صوبے میں پانی کی قلت 45 فیصد تک پہنچ گئی سندھ حکومت

سندھ کو اپنے حصے کا پانی پورا دیا جائے کٹوتی کسی صورت قبول نہیں، مشیر زراعت


Staff Reporter May 06, 2022
سندھ کو اپنے حصے کا پانی پورا دیا جائے کٹوتی کسی صورت قبول نہیں، مشیر زراعت (فوٹو : فائل)

سندھ حکومت نے آبی معاہدے کے تحت طے شدہ پانی سے کم ملنے کو سندھ کی زرعی معیشت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں پانی کی قلت 45 فیصد تک جاپہنچی ہے فوری حل نکالا جائے۔

اپنے بیان میں مشیر زراعت سندھ نے کہا کہ صوبے میں پانی کی کمی روز بروز بڑھتی جارہی ہے، سندھ میں پانی کی بحرانی صورت حال برقرار رہی تو سندھ کی فصلوں کو شدید نقصان ہوسکتا ہے، صوبے کے حصے کا پورا پانی نہ ملنے کی وجہ سے سندھ کی زرعی معیشت خطرے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت کی وجہ سے سندھ میں گنا، آم، چاول، مرچی، زیتون اور کھجور کے باغات کو نقصان پہچنے کا خدشہ ہے، پانی ختم ہونا شروع ہوگیا ہے، گزشتہ تحریک انصاف حکومت میں اکتوبر 2018ء سے مارچ 2022ء تک سندھ کو 189.29 ملین ایکڑ فٹ زرعی پانی حصے سے کم ملا ہے۔

منظور وسان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ساڑھے تین سال میں سندھ کا حصہ 161.1 ملین ایکڑ فٹ بنتا ہے، جب کے سابقہ حکومت میں 131.911 ملین ایکڑ فٹ پانی ملا، پی ٹی آئی حکومت کے گزشتہ ساڑھے 3 سالہ دورمیں سندھ کو خریف میں پانی 16 فی صد اور ربیع سیزن میں 22 فیصد کم ملا ہے، عمران حکومت کے دوران پانی کی شدید قلت کے باعث اہم فصل سبزیوں اور پھلوں کے باغات کی پیداوار کو کافی دھچکا لگا۔

منظور وسان نے کہا کہ عمران حکومت میں سندھ کو حصے کا پانی کم ملنے کی وجہ سے گزشتہ سال گندم، چاول اور کپاس کی فصلیں کم ہوئیں جس سے سندھ کے کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا، عمران نیازی نے اپنے دور میں کسانوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا، عمران حکومت میں سندھ کو حصے کا پانی پورا ملتا تو سندھ کی زرخیز زمینیں متاثر اور فصل کی پیداوار میں کمی نہ ہوتی، سندھ کو اپنے حصے کا پانی پورا دیا جائے کٹوتی کسی صورت قبول نہیں ہے۔