مقبوضہ کشمیر سانحہ پوشپورہ کی یاد میں احتجاجی مظاہرے متعدد حریت رہنما گرفتار

بھارتی فوجیوں نے1991 میں کپواڑہ کے علاقے میں100 خواتین سے اجتماعی زیادتی کی تھی


News Agencies February 23, 2014
راجیوگاندھی کے قاتلوں کو پھانسی سے بچانے کے اقدام سے ایک بار پھر بھارت کا کشمیریوں کے ساتھ دہرا معیار ثابت ہوگیا، میرواعظ عمر فاروق۔ فوٹو: فائل

مقبوضہ کشمیر میںسانحہ پوشپورہ کی یاد میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

بھارتی پولیس نے شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان، یوسف نقاش اور شبیر احمد ڈار سمیت متعدد حریت رہنمائوںکو کنن پوشپورہ اجتماعی آبرو ریزی کے واقعے کے خلاف احتجاجی ریلی کے انعقاد سے روکنے کے لیے ہفتے کو سری نگر میں گرفتار کر لیا۔ یاد رہے کہ بھارتی فوجیوں نے1991 میں 23اور24فروری کی درمیانی رات کو ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوشپورہ میں100سے قریب خواتین کو محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران اجتماعی آبرو ریزی کا نشانہ بنایا تھا، متاثرہ خواتین کو تاحال انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔

دریں اثنا نامعلوم مسلح افراد نے سوپور میں ایک25 سالہ نوجوان وسیم احمد ملک کو گولی مار کر قتل کر دیا جبکہ گزشتہ ماہ اغوا کیے جانے والے نوجوان مشتاق احمد چھانگا کی بازیابی میں پولیس کی ناکامی پر سوپور میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ علاوہ ازیں یاسین ملک نے کہاکہ تحریک آزادی کشمیر شہدا کے مقدس لہو سے سیراب ہے، دنیا کی کوئی طاقت اس تحریک کو شکست نہیں دے سکتی۔ سری نگر میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ راجیوگاندھی کے قاتلوں کو پھانسی سے بچانے کے اقدام سے ایک بار پھر بھارت کا کشمیریوں کے ساتھ دہرا معیار ثابت ہوگیاہے۔

مقبول خبریں