22 ویں سرمائی اولمپکس کا روسی برتری پر شاندار اختتام

میزبان ملک نے 13 گولڈ سمیت33 میڈلز جیت کر میلہ لوٹ لیا، مینز آئس ہاکی فائنل میں کینیڈا نے سوئیڈن کو ہرادیا


Sports Desk/AFP February 24, 2014
فشٹ اسٹیڈیم میں سوچی ونٹر گیمز کی اختتامی تقریب میں شریک فنکارہ مسکراتے ہوئے یونانی پرچم لہرارہی ہے، 16روزہ ایونٹ میں روس نے سب سے زیادہ 13طلائی تمغے جیت کر پہلا نمبر حاصل کیا۔ فوٹو: اے ایف پی

22 ویں سرمائی اولمپکس میزبان روس کی برتری کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئے،روس نے 13 گولڈ میڈلز سمیت مجموعی طور پر سب سے زیادہ 33 تمغے جیت کر پہلی پوزیشن حاصل کی۔

اس میں 11 سلور اور 9 برانز شامل ہیں، ناروے نے 11گولڈ، 5 سلور اور10 برانز میڈلز کے ساتھ دوسری پوزیشن پائی، کینیڈا نے تیسری پوزیشن پائی، جس میں 10سونے،10 چاندی اور 5 کانسی کے میڈلز شامل رہے، امریکا نے چوتھی پوزیشن پر اختتام کیا، ان کے مجموعی 28 میڈلز میں 9 گولڈ، 7 سلور اور 12 برانز رہے، نیدرلینڈز نے پانچواں نمبر پایا، ڈچ ایتھلیٹس نے 8 طلائی،8 نقرئی اور9 کانسی کے میڈلز جیتے۔گیمز کے اختتامی دن روس نے مینز 50 کلومیٹر کراس کنٹری ریس میں اپنا 13واں گولڈ میڈل جیت کر نمبرون پوزیشن کو یقینی بنایا، روسی اسکیئر الیگزینڈر لیگوف نے سونے کا تمغہ جیتا جبکہ ان کے دیگر دو ہموطنوں میکسم ویلیزیگن اور ایلیا چیرنشوف نے بالترتیب چاندی اور کانسی کے میڈلز پائے۔

بوب سلیگ ایونٹ میں چار رکنی روسی ٹیم نے میدان مارلیا، میزبان اسکیئرز میں الیگزینڈر زوبکوف، الیکسی نیگوڈیلو، ڈیمرٹی ٹرینیکوف اور الیکسی ویوووڈا شامل رہے، لٹویا نے سلور جبکہ امریکا نے برانز میڈل اپنے نام کیا، آئس ہاکی فائنل میں کینیڈا نے سوئیڈن کو 3-0 سے شکست دیکر گولڈ میڈلز اپنے نام کرلیا،انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے صدر تھامس باخ نے سوچی گیمز کو ' عظیم ' قرار دے دیا، ان کا کہنا ہے کہ ان مقابلوں میں ایتھلیٹس نے بھی خوب رنگ جمایا اور ان کا ردعمل مثبت رہا،16 روزہ ایونٹ میں دنیا بھر کے ایتھلیٹس نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا، فشٹ اولمپک اسٹیڈیم میں گیمز کی رنگا رنگ اختتامی تقریب میں 2018 کے میزبان شہر پیانگ یانگ کو اولمپک پرچم سونپاگیا، شریک ممالک کے دستوں نے مارچ پاسٹ کیا اور مقامی فنکاروں نے اپنی پرفارمنس سے ناظرین کو مبہوت کیے رکھا۔