911 کی گیارہویں برسی امریکا اب محفوظ ملک بن چکا اوباما

اسامہ اب کبھی خطرہ نہیں بن سکتا ، امریکی صدر، القاعدہ اب بھی بڑا خطرہ ہے، لیون پنیٹا


News Agencies/Monitoring Desk September 12, 2012
ورجینیا،امریکی صدر اوبامااور وزیر دفاع پنیٹاپنٹا گون میں نائن الیون کی 11ویں برسی کے موقع پر ہلاک شدگان کی یاد میں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

لاہور: امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ امریکا سانحہ نائن الیون کو کبھی نہیں بھول سکتا ۔

11ستمبر کا دن ہمارے لیے بڑا تکلیف دہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ القاعدہ کی قیادت کو شدید نقصان پہنچا دیا ۔ اسامہ اب دوبارہ کبھی امریکا کیلیے خطرہ نہیں بن سکتا ۔ امریکا ایک محفوظ ملک بن چکا ہے ۔ دہشتگردی کا کوئی بھی واقعہ امریکا کے عزائم ختم نہیں کر سکتا ۔ وہنائن الیون کی گیارہویں برسی کے حوالے سے منعقدہ قومی سلامتی کے اعلی سطح کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔ اجلاس میں قومی سلامتی کے حوالے سے ٹیم نے صدر کو بریفنگ دی اور نائن الیون جیسے حملوں کی مکمل روک تھام کے حوالے سے آئندہ کے اقدامات اور حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اوباما نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں مسائل اور نقصانات کو کبھی نہیں بھولتے لیکن وہ اپنے ماضی کو یاد رکھنے کے ساتھ آگے بڑھنے کیلیے پرعزم ہیں ۔ نائن الیون حملوں میں ہونے والے جانی نقصانات اور متاثرہ خاندانوں کا درد ہمارے دلوں میں موجود ہے ہم نے اس عزم کا اعادہ کرنا ہے کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کو کیسے یقینی بنایا جائے۔ اوباما نے تمام سیکیورٹی اداروں اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ امریکی شہریوں کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہونی چاہئے اور نہ صرف امریکا بلکہ دنیا بھر میں مقیم امریکی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے ۔

دریں اثناء امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ اعلی قیادت سے محروم ہونے کے باوجود القاعدہ بدستور عالمی امن کیلیے بڑا خطرہ ہے ۔ نائن الیون حملہ آوروں میں سے کوئی بھی بچ نہیں سکے گا ۔ اے ایف پی کے مطابق لیون پنیٹا نے پنسلونیا میں نائن الیون حملوں میں مارے جانے والے افراد کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ حملوں کے مرکزی کردار اسامہ بن لادن کو کیفر کردار تک پہنچا دیا اور جب تک امریکی عوام کے تحفظ اور سلامتی کیلیے خطرات درپیش ہیں القاعدہ اور دیگر دہشتگردوں کیخلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ سربراہ اسامہ بن لادن سمیت دیگر اعلی القاعدہ قیادت کو ختم کرنے کے باوجود یہ گروپ امریکی سلامتی اور عالمی امن کیلیے بدستور خطرہ ہے اور اس نیٹ ورک کو ختم کرنے کیلیے ہم انتہائی سنجیدہ ہیں۔ افغانستان میں ہماری افواج القاعدہ اور اس کے اتحادیوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کیلیے لڑ رہی ہیں جبکہ صومالیہ میں شمالی افریقہ اور یمن میں بھی اس نیٹ ورک کیخلاف جنگ جاری ہے اور اس خطرناک نیٹ ورک کیخلاف جنگ میں کسی بھی قسم کی غلطی نہیں کی جائے گی۔ پنیٹا نے مزید کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہم ان فوجیوں کے بارے میں بہت زیادہ نہیں سوچتے جو اپنے وطن کی خاطر لڑ ر ہے ہیں یا ہلاک ہو رہے ہیں ۔

افغانستان میں جاری جنگ کے دوران ہم مسلسل اچھے مردوں اور خواتین کھو رہے ہیں۔ علاوہ ازیں ایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے لیون پنیٹا نے اسامہ آپریشن میں حصہ لینے والے ایک کمانڈو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی کتاب میں حساس معلومات افشا کیں اس قسم کے آپریشن میں حصہ لینے والے کسی فوجی کو کتاب لکھنے یا معلومات اخباروں کو بیچنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ پنیٹا نے کہا کہ امریکی کمانڈو کی کتاب ' نو ایزی ڈے ' کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ اس میں شائع کردہ کون سی معلومات حساس اور کون سی خفیہ تھیں۔

اے ایف پی کے مطابق امریکا میں نائن الیون کی گیارہویں برسی کی تقریبات پچھلے سال کی نسبت پھیکے اور دھیمے انداز میں منائی گئیں۔ گرائونڈ زیرو پر ہونے والی تقریب میں کسی سیاسی رہنما نے شرکت نہیں کی اور سیکیورٹی کے انتظامات بھی گزشتہ سال کی نسبت کم تھے ۔ صدر اوباما اور مشعل نے وائٹ ہائوس کے باہر ہلاک ہونیوالوں کی یاد میں ایک لمحہ کیلیے خاموشی اختیار کی اور پھر پینٹاگان میں یادگار کا دورہ بھی کیا ۔

افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج نے نائن الیون کی برسی کے موقع پر چھوٹی چھوٹی تقریبات منعقد کیں ۔ فوجیوں نے امریکی ترانہ پڑھا اور ہلاک ہونے والوں کیلیے دعائیہ کلمات کہے ۔ ادھر انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں100 سے زائد اسلامی انتہا پسندوں نے امریکی سفارتخانے کے باہر نائن الیون کے حملہ آوروں کے حق میں ریلی نکالی اور القاعدہ کے حق میں نعرے لگائے ۔ مظاہین نے بینرز اور پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا 'ہم سب اسامہ ہیں ''۔