مقبوضہ کشمیر 7 شہریوں کو شہادت کے خلاف مظاہرے جھڑپیں 15 افراد زخمی

بھارتی فورسز نے پیر کوکپواڑہ میں جھڑپ کے دوران 7 افراد کوشہید کیا تھا، مظاہرین نے ایک پولیس اسٹیشن کوآگ لگادی


News Agencies/AFP February 26, 2014
تمام افراد کو دفنا دیا گیا، علی گیلانی کی واقعے کیخلاف جمعے کو ہڑتال کی اپیل، شبیر شاہ نظربند، نعیم خان، مشتاق الاسلام گرفتار۔ فوٹو: اے ایف پی

مقبوضہ کشمیر میں سیکڑوں کشمیری پیر کوبھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونیوالے 7 شہریوں کی ہلاکت کیخلاف منگل کو سڑکوں پر نکل آئے۔

اس موقع پر مظاہرین اور قابض فورسز میں جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں 5 صحافیوں سمیت 15 مظاہرین زخمی ہوگئے، متعدد کی حالت نازک ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ضلع کپواڑہ کے علاقے لولاب کے گائوں درد پورہ میں پیرکے روز بھارتی فوج نے ایک جھڑپ کے دوران مجاہدین سمجھ کر 7 کشمیریوں کو شہید کردیا تھا جس کے خلاف سیکڑوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور قابض فورسز کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔ مظاہرین نے پاکستانی سرحد کے قریب کپواڑہ میں ایک پولیس اسٹیشن کو آگ بھی لگا دی۔ مظاہرین نے فوج سے مطالبہ کیا کہ وہ شناخت کے لیے شہید ہونے والے افرادکی میتیں واپس کرے تاکہ انھیں دفنایا بھی جا سکے۔ پولیس نے پتھرائو کرنیوالے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلیے آنسو گیس کی شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی۔

ایک عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ سے ایک کشمیری زخمی بھی ہوا۔ صورتحال کوکنٹرول کرنے کیلیے پیرا ملٹری کے اہلکاروں کو بلایا گیا ۔شہریوں کو شک ہے کہ پیرکو مرنے والے افراد مجاہدین نہیں بلکہ عام شہری تھے۔مظاہرے کی شدت دیکھ کر پولیس نے ساتوں افراد کی میتیں ایک مذہبی گروپ کو دیدیں جنھیں سیکڑوں افراد کی موجودگی میں دفنا دیا گیا۔ اے ایف پی کے مطابق بزرگ کشمیر رہنما سید علی گیلانی نے واقعے کیخلاف جمعے کو ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ واقعے کی آزاد عالمی باڈی سے تحقیقات کرانی چاہیے۔ دوسری طرف مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی پولیس نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماشبیراحمد شاہ کوشہید کشمیری نوجوان توصیف احمد ڈار کے اہلخانہ سے اظہار ہمدردی کیلیے پلوامہ جانے سے روکنے کیلیے گھر میںنظربند کردیا جبکہ نعیم احمد خان اور مشتاق اسلام کوگرفتارکرلیا۔

مقبول خبریں