بجلی صارفین کو سبسڈی کے نام پر لوٹا جارہا ہے سینیٹ کمیٹی منڈا ڈیم کے معاملے پر وفاقی وزیر چیئرمین واپڈا

پہلے 25 یونٹ پر 12 اور زائد پر 18روپے یونٹ وصول کیے جارہے ہیں، چیئرمین، منصوبہ بندی کمیشن کی کارکردگی پربرہمی


News Agencies/Numainda Express February 19, 2014
نیلم جہلم پاور پروجیکٹ کے لیے مہنگی زمین خریدنے پر تحفظات، بجٹ تجاویز نہ بھجوانے پرتمام وزارتوں کوخط لکھنے کا فیصلہ۔ فوٹو: فائل

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی کے چیئرمین زاہدخان نے وزارت پانی وبجلی اورمتعلقہ محکموں کی کارکردگی پربرہمی کا اظہارکیاہے اورکہاکہ صارفین کوسبسڈی کے نام پر لوٹا جا رہا ہے،صارف کے پہلے 25 یونٹ پر12روپے اوراس سے زائد پر18روپے فی یونٹ وصول کیے جارہے ہیں۔

اجلاس چیئرمین زاہد خان کی زیرصدارت ہوا ۔ چیئرمین کمیٹی نے منصوبہ بندی کمیشن کی کارکردگی پربرہمی کا اظہار کیا ۔ رکن کمیٹی محسن لغاری،شاہی سیدنے کہاکہ واپڈاکلوواٹ لوڈاورسنگل فیز اور تھری فیزمیٹروں کے بجائے صارف کے استعمال شدہ یونٹوںکے بل بھجوائے۔کمیٹی نے گزشتہ 4سال سے منڈاڈیم کے عدالتی معاملے کوحل نہ کرنے پربھی وزارت کی عدم دلچسپی پربرہمی کااظہارکیا،چیئرمین نے آئندہ اجلاس میں منیجنگ ڈائریکٹراین ٹی ڈی سی،چیئرمین واپڈا اوروزیرپانی وبجلی کو وضاحت کیلیے طلب کرلیا۔اس موقع پروائس چیئرمین نیپرا خواجہ نعیم نے بتایا کہ حکومت کافی یونٹ ٹیرف 8 روپے 73 پیسے اورسبسڈی 5 روپے 4 پیسے دی جاتی ہے جبکہ وزارت کے جوائنٹ سیکریٹری زرغام اسحاق نے آگاہ کیاکہ 13 روپے 77 پیسے بجلی فروخت کرکے نقصان نہیں ہورہا،واپڈا کے گریڈ 18 سے 20 کے285افسران کو ترقی دیدی گئی ہے۔

اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیاگیاکہ واپڈا اور این ٹی ڈی سی کمیٹی کومطمئن کرنے میں ناکام رہی،جوابات نامکمل تھے،کمیٹی نے گومل گول اور چکدرہ گرڈاسٹیشن کا معاملہ آئندہ اجلاس کیلیے موخر کر دیا۔نمائندہ ایکسپریس کے مطابق قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس شیخ روحیل اصغرکی صدارت ہوا۔ اجلاس میںفرنٹیئر کور کے جام شہادت نوش کرنیوالے جوانوں کے ایصال ثواب کیلیے فاتحہ خوانی کی گئی۔اجلاس میں سیکریٹری وزارت دفاع نے سال2014-15 کے لیے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام سے متعلق بجٹ تجاویز اور وفاقی حکومت کے چھائونی اور گیریژنز میں واقع تعلیمی اداروںکے بارے میںکمیٹی کوبریفنگ دی۔ سیکریٹری دفاع نے بتایا کہ وفاقی تعلیمی اداروںکی عمارتیں خستہ حال ہیں ان کی مرمت کے لیے بجٹ درکارہے،ملک بھرمیں یکساں نظام تعلیم کے لیے 15 ارب 28 کروڑکابجٹ درکارہے،کمیٹی نے ہدایت کی کہ جیکب آبادکے ایئربیس کے منصوبے کوترجیحی بنیاد پرمکمل کیاجائے۔

مقبول خبریں