کراچی میں ڈکیتوں نے پہچاننے پر 18 سالہ طالب علم کو قتل کردیا
مقتول نوجوان کی شناخت 18 سالہ عثمان ولد سلیم کے نام سے ہوئی جو لانڈھی نمبر4 زمانہ آباد کا رہائشی ہے
مقتول طالب علم کی یادگار تصویر
ISLAMABAD:
شہر قائد میں مسلح افراد نے لوٹ مار کے دوران پہچاننے پر 18 سالہ طالب علم کو قتل کردیا جبکہ شہر میں آج بھی ڈکیتی مزاحمت 3 شہری قتل جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی کے ضلع کورنگی میں اسٹریٹ کرائم اورڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ہو گیا، لانڈھی چھتیس بی میں ڈکیتی کی واردات کے دوران نامعلوم مسلح ملزمان نے پہچاننے پر 18 سالہ طالب علم کو فائرنگ کرکے قتل کردیا جبکہ گودام چورنگی کے قریب گاڑی میں سوار مسلح ملزمان کی کیش وین لوٹنے کی کوشش کے دوران مسلح ملزمان کی فائرنگ سے کیش وین میں سوار میڈیسن کمپنی کا ملازم جاں بحق اور 2 سیکیورٹی گارڈ زخمی ہو گئے۔
مقتول نوجوان کی شناخت 18 سالہ عثمان ولد سلیم کے نام سے ہوئی جو لانڈھی نمبر4 زمانہ آباد کا رہائشی اورفضایہ کالج میں فرسٹ ایئرکاعالب علم تھا۔ جناح اسپتال میں مقتول نوجوان کے دوست محمد حسنین نے بتایا کہ وہ صبح گھرسے کالج جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا کہ اسی دوران اس نے فائرنگ کی آواز سنی اورجب گھر کا دروازہ کھولا تو عثمان بھاگتے ہوئے آرہا تھا اور گھر کے قریب آنے کے بعد عثمان زمین پر گر گیا، میں نے جب عثمان سے پوچھا کہ کیا ہوا توعثمان نے بتایا کہ ڈاکو شہری سے لوٹ مار کر رہے تھے اورعثمان کو پہچان گیا تھا جس پر انہوں نے گردن پر گولی ماری۔
مقتول نوجوان عثمان کے ماموں ندیم نے جناح اسپتال میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بھانجا فضائیہ کالج میں فرسٹ ائیر کا طالبعلم تھا عثمان صبح گھرسے کالج جانے کے لہے نکلا تھا عثمان ڈاکووں کو دیکھ کر بھاگا تو اسے گولی ماری گئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ پولیس اوررینجرز نے پینتیس سال سے کیا کررہے ہیں، شہری روزانہ کی بنیاد پر لٹ رہے ہیں اور ادارے کیا کررہے ہیں؟ ہمیں ان ڈاکووں سے چھٹکارا دلایا جائے،عام شہری کب تک ڈاکوؤں کے ہاتھوں مرتے رہیں گے؟گھروں میں بھی لوٹ مار ہورہی ہے اورسڑکوں پر بھی، ہم جائیں تو کہاں جائیں۔؟
اس حوالے سے ایس ایس پی کورنگی فیصل بشیر میمن بتایا کہ لانڈھی 36 بی میں 4 ڈاکو شہری سے لوٹ مار کر رہے تھے اور ڈاکو شہری سے 18 ہزارروپے لوٹنے کے بعد فرار ہو رہے تھے کہ موقع پرموجود شہریوں پر ڈاکوؤں پر پتھراؤ کردیا جس کے بتیجے میں ڈاکوؤں نے بدحواس ہوکر فائرنگ کی اور فرارہوگئے، جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
ادھر کورنگی صنعتی ایریا تھانے کےعلاقے گودام چورنگی نیشنل ریفائنری روڈ پرسفید رنگ کی کرولا گاڑی میں سوارنامعلوم مسلح ملزمان نے نجی مڈیسن کمپنی کی کیش وین لوٹنے کی نیت سے روکنے کی کوشش کی اورکیش وین نہ رکنے پرکرولا گاڑی میں ڈاکوؤں نے کیش وین پرجدید اسلحے سے فائرنگ کردی۔
فائرنگ کے نتیجے میں کیش وین میں سوارنجی مڈیسن کمپنی کا ملازم جاں بحق اور2 سیکیورٹی گارڈ شدید زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں جاں بحق ہونے نجی مڈیسن کمپنی کے ملازم کی شناخت 50 سالہ اشکوک کے نام سے ہوئی۔زخمی سیکیورٹی گارڈزکی شناخت 55محبوب احمد ولد محمد شریف اور 50 سالہ وزیر ولد پیرمحمد کے نام سے کی گئی ۔
ایس ایس پی کورنگی فیصل بشیر میمن نے میڈیا کےنمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ کیش وین لوٹنے کا واقعہ صبح گیارہ بجے کے قریب واقعہ پیش آیا پرائیوٹ کمپنی کی وین کیش لے کر جارہی تھی کیش وین میں 2 سیکیورٹی گارڈ اور ایک رائیڈر اور ڈرائیور تھے کورولا گاڑی میں سوار ڈاکووں نے انہیں روکنے کی کوشش کی جس پرکیش وین نہیں رکی۔