غداری کیس کیسے ممکن ہے تعصب کا الزام لگنے پر جج مقدمے سے الگ ہوجائے خصوصی عدالت

یہ توزیادہ خطرناک بات ہوگی اورکہا جائیگا یہی وہ جج تھا، رہنما اصول بنائینگے کہ کن حالات میں جج کو الگ ہونا چاہیے،عدالت


News Agencies/Numainda Express February 20, 2014
پنوشے کو اسی بنیاد پر عدالتوں سے ریلیف ملا‘ انور منصور، ایک ٹاک شو کی سی ڈی پیش، تعصب کے متعلق پٹیشن پر فیصلہ کل سنایا جائیگا۔ فوٹو: فائل

QUETTA: خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کیخلاف غداری کیس میں ججز کے تعصب کے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا جوکل سنایا جائے گا۔

گزشتہ روز سماعت کے دوران انور منصور نے ایک نجی چینل کے پروگرام کی سی ڈی پیش کی اور کہا کہ اس پروگرام میں جج کے بارے میں کچھ بیانات دیے گئے اور کہاگیا کہ ایک جج نے کسی سے کہاکہ آئندہ سماعت پر پرویزمشرف کوہتھکڑی لگی ہوگی، رانا اعجاز نے کھڑے ہوکرکہا کہ میں بھی اس پروگرام میں موجود تھا ، انور منصور نے کہاکہ ایسے بیانات سے ججزکی عزت میں کمی ہوئی جبکہ کوئی تردید بھی نہیں آئی، چلی کے سابق سربراہ جنرل پنوشے نے بھی ججوں پر تعصب کا الزام لگایا اور عدالتوں سے ریلیف حاصل کیا، ایسے بہت سے مقدمات ہیں جن میں الزام لگا توجج سماعت سے الگ ہوگئے، جسٹس فیصل عرب نے ہدایت کی کہ وہ ان تمام مقدمات کی مثالیں تحریری طور پرپیش کریں، انھوں نے پوچھاکہ کیا صرف الزام لگنے سے جج کو خود ہی سماعت سے الگ ہو جانا چاہیے؟ یہ تو زیادہ خطرناک بات ہوگی اورکہاجائے گا کہ کہ یہی وہ جج تھا، کیا جج کایہ عمل ثابت نہیں کرے گاکہ وہ واقعی متعصب تھا اور اس نے الزام قبول کرلیا، متعصب ہونے کا الزام دنیا میں ہر جگہ لگایا جاتا ہے۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ صرف متعصب ہونے کا الزام لگنے پر ہی جج خود سے سماعت سے الگ ہو جائے، این این آئی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ عدالت رہنما اصول مرتب کرے گی کہ کن حالات میں جج کو سماعت سے الگ ہونا چایئے۔ احمد رضا قصوری ایک ٹی وی شو پرکہہ رہے تھے کہ ہم نے وکلا تحریک میں عدلیہ کی آزادی کیلیے نعرے لگائے، اس پر انور منصور کا کہنا تھا کہ میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا، عدالت نے انور منصورکے دلائل مکمل ہونے پر سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا کہ استغاثہ کے تقررسے متعلق درخواستوں پر بحث بھی اسی روز ہوگی۔ قبل ازیں چند صحافی روسٹرم پر آئے اور استدعا کی کہ گزشتہ روز پیشی پر متعدد صحافیوں کوکمرہ عدالت میں جانے سے روک دیا گیا، جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ آپ درخواست دیں، ہم جائزہ لیں گے۔

مقبول خبریں