’’35 پنکچر‘‘ کے معاملے پر کوئی کارروائی نہیں کرسکتے الیکشن کمیشن

انتخابات عدلیہ کےبجائےالیکشن کمیشن کی زیرنگرانی کرانے،خواتین کےکم ووٹ والےپولنگ اسٹیشنوں کےنتائج تسلیم نہ کرنیکی سفارش


Numainda Express February 19, 2014
الیکٹرانک ووٹنگ کیلیے فوری قانون سازی کی ضرورت ہے،اشتیاق احمدکی کمیٹی کو بریفنگ، جلد بل پیش کیا جائیگا، چیئرمین میاں منان۔ فوٹو: فائل

قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امورنے انتخابات عدلیہ کے بجائے الیکشن کمیشن کی زیرنگرانی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے کرانے پرزوردیتے ہوئے الیکشن کمیشن کواپنے ریٹرننگ افسران تعینات کرنے کی سفارش کردی۔

کمیٹی نے خواتین کے10سے15فیصدکم ووٹ کاسٹ ہونیوالے پولنگ اسٹیشنوں کے انتخابات کے نتائج تسلیم نہ کرنے کی بھی سفارش کردی۔سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے کمیٹی کوبتایاکہ تاخیرہوگئی الیکشن کمیشن35پنکچرزکے معاملے پرکارروائی نہیں کر سکتا۔اجلاس چیئرمین میاں عبدالمنان کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا،جس میں سردار عاشق گوپانک، ڈاکٹرنثارجٹ، طارق محمود، اظہرقیوم ناہرا،ندیم عباس، چوہدری سلمان حنیف خان، شاہدہ رحمانی،ثمن سلطانہ جعفری،ڈاکٹرنفیسہ شاہ سمیت دیگرنے شرکت کی اس موقع پرالیکٹرانک ووٹنگ مشین اوربائیو میٹرک ڈیوائس کے ذریعے انتخابات کرانے کے معاملات کاجائزہ لیاگیا۔سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ جنوری 2016ء کے بعدسے الیکشن کمیشن ملک بھرمیں تمام انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے کرانے کے قابل ہوجائیگا،اس حوالے سے فوری قانون سازی کی ضرورت ہے۔

چیئرمین کمیٹی میاں عبدالمنان نے کہا کہ حکومت ملک میں شفاف انتخابات کے انعقادکے لیے سنجیدہ ہے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی قانون سازی کے لیے جلدقومی اسمبلی میں بل پیش کیاجائے گا۔اجلاس کے دوران عمران خان کی جانب سے مبینہ طورپردھاندلی اور35پنکچرزکامعاملہ بھی زیربحث آیااوراس دوران سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ قوانین کے مطابق عام انتخابات کی شکایات کا معاملہ 60 دنوں میں زیرغورآتاہے اگر اراکین چاہیں توقانون سازی کے ذریعے اسے400دنوں تک بڑھا سکتے ہیں،اراکین کمیٹی نے2013ء کے عام انتخابات کے دوران ریٹرننگ افسران کے رویوں برہمی کااظہارکیااوراسے غیر مناسب قراردیتے ہوئے کہا کہ امیدواروں کی تضحیک کی گئی،آئندہ انتخابات عدلیہ کے بجائے الیکشن کمیشن کے زیراہتمام کرائے جائیں۔ چیئرمین نے کہاکہ ریٹرننگ افسران کوذاتی سوالات یا آیات کریمہ سننے کااختیارکس طرح دے دیاگیا۔کمیٹی نے انتخابات کوشفاف بنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے مشاورت کیلیے الگ اجلاس بھی طلب کرلیاجبکہ وزارت خزانہ کوبھی آئندہ اجلاس میں الیکشن کمیشن کے اسٹاف کی فراہمی کے امورکاجائزہ لینے کے لیے طلب کرلیاگیا ہے۔