لائیو اسٹاک ڈیری فشریز پولٹری اینڈ ایگریکلچر نمائش شروع

نمائش نئی منڈیاں ڈھونڈنے کیلیے معاون، زراعت ولائیواسٹاک کیلیے تعاون کرینگے، جام خان شورو


Business Reporter March 02, 2014
صنعتوں میں سرمایہ کاری، کاروباری تربیت، ویلیو ایڈیشن کیلیے فنڈ قائم کردیا، چیئرمین ایس بی آئی۔ فوٹو : عرفان علی/ ایکسپریس

حکومت سندھ زراعت، ماہی گیری، پولٹری، لائیو اسٹاک اور دیگر شعبوں کو ترقی دینے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔

لاکھوں لوگوں اور سیکڑوں صنعتوں بشمول چھوٹی، بڑی و گھریلو صنعتوں کا دارومدار ان ہی شعبوں پر ہے۔ یہ بات صوبائی وزیر لائیو اسٹاک، فشریز جام خان شورو نے ہفتہ کو کراچی ایکسپوسینٹر میں لائیواسٹاک، ڈیری، فشریز، پولٹری اینڈ ایگری کلچر (ایل ڈی ایف اے) نمائش 2014 کا افتتاح کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں ان شعبوں میں وسیع مواقع موجود ہیں اور یہ شعبے نہ صرف مقامی طلب و ضروریات پوری کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں بلکہ دیگر ملکوں کو بھی زرعی مصنوعات برآمد کرکے قیمتی زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے، ایل ڈی ایف اے 2014 نمائش نئی مارکیٹوں کی تلاش اور ان شعبوں کی ترقی کے لیے دور رس اثرات کی حامل ہے، بڑی تعداد میں غیرملکی مندوبین، شرکا اور کمپنیوں کی نمائش میں موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ نمائش نہ صرف مصنوعات کو اجاگر کرنے کے لیے بہترین پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے بلکہ دیگر ملکوں کی ضروریات کا بھی احاطہ کرتی ہے، حکومت زراعت، ماہی گیری، پولٹری، لائیو اسٹاک اور دیگر شعبوں کی ترقی کے لیے تکنیکی تعاون، مالیاتی تعاون اور رہنمائی فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گی۔

اس موقع پرسندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین علی ارشد حکیم نے کہا کہ سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ نے بڑی، درمیانی اور چھوٹی صنعتوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ایک ونڈو '' سندھ انٹرپرائز ڈیولپمنٹ فنڈ'' (ایس ای ڈی ایف) قائم کی ہے جس میں کاروباری تربیت بھی فراہم کی جارہی ہے تاکہ زرعی معیشت کو فروغ دیا جا سکے، حکومت نے سندھ انٹرپرائز ڈیولپمنٹ فنڈ قانونی اور ادارہ جاتی مکینزم کی فراہمی کے لیے قائم کیا ہے تاکہ ان شعبوں میں ترقی کے اہداف کو حاصل کیا جاسکے، اس فنڈ کے مقاصد میں زراعت، ماہی گیری، پولٹری، لائیو اسٹاک اور دیگر شعبوں میں موجود ویلیو ایڈیشن کے مواقع سامنے لانا ہے تاکہ معاشی ترقی اور فوائد حاصل کرنے کے ساتھ ثانوی خدمات اور پیداواریت کو بڑھایا جا سکے، اس کے علاوہ فارم کی سطح پر معاونت کرکے کارکردگی اور منافع بخشی کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فنڈ سے زرعی سیکٹر سمیت دیگر شعبوں کو تکنیکی معاونت فراہم کی گئی ہے جس میں فزیبلیٹی کی تیاری، بینکوں سے قرضوں کے حصول میں مدد، شرح سود کے حوالے سے تعاون بشمول کیپٹل لاگت پر 100 فیصد اور ورکنگ کیپٹل پر 50 فیصد شامل ہے۔

ایس ای ڈی ایف سے پلانٹس، مشینری، رائس پراسسنگ ملوں کے ورکنگ کیپٹل کے لیے مالی سبسڈی فراہم کی گئی ہے، اسی طرح دیہی علاقہ جات میں ان ملوں کو رنگ الگ کرنے والی مشینوں کی فراہمی اور دیگر ویلیو ایڈیشن امور کے لیے مواقع مہیا کیے گئے ہیں ، ویلیو ایڈیشن سے انہیں بین الاقوامی مارکیٹوں تک رسائی حاصل ہوگی، اسی طرح دیگر منصوبوں میں بھی تعاون کیا گیا ہے جس میں فش فیڈ مل، انوائرمنٹ کنٹرولڈ پولٹری شیڈز، جننگ ملز اور کولڈ اسٹوریج کے منصوبے شامل ہیں۔ نمائش کے پہلے روز ویلیو ایڈیشن کے حوالے سے خصوصی سیمینار کا انعقاد بھی کیا گیا۔

اس موقع پر سیمینار میں ماہرین نے اس شعبہ میں سرمایہ کاری کے مواقع کے بارے میں اظہار خیال کیا اور نمائش میں حصہ لینے والے سرمایہ کاروں کو اپنے تجربات سے آگاہ کیا، ان میں فیڈ مینوفیکچرنگ، ویٹ سروسز اینڈ مینوفیکچررز، ویکسی نیشن، مذبح خانے، لیبارٹریز، کولڈ چین اینڈ پیکجنگ، ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی، سرٹیفکیشن جاری کرنیوالے ادارے، فارم کنسٹرکشن کمپنیاں اور آلات بنانے والی کمپنیاں بھی شامل ہیں، گھوڑوں اور مویشیوں کا مقابلہ نمائش کے دوسرے دن ہوگا جس کے بعد انعامات تقسیم کیے جائیں گے۔