بلدیاتی الیکشن کے شوشے کے پیچھے ضرورکوئی چال ہے نوازشریف

متحدہ سے اب بات نہیں ہوگی‘ فرینڈلی اپوزیشن سے وہ سلوک نہیں ہوتاجو زرداری کررہے ہیں


Numainda Express September 12, 2012
متحدہ سے اب بات نہیں ہوگی‘ فرینڈلی اپوزیشن سے وہ سلوک نہیں ہوتاجو زرداری کررہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ صدر زرداری نے عام انتخابات سے چھ ماہ قبل جان بوجھ کر بلدیاتی انتخابات کاشوشہ چھوڑا اور اس کے پیچھے ضرورکوئی چال ہے۔

ن لیگ فرینڈلی اپوزیشن نہیں، فرینڈلی اپوزیشن سے وہ سلوک نہیں ہوتا جو صدرزرداری ہم سے کررہے ہیں، نیٹ سول ٹیکنالوجی کے دورے پر خطاب اورمیڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ہم نے فرینڈلی نہیں حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کیا ہے' ہم فرینڈلی اپوزیشن ہوتے تو مجھے ڈوگرکورٹس سے نااہل قرار نہ دلوایا جاتا ۔ 2008 میںپنجاب حکومت ختم کر کے گورنر راج نہ لگایا جاتا۔ نگراں حکومت کیلیے وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈرکے درمیان بات ہونی ہے اور اگر اس کے مثبت نتائج نہیں نکلتے تومعاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جائیگا اورپھر سیاسی جماعتوںکا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہوگا' مجھے وفاقی حکومت پر بہت غصہ تھا لیکن اس کے باوجود ملک کیلیے آئینی ترامیم میں حصہ لیا اور یہی وجہ ہے غیر جانبدار چیف الیکشن کمشنر کاتقرر ہوا۔

ایم کیو ایم کے کہنے پر ان سے ملاقات کی تھی تاہم الطاف حسین نے جو بیان دیا وہ انھیںزیب نہیںدیتا، جو بات ہونی تھی ہوچکی، مزید کوئی بات نہیں کریںگے'حالات و واقعات دیکھ کر اے این پی سے بات کریںگے، بلدیاتی آرڈیننس کے معاملے پر سندھ میں جماعتیں تقسیم ہیں، ایسا کام کیاجائے جس سے عوام بھی مطمئن ہوں۔ ہم اقتدار کی نہیں بلکہ اقدارکی جنگ لڑ رہے ہیں، 1997میں پاکستان کو دس سال آگے دیکھ رہے تھے' اگر میں نے موٹر وے بنایا تومیں پاکستان کو 25سال آگے دیکھ رہا تھا ۔ ہماری حکومت تو بلوچستان کے حالات یہ نہ ہوتے، ہم بغیر کسی سے بھیک مانگے عوام پر انحصار کر کے موٹر وے بنا سکتے تھے تو ایسے ہزاروں موٹر وے بن سکتے تھے۔

میں نے تاشقند اور گوادر تک موٹر وے بنانے کیلیے رہنمائوں سے بات کر لی تھی ' بھارت میں ایک بھی موٹر وے نہیں، بتایا جائے ہم کونسی سازش کر رہے تھے۔ ہمارے پاس وافر بجلی تھی' ہمارا گروتھ ریٹ 8فیصد اور بھارت کا 2فیصد تھا' کرنسی بھارت سے کہیں زیادہ مضبوط تھی ۔ کراچی اور لاہور کے ائیر پورٹ ہم نے بنوائے لیکن مشرف نے گھر بھیج دیا۔ ساڑھے چار سال کے باوجود حکومت نے ملک و قوم کی بھلائی کے کسی منصوبے پر توجہ نہیں دی ' حکومت کی توجہ ہوتی تو لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل ہو چکا ہوتا لیکن کچھ لوگوںکو پاکستا ن کی ترقی راس نہیں آتی ' معاملات بہت بگڑ گئے ہیں اور ہم ہی یہ بگاڑ ٹھیک کر سکتے ہیں۔

جو لوگ 15دنوںمیں اسے ٹھیک کرنے کی بات کر رہے ہیں ہم انہیںکہتے ہیں کہ مہربانی کرکے دنوں سے آگے بڑھو اورمہینوں کی بات کرو کیونکہ یہ دنوں میں بھی ٹھیک نہیں ہو سکتے، اس کیلیے سالوں درکار ہیں' مسلم لیگ (ن) تبدیلی کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو تبدیلی لائیںگے۔ تھانیداروں کے الیکشن سے کچھ نہیں ہوگا، نظام بدلنا پڑے گا، کسی کو گالی دینا یا لعن طعن کرنا نہیں چاہتا۔ مسلم لیگ (ن) کے پاس جامع پروگرام ہے، اگر اللہ نے موقع دیا تو اس پر عملدرآمد کریں گے، قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ عوام کرپشن کے خاتمے کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