ایف پی سی سی آئی نے ٹریڈباڈیزسے بجٹ تجاویزطلب کر لیں

غوروخوض کے بعدوفاقی حکومت کوبھیج دی جائیں گی ،شیڈوبجٹ بھی بنائیں گے


Business Reporter February 23, 2014
ٹیکس نیٹ سے باہرشعبوں کی نشاندہی کی جائے گی،زکریاعثمان، اجلاس سے خطاب فوٹو: فائل

وفاق ایوانہائے تجارت وصنعت پاکستان (ایف پی سی سی آئی) کے صدر زکریا عثمان نے کہا ہے کہ فیڈریشن نے اپنی تمام رکن ٹریڈ باڈیز جن میں ملک بھر کے 44چیمبرزآف کامرس اینڈ انڈسٹری اور 102ایسو سی ایشنز شامل ہیں سے وفاقی بجٹ 2014-15 کیلیے تجاویزوسفارشات طلب کر لی ہیں۔

بجٹ 2014-15سے متعلق ایف پی سی سی آئی کے ورکنگ گروپ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ فیڈریشن سے منسلک تمام چیمبرز اور ٹریڈ باڈیز کی جانب سے وصول ہونیوالی تجاویز پر غوروخوض کے بعد انہیں وفاقی حکومت کوارسال کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کے اس سال فیڈریشن ایک متوازی شیڈو بجٹ بھی مرتب کرکے وفاقی حکومت کو پیش کرے گا کیونکہ ایف پی سی سی آئی میں شیڈوبجٹ ترتیب دینے کیلیے بھرپور صلاحیت اورمہارت کی حامل افرادی قوت و ٹیم موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اب بھی متعدد ایسے شعبے موجود ہیں جو قابل ٹیکس آمدنی کے باوجود ٹیکس نیٹ سے باہرہیں تاہم اس بار ایف پی سی سی آئی حکومت کوان شعبوں کی نشاندہی کرے گی تاکہ ریونیو میں اضافے سے متعلق حکومت کیلیے مستقل ذرائع اور وسائل پیدا ہوسکیں۔

انہوں نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی کو حکومت پر بھرپور اعتماد ہے اوراسی اعتماد کی بنیاد پر تاجروصنعت کاروں کی واحد نمائندہ فیڈریشن حکومت کے ساتھ پورا تعاون کرتے ہوئے ملکی معیشت کی بحالی کیلیے مشترکہ کوششیں کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجربرادری کی واحد نمائندہ فیڈریشن پر حکومت بھی مکمل اعتماد کرتی ہے۔ اجلاس میں سینئر نائب صدر شوکت احمد، نائب صدور مظہر علی ناصر، خرم سعید، اسماعیل ستار کے علاوہ میاں زاہد حسین، شکیل احمد ڈھینگڑا، زبیر احمد، امجد رفیع، انجینئر جبار اور ایف پی سی سی آئی کے سیکریٹری جنر ل ایم اے لودھی اور دیگر کاروباری افراد نے بھی شر کت کی۔