عام آدمی پارٹی کی ناکامی

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اروند کا یہ بل ایوان کی منظوری حاصل کرنے میں ناکام کیوں رہا؟


Zaheer Akhter Bedari February 21, 2014
[email protected]

بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا اعزاز حاصل ہے، بھارت دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بھی ہے، بھارت کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہاں 66 سال سے جمہوریت تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ بھارت کے حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ بھارت تیزی سے ترقی کر رہا ہے لیکن بھارت کی جمہوری پیشانی پر برص کا یہ داغ بھی جگمگا رہا ہے کہ بھارت کی آبادی کا 40 فیصد سے زیادہ حصہ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔

ہم نے ان ہی کالموں میں بارہا اس بدنما حقیقت کی نشان دہی کی ہے کہ جمہوریت حقیقی معنوں میں سرمایہ دارانہ نظام کے مکروہ چہرے پر پڑا ہوا خوبصورت نقاب ہے۔ جمہوریت جن بنیادوں پر کھڑی ہے ان میں سے ایک اہم بنیاد کرپشن ہے، کرپشن اس کے جسم میں خون بن کر دوڑتی ہے۔ یہ کرپشن ہی ہے جو ملک کی 80 فیصد دولت کو دو فیصد کے ہاتھوں میں جمع کردیتی ہے، دولت کے چند ہاتھوں میں ارتکاز کی وجہ آبادی کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ غربت میں مبتلا رہتا ہے۔ کرپشن کا فرنٹ مین بھی جمہوریت ہے۔ بھارت میں پاکستان کی طرح جمہوریت، سیاست اور اقتدار پر چند خاندان قابض نہیں، یہاں جاگیردار اور وڈیرے بھی نہیں جو پاکستان میں ہیں اور سیاست اور اقتدار پر قابض ہیں، بھارت کی سیاست اور اقتدار میں مڈل کلاس بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن چونکہ بھارتی جمہوریت بھی کرپشن کے سینگوں ہی پر کھڑی ہے لہٰذا یہاں غربت اور امارت کے درمیان زمین آسمان کا فرق موجود ہے۔

اس فرق کو دور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جس کا ایک اہم راستہ کرپشن کا خاتمہ ہے۔ بھارت کی بڑی جماعتوں کو جو پارلیمانی جمہوریت پر قابض ہیں کرپشن کو ختم کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ کرپشن ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔ بڑی جماعتوں کی اس کرپشن نواز پالیسیوں سے بھارتی عوام سخت بیزار ہیں، بلکہ متنفر ہیں اور اپنی اس بیزاری اور نفرت کا مظاہرہ وہ جب بھی موقع ملتا ہے، کرتے ہیں۔ بھارت میں ایک غریب شخص اروند کیجروال نے ایک سیاسی جماعت ''عام آدمی پارٹی'' کے نام سے بنائی، اس غریب کی غریب پارٹی راتوں رات غریب عوام میں اس قدر مقبول ہوئی کہ عوام نے دہلی کے انتخابات میں عام آدمی پارٹی کو اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھادیا۔ اروند کیجروال دہلی کا وزیر اعلیٰ بن گیا۔ اروند کو یہ ادراک تھا کہ عوام کی غربت دور کرنا ہو تو سب سے پہلے کرپشن کو ختم کرنا ہوگا، سو اس نے ایوان میں کرپشن کے خلاف ایک بل پیش کیا۔ پارلیمانی جمہوریت کا اصول ہے کہ اگر حکومت کی طرف سے پیش کیا گیا کوئی بل ایوان میں منظور نہیں ہوتا تو پھر بل پیش کرنے والی حکومت کو استعفیٰ دینا پڑتا ہے، سو اروند کو اپنی کابینہ کے ساتھ مستعفی ہونا پڑا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اروند کا یہ بل ایوان کی منظوری حاصل کرنے میں ناکام کیوں رہا؟ ایوان کے معزز ممبران عوام کے ذریعے ہی منتخب ہوکر ایوان میں آتے ہیں اور ایوان میں عوام کے مسائل حل کرنے کے وعدے پر ہی آتے ہیں۔ عوام کے مسائل میں سب سے اہم مسئلہ کرپشن ہے، پھر کرپشن کے خاتمے کا یہ بل ایوان نے کیوں مسترد کردیا؟ اس لیے کہ مسترد کرنے والے خود کرپٹ تھے اور کرپشن کے حامی بھی تھے، کرپشن کو جاری رکھنا بھی چاہتے تھے۔ یہ عوام کے ذریعے قائم ہونے والی جمہوریت کا حصہ تو تھے لیکن اس جمہوریت کو عوام کی حکومت عوام کے لیے بنانے پر آمادہ نہ تھے۔

