ہواسے دنیا کی بجلی طلب پوری کی جا سکتی ہے تحقیقی رپورٹ

ساحل کے قریب 1.5 ارب ٹربائن نصب کرکے سیکڑوں ٹیرا بائٹ بجلی تیار کی جا سکتی ہے


AFP September 12, 2012
8 کروڑ کاروں کو چلانے کیلیے 30 سال میں ایک بار 40 لاکھ ٹربائنز کی ضرورت ہو گی، جیکبسن فوٹو : فائل

ہوا سے پوری دنیا کی ضروریات کے لیے بجلی تیار کی جا سکتی ہے۔

یہ بات ایک تحقیقی رپورٹ میں کہی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ہواسے پوری دنیا کے لیے بجلی بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ کی ضرورت ہوگی جسے تجزیہ کار غیرحقیقی قرار دیتے ہیں۔

پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں کلائمنٹ ڈیٹاتجزیے کے مطابق ونڈ ٹربائن سیکڑوں ٹیرابائٹ بجلی تیار کرسکتے ہیں جو پوری دنیا کی ضروریات سے کہیں زیادہ ہے۔ اسٹڈی کے مصنف مارک جیکبسن کے مطابق اس پوٹنیشل کو پہنچنے کے لیے ڈیڑھ ارب بڑی ونڈملز کو ساحل سے کچھ فاصلے پر نصب کرنا ہوگا۔

جس سے دنیا کی اصل توانائی ضرورت سے زیادہ بجلی حاصل ہوگی لیکن اس کے لیے اس وقت موجود ٹربائن کے علاوہ لاکھوں ٹربائنز کی ضرورت ہوگی، اس وقت دنیا بھر میں نصب شدہ ونڈانرجی کی گنجائش 250 گیگا واٹس ہے جو آدھی دنیا کی ضروریات کا بھی 100 واں حصہ ہے۔

جیکبسن نے کہا کہ 2030 کی دہائی کی آدھی توانائی طلب کے لیے موجودہ ٹربائن سے بھی بڑی 40 لاکھ 5 میگاواٹ ٹربائنز کی ضرورت ہوگی، ابھی دنیا کی کاروں کی پیداوار سے 7 کروڑ سے 8کروڑ یونٹس سالانہ ہے جنھیں چلانے کے لیے ہر30سال میں ایک بار 40لاکھ ٹربائنز کی ضرورت ہوگی اور یہ قابل عمل ہے تاہم ماہرین شکوک وشبہات کا شکار ہیں۔

امریکی انرجی ریسرچر اوڈن بٹرڈ نے کہا کہ اگر دنیا کا صرف ایک یہی مقصد ہو تو شاید ایسا ممکن بھی ہو جائے مگر سوال یہ ہے کہ معاشرے کی دیگر ترجیحات کے مقابلے میں قابل تجدید انرجی وسائل پر کتنا خرچ کیا جا سکے گا، اقتصادی سرمایہ کاری کے علاوہ ہوا کی تبدیلی کے چیلنجز کا بھی غلط اندازہ نہیں لگانا چاہیے، اس کے علاوہ بجلی کی اسٹوریج صلاحیت کافی محدود اور مہنگی ہے، پھر ٹرانسمیشن لائنز کے اخراجات بھی ہیں۔

یونیورسٹی آف کولوراڈو انوائرنمنٹل پالیسی ایکسپرٹ راجر پیلکے نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قیاس آرائی پر مبنی سائنس خوش کن ہے مگر یہ دنیا کے عملی توانائی نظاموں سے کہیں دور ہے۔