ انھوں نے پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے چین کے تعاون اور مدد کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے سی پیک کے دوسرے مرحلہ میں چینی سرمایہ کاری میں اضافہ کا خیرمقدم کیا جس کا محور انڈسٹریلائزیشن اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری ہے۔ وزیراعظم نے چین کے صدر کو دنیا میں بڑھتی ہوئی قطبیت سے آگاہ کیا جس سے عالمی ترقیاتی اہداف کے حصول اور ترقی پذیر ممالک کے لیے سنگین خطرات پیدا ہوئے ہیں۔

انھوں نے موسمیاتی تبدیلی، صحت، قدرتی آفات اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات جیسے چیلنجز کو بھی اجاگر کیا جن سے صرف اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کے مطابق تمام ممالک کے غیر مشروط تعاون سے نمٹا جا سکتا ہے، اس سلسلہ میں انھوں نے چینی صدر کے بیلٹ اینڈ روڈ اور گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹیو کو سراہا جو کہ پائیدار ترقی اور اہداف کی کامیابی کے لیے اجتماعی اقدام ہے۔ مستقبل میں پاک چین تعلقات مزید مضبوط ہوں گے جس سے پاکستان میں بھی صنعتی ترقی کا عمل تیز سے تیز تر ہوگا۔

مقبول خبریں