فاؤنڈری یونٹس کی سیلزٹیکس رجسٹریشن روکنے پر افسر تبدیل

مزیدکارروائی چند روز میں متوقع،سیلز ٹیکس رجسٹریشن کا نظام بھی تبدیل کر دیا گیا، ذرائع


Irshad Ansari February 27, 2014
مزیدکارروائی چند روز میں متوقع،سیلز ٹیکس رجسٹریشن کا نظام بھی تبدیل کر دیا گیا، ذرائع فوٹو: فائل

ایف بی آر نے فاؤنڈری یونٹس کی غیرقانونی طور پر سیلزٹیکس رجسٹریشن روکنے میں ملوث سینٹرل رجسٹریشن آفس (سی آر او)کے حکام کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سیلزٹیکس رجسٹریشن روکنے والے گروپ کے سربراہ حامد حسین کو فوری طور پر تبدیل کردیا ہے۔

اس ضمن میں ایف بی آر کے سینئر افسر نے بتایا کہ ڈائریکٹریٹ انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کی طرف سے متعدد فاؤنڈری اور انجیئرنگ یونٹس کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آرز کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ سی آر او کے افسران کا ایک گروپ غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے اور اس گروپ کو ایف بی آر کے بعض افسران کی بھی آشیر باد حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ افسران انہیں بچانے کیلیے سرگرم ہو گئے ہیں اور تادیبی کارروائی سے بچانے کیلیے محض تبادلے پر معاملہ ختم کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ سیلز ٹیکس رجسٹریشن کی درخواستیں بلاجواز مسترد کرنے والے گروپ میں سینٹرل رجسٹریشن آفس کے حکام حامد حسین، اظہار بخاری، ملک غلام علی اور شاہ رخ سمیت دیگر اہلکار شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ حکام کے بارے میں تحقیقات کے لیے ان کے موبائل فون کے ڈیٹا سمیت دیگر اہم ریکارڈ کی چھان بین کا فیصلہ کیا گیا تھا، یہ کیس سامنے آنے کے بعد ایف بی آر نے سیلز ٹیکس رجسٹریشن کا نظام بھی تبدیل کردیا ہے جبکہ اس غیر قانونی کام میں ملوث سی آر او کے جوائنٹ ڈائریکٹر حامد حسین خان کو تبدیل کرکے جوائنٹ ڈائریکٹر ان لینڈ ریونیو سیلز ٹیکس اینڈ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ریسرچ اینڈ اینالسز تعینات کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈائریکٹریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن نے ایف بی آر کو خط میں بتایاکہ متعدد فاؤنڈری اور انجیئرنگ یونٹس کے خلاف درج ایف آئی آرز کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ صرف فیصل آباد میں 200 سے زیادہ فاونڈری یونٹس کام کررہے ہیں، ان میں سے صرف 24 یونٹ نے سیلز ٹیکس رجسٹریشن کرارکھی ہے جبکہ 16 یونٹس نے رجسٹریشن کی درخواست دی مگر 4 کی درخواستیں سینٹرل رجسٹریشن آفس نے مسترد کردیں اور جواز پیش کیا گیا کہ ان یونٹس کے یوٹیلٹی بلز کی مالیت سیلز ٹیکس رجسٹریشن کیلیے مقررہ تھریش ہولڈ سے کم ہے جبکہ ان یونٹس میں میں لوہے کو پگھلانے کیلیے کپلا فرنس نامی ٹیکنالوجی استعمال ہورہی ہے جس میں بجلی کے بجائے کوئلہ بطور ایندھن استعمال ہوتا ہے اس لیے ان فاؤنڈری یونٹس کے بجلی کے بل کم ہیں، ڈائریکٹریٹ نے سراغ لگایاکہ ان یونٹس کی فروخت 50 لاکھ روپے سے زیادہ ہے جو مقررہ تھریش ہولڈ سے زیادہ ہے۔ مذکورہ خط میں ڈائریکٹریٹ نے کہاکہ کمپنی رجسٹریشن آفس فاؤنڈری یونٹس کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن کی درخواستیں بغیر کسی معقول وجہ کے غیرقانونی طور پر مسترد کررہا ہے، مسئلہ حل کرنے کیلیے اعلی حکام کے ساتھ معاملے کو اٹھایا جائے اور اسی بنیاد پر ٹیکس دہندگان کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن کا نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے اور سیلز ٹیکس رجسٹریشن روکنے والے گروپ کے مرکزی کردار کو تبدیل کردیا گیا ہے جبکہ مزید کارروائی آئندہ چند روز میں شروع کی جائے گی۔