سعودیہ کو15ہزارفوجی دینے کافیصلہ نہیں ہواسرتاج عزیز

فوجی دیدیں بدلے میں سعودیہ سے مدارس کی فنڈنگ بندکرنیکا مطالبہ کیا جائے ، ایازخان


Monitoring Desk February 18, 2014
افغانستان کے متعلق پاکستان اورسعودی عرب کی پالیسی عدم مداخلت پرمبنی ہے، فوٹو:فائل

مشیرخارجہ سرتاج عزیزنے کہا ہے کہ انتہاپسندی اوردہشت گردی پورے خطے کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔

سعودی عرب کو سیکیورٹی کیلیے 10سے 15 ہزار فوجی دینے کا فیصلہ نہیں ہوا۔ وہ ایکسپریس نیوزکے پروگرام اچھا لگے ،برالگے میں گفتگوکر رہے تھے جس کی میزبان ڈاکٹرماریہ ذوالفقار خان ہیں۔انھوں نے کہاکہ سعودی عرب میں 20 لاکھ پاکستانی کام کررہے ہیں ،جوہمیں ہرسال 4ارب ڈالر بھیجتے ہیں،اس میں وسعت کی گنجائش ہے۔ افغانستان کے متعلق پاکستان اورسعودی عرب کی پالیسی عدم مداخلت پرمبنی ہے،ایران اورمشرق وسطی کے ممالک بھی اسی حکمت عملی کے تحت وہاں کامیاب ہونگے۔ روزنامہ ایکسپریس کے سینئرایڈیٹرایازخان نے کہاکہ وزیراعظم نوازشریف بڑے آدمی ہیں ،وہ کسی کی نہیں سنتے،وہ خودبھی کنفیوژہیں اور پوری قوم کوبھی کنفیوژکررہے ہیں، طیارے میں خوشخبری کی اطلاع انتہائی غیرسنجیدہ رویہ تھا، جب تک حکومت کلئیرنہیں ہوگی فوج کیسے کارروائی کرے گی ۔ایاز خان نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ سودے بازی کرلی جائے،انھیں فوجی دیدیے جائیں مگربدلے میں مطالبہ کیاجائے کہ یہاں کے مدارسں کی فنڈنگ بندکردی جائے۔

کیونکہ اس کے نتائج ہمیں بھگتناپڑرہے ہیں۔آج کے ایرانی بیان سے لگتاہے ہم ہرطرف سے گھرتے جارہے ہیں۔ سینئرتجزیہ کارامتیازعالم نے کہاکہ اگرتحریک طالبان میں اختلافات ہیں تومذاکرات کی حکمت عملی بنائی جائے جواس کے لیے تیارہیں ان سے بات چیت اورجوتیارنہیں انھیں نشانہ بنایاجائے۔مذاکراتی کمیٹیوں کاکردارٹھیک نہیں رہا،وہ ہائی پروفائل ہوگئی ہیں،پاکستان ،ایران اورخطے کے دیگرملکوں کے بغیرافغانستان میں استحکام ممکن نہیں،سعودی عرب وہاں ایرانی کرداربرداشت نہیں کریگا،وہ ایران کیخلاف محاذبنانے جارہاہے،ہمیں اس کاحصہ نہیں بنناچاہیے، دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا چاہئیں۔ پروگرام کے دوران امریکا سے دوناظرین نعیم بٹ اورخالداعوان نے ٹیلی فون کرکے کہاکہ پاک فوج کوکمزورنہ سمجھاجائے اورآپریشن کیاجائے۔