اینگروسوئی سدرن معاہدے سے گیس بحران حل ہوگاحکام

پی کیوٹرمینل پرانفرااسٹرکچربناکرایل این جی لائی جائیگی،0.66ڈالرفی ایم ایم بی ٹی یوچارجزہونگے


Numainda Express March 01, 2014
مفادپرست سازشیں کررہے ہیں،بھارت17.5،جاپان نے17ڈالرفی ایم ایم بی ٹی یوگیس خریدی فوٹو: فائل

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی طرف سے ملک میں ایل این جی کی درآمد کیلیے اینگرو اور ایس ایس جی سی کے درمیان ہونے والے معاہدے کی توثیق سے پاکستان کے گیس کے بحران کو حل کرنے میں مدد ملے گی اور ملکی اقتصادی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس ضمن میں حکام نے بتایا کہ پاکستان میں گیس کے ذخائر میں تیزی سے کمی آرہی ہے ۔

جبکہ گیس کی ضرورت ہرسطح پر تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کا خمیازہ صنعتی اور گھریلو صارفین کو براہ راست بھگتنا پڑ رہا ہے اور مستقبل کے لیے معاشی نمو اور بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پوراکرنا تقریباً ناممکن ہوجائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ تاحال ایل این جی کی درآمدی قیمت کا تعین نہیں کیا گیا مگر پاکستان اور قطر کے درمیان قیمتیں طے کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں جبکہ وزارت پٹرولیم حکام کے مطابق کوئی بھی فیصلہ ملک اور عوام کے بہترین اور طویل مدتی مفاد میں کیا جائے گا۔ حکام نے بتایا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی اور اینگرو ٹرمینلز کے معاہدے کے مطابق اینگرو ٹرمینلز پورٹ قاسم پر موجود اپنے ٹرمینل پر ایل این جی ہینڈلنگ انفرااسٹرکچر تعمیر کرے گی اور ابتدائی طورپر 200 ملین کیوبک فٹ گیس روزانہ درآمدکی جائے گی، دوسرے مرحلے میں گیس کی درآمد تقریباً 400 ملین کیوبک فٹ روزانہ پر لے جائی جائے گی، ایس ایس جی اور اینگرو کے درمیان ایل این جی کی درآمد اور اس کی ہینڈلنگ کے لیے معاہدہ0.66 ڈالرفی ایم ایم بی ٹی یو میں طے پایا ہے جو حکومت کے لیے نہایت فائدہ مند معاہدہ ہے۔ ذرائع نے کہا کہ کچھ مفاد پرست عناصر ملک میں ایل این جی کی درآمد کے خلاف گزشتہ 7 سال سے سازشیں کررہے ہیں اور موجودہ حکومت کی سنجیدہ کوششوں کے خلاف بھی منفی پروپیگنڈا جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ذرائع نے کہا کہ مفاد پرست عناصر اپنے پروپیگنڈے سے عوام کو گمراہ کرنے کی کوششیں کررہے ہیں کہ بھارت 10سے12ڈالر میں ایل این جی درآمد کررہاہے۔وزارت پٹرولیم کے مارکیٹ ذرائع کی مطابق بھارت نے 5 سال میں اوسطاً 17.30سے 17.50ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو میں ایل این جی درآمد کی جبکہ جاپان نے 2012-13 میں 17ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یوکی اوسط سے ایل این جی درآمد کی۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق پاکستان جیسے ملک میں جہاں آئندہ 10سال میں گیس کی پیداوارمیں 30فیصد کمی جبکہ ڈیمانڈ 70 فیصد بڑھ کر 8.5 ارب کیوبک فٹ ہوجائے گی لہٰذا گیس کے متبادل ذرائع تلاش کرکے ان پر فوری عمل کرنا پاکستان کی بقا کے لیے نہایت اہم ہے اور اگر پاکستان 18ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے بھی ایل این جی درآمد کر لے تو یہ درآمد فرنس آئل اور ڈیزل کی درآمد سے سستی ہوگی اور ہم اپنے پاور پلانٹس ایل این جی پر چلا کرانڈسٹری کے لیے سستی بجلی پیدا کرسکتے ہیں جو ہماری برآمدی انڈسٹری کے لیے نہایت ضروری ہے۔ حکام کے مطابق پاکستان اس وقت انرجی کے جس بحران کا شکار ہے اس میں جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور ملکی مفاد کے آگے کسی قسم کا دباؤ برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔ مارکیٹ ذرائع نے کہاکہ ملکی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایل این جی کی درآمد سے زیادہ تیزرفتار کوئی اور منصوبہ نہیں ہوسکتا اور مسلم لیگ نواز کی حکومت سال 2014 کے آخر تک ہرحال میں ملک میں ایل این جی کی درآمد کو یقینی بنائے گی۔