روس نے پاکستانی آلوکی درآمدپرعائدپابندی بھی اٹھالیذرائع

7کمپنیوں کوآلوبرآمدکرنے کی اجازت،روس دیگرزرعی پیداوارپرپابندی پہلے ہی ختم کرچکاہے


Business Reporter February 25, 2014
7کمپنیوں کوآلوبرآمدکرنے کی اجازت،روس دیگرزرعی پیداوارپرپابندی پہلے ہی ختم کرچکاہے. فوٹو: اے ایف پی/ فائل

ISLAMABAD: روس کی جانب سے پھلوں کی درآمد پرپابندی ختم ہونے کے بعد پاکستان سے آلو کی درآمدات کے لیے بھی7 برآمدی اداروں کو آلوبرآمد کرنے کی اجازت دیدی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ رشین فیڈرل سروس روزلیخوز نادزور نے سینیٹری رولز کی پابندی نہ کرنے پر 30ستمبر2013 کو پاکستانی برآمدکنندگان کی زرعی اجناس کی درآمد پر پابندی عائدکی تھی تاہم بعد میں روس نے پاکستانی پھلوں کی درآمد پر عائد پابندی اٹھالی اور اب پاکستانی آلو کی درآمدات کے لیے بھی 7کمپنیوں کو اجازت فراہم کردی گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ اب تک پاکستان سے 7 ہزارکنٹینر کینو برآمدکیا جاچکا ہے جبکہ آئندہ ماہ سے روسی مارکیٹ میں پاکستانی آلو کی برآمدات شروع ہونے کے بھی امکانات روشن ہیں۔ ذرائع کے مطابق خلیج، سری لنکن اور مشرق بعید مارکیٹس میں بڑھتی ہوئی طلب کے باعث پاکستانی آلو کی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، روسی منڈی کھلنے کے بعد اگر مقامی سطح پر آلوکی قیمت میں کمی رونما ہوئی تو روس کو50ہزارٹن آلو برآمد کیے جانے کا امکان ہے۔