بھارتی عوام کرپشن سے کس قدر بیزار اور متنفر ہیں اس کا اندازہ انا ہزارے کی مقبولیت سے ہوسکتا ہے۔انا ہزارے بھی اروند کیجروال کی طرح ایک گمنام شخص تھا لیکن جب اس نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی تو اس کی آواز پر لاکھوں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور انا ہزارے عوام کا محبوب و مقبول شخص بن گیا۔ انا ہزارے اور اروند دونوں بھارتی سیاست کے مقبول انسان تو بن گئے ہیں لیکن ان کی یہ مقبولیت ان کی سیاسی خدمات یا کسی انقلابی منشور کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ مقبولیت عوام میں بڑی جماعتوں کے ساتھ ایک انقلابی منشور لے کر منظم انداز میں آگے بڑھتے تو یہ امید کی جاسکتی تھی کہ یہ لوگ بھارتی سیاست میں ایک ہمہ گیر تبدیلی لاکر عوام کو غربت بھوک بے کاری سے نجات دلانے کے قابل بن جاتے لیکن ایسا اس لیے ممکن نہ تھا کہ انا ہزارے کا ٹارگٹ صرف کرپشن بل پارلیمنٹ میں پیش کرنا تھا، سو جب یہ بل پیش ہوا تو اس کا مقصد پورا ہوگیا، یہی صورت حال اروند کیجروال کی ہے۔

اروند کی مقبولیت اور کام صرف دہلی تک محدود ہے، دہلی کے عوام نے اروند کی پارٹی کو کامیاب بناکر اپنی ذمے داری پوری کردی ہے لیکن بھارت دو ارب آبادی پر مشتمل ایک بہت بڑا ملک ہے، اس بڑے ملک میں اپنی جڑیں پھیلانے کے لیے ایک بڑی اور منظم جماعت کی ضرورت ہے۔ ایوان میں ناکامی کی وجہ سے اروند کو حکومت سے تو الگ ہونا پڑا ہے لیکن اسے کیوں ناکامی ہوئی، یہی وہ نکتہ یا بنیاد ہے جو اروند کو دہلی سے آگے بھارت کے طول و عرض تک لے جاسکتی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اروند اور اس کی ٹیم اس بڑے سیاسی کام کی اہل ہے؟ کیا اس کے پاس وہ ویژن ہے جو بھارت جیسے دنیا کے دوسرے بڑے ملک کے دو ارب کے لگ بھگ عوام کو متحرک کرسکے۔ کیا وہ اتنی بڑی پارٹی بنا سکے گا کہ وہ بھارت کی تمام ریاستوں کے ناراض اور مایوس عوام کو ایک مرکز پر لاسکے؟ اروند اور انا ہزارے جیسے لوگوں کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ ان کی مقبولیت کی بنیادیں ان کی کسی سماجی یا سیاسی خدمات کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ عوام کی بڑی اور ناکام سیاسی جماعتوں سے مایوسی کا ردعمل ہے۔ اس ردعمل کو سمیٹنا اور منظم کرنا ایک بہت بڑا کام ہے۔

ہم نے کالم کا آغاز بھارتی جمہوریت کی زبوں حالی سے کیا تھا، بھارتی جمہوریت بھی معنوی طور پر سرمایہ دارانہ نظام کی سپورٹ کے طور پر ہی کام کر رہی ہے۔ کیا اس جمہوریت کے کردار میں تبدیلی لانا ممکن ہے یا جمہوریت کا کوئی نیا سانچہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے جو کم ازکم ''عوام کی حکومت عوام کے لیے'' کے معیار پر پوری اتر سکے۔ اروند کیجروال کی ناکامی عام آدمی پارٹی کی ناکامی نہیں ہے بلکہ کرپٹ لابی کی کامیابی ہے۔ جیساکہ ہم نے نشان دہی کی ہے بھارت کی جمہوریت کو اگر عوامی جمہوریت بنانا ہو تو بھارت کی سیکولر جماعتوں کو اپنے آپ کو ازسر نو منظم کرنا ہوگا۔ ایک نیا منشور دینا ہوگا اپنی صفوں سے کالی بھیڑوں کو نکالنا ہوگا۔ تب ہی وہ عوام کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔آج پاکستان جس صورت حال سے گزر رہا ہے وہ بھارت سے بہت زیادہ خطرناک ہے، اس صورت حال سے نکلنے کے لیے پی پی پی، متحدہ، اے این پی اور قوم پرست جماعتوں کے اپنے تمام اختلافات کو پس پشت ڈال کر پہلے اس انتہائی خطرناک بحران سے نکلنا ہوگا، اس کے بعد ہی جمہوریت کے کسی نئے ماڈل پر سوچا جاسکتا ہے۔

مقبول خبریں