سابق حکومت کی کارکردگی جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں ہے شاہد خاقان عباسی

سابق حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے میری کوئی بات جھوٹی ثابت ہو تو سیاست چھوڑ دوں گا، لیگی رہنما


Staff Reporter April 24, 2022
شاہد خاقان عباسی کی ایکسپریس سے خصوصی گفتگو

مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سابق حکومت کی کارکردگی جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ہے، اگر میری کہی کوئی بات جھوٹی ثابت ہوئی تو سیاست چھوڑ دوں گا۔

کلرسیداں میں ایکسپریس سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج ملک بہت مشکلات سے گزر رہا ہے، اس سے پہلے 2013 میں بھی مشکلات تھیں مگر ایسے حالات نہیں تھے مگر ہم اتحادیوں اور تجربے کار افراد کے ساتھ مل کر ملک کو مشکل حالات سے نکال کر اسے درست راہ پر لے آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اور اس کے مشیروں نے صرف جھوٹ بولا ہے، پاکستان کا یہ سب سے بڑا جھوٹ بیرونی سازش ہے، پاکستان میں پہلی بار جمہوری طریقے سے عدم اعتماد کامیاب ہوئی، ملک ٹویٹر نہیں فیصلوں سے چلائے جاتے ہیں، سابق حکومت نے جھوٹ بول کر معاشرے کو برباد کر دیا اور عوام میں انتشار پیدا کیا، حکومت بچانے کیلئے عمران خان نے ہر طرح کی کوشش کی مگر جمہوریت کو کامیابی ملی۔

شاہد خاقان عباسی نے نئے انتخابات کے حوالے سے کہا کہ 'عوام کو اک بار پھر الیکشن میں اپنے نمائندے منتخب کرنے چاہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں چار سالوں میں کوئی ن لیگ چھوڑ کر نہیں گیا، جھوٹے مقدمات بنائے گئے لیکن مسلم لیگ ن متحد رہی، ہمیں آج جن حالات میں حکومت ملی وہ بہت مشکل حالات ہیں، اس لیے سب کو مل کر ملک کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ اوورسیز کی نشستوں کے حوالے سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور یہ قانون قومی اسمبلی میں رات کے اندھیرے میں پاس کر دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے خلاف بات عمران خان کو پسند نہیں آتی وہ صرف یہ بتادیں کہ الیکشن کمیشن کا نام کس نے پیش کیا تھا۔ وزارت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر شاہد خاقان عباسی نے کہا وزارت لینا ضروری نہیں ہوتا کام کرنا مقصد ہوتا ہے۔

شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ جب عمران خان اپوزیشن میں تھے تب آپ کہتے تھے ملک میں مہنگائی نے برا حال کر دیا ہے تو پھر آپ حکومت میں آئے تو ایسی کونسی چیز ہے آپ نے سستی کی۔ گھی، آٹا، چینی، پیٹرول، ڈالر سب اتنا مہنگا ہو گیا کہ اب لوگ فاقوں پر آ گئے اور پاکستانی عوام دو وقت کی روٹی کیلئے ترسنے لگے۔