غیر رجسٹرڈ سمز بند نہ ہونے پر سیلولر کمپنیوں کے گھیراؤ کی دھمکی

ایسی سمیں قیام امن میں بڑی رکاوٹ ہیں، عبدالصمد خان، تاجر وفد کیساتھ پولیس چیف سے ملاقات


Business Reporter March 03, 2014
کراچی میں سب سے بڑا مسئلہ غیرقانونی اور غیر رجسٹرڈ سم ہیں،شاہد حیات۔ فوٹو: فائل

کراچی میں قیام امن کی راہ میں غیررجسٹرڈ موبائل فون سمیں بڑی رکاوٹ ہیں۔ پاکستان سے باہر کی سمیں بھی جرائم کی وارداتوں میں استعمال کی جارہی ہیں۔

تاجر برادری نے غیررجسٹرڈ سمیں بند نہ ہونے کی صورت میں موبائل فون کمپنیوں کے دفاتر کے گھیرائو کی دھمکی دے دی ہے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہد حیات نے تاجروں سے ملاقات میں کہا ہے کہ کراچی میں تاجروں کو درپیش مسائل بالخصوص بھتے کی پرچیوں، اغوا برائے تاوان اور تاجروں کو ہراساں کرنے والے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ کراچی میں سب سے بڑا مسئلہ غیرقانونی اور غیر رجسٹرڈ سم ہیں تاجربرادری غیررجسٹرڈ سموں کے خلاف اپنا کردار ادا کریں۔ کراچی کی تاجر برادری نے وفاقی اور صوبائی حکومت کی ہدایات کے باوجود غیررجسٹرڈ سموں کی عدم بندش کو حکومتی رٹ سے متصادم قرار دیتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی سے غیرقانونی سموں کی فوری بندش یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ صدر الائنس آف مارکیٹس ایسوسی ایشن کے وفد نے الائنس کے جنرل سیکٹری عبدالصمد خان کی قیادت میں ایڈیشنل آئی جی شاہد حیات سے ملاقات کی وفد میں دیگر تاجر رہنما ہارون چاند، فہیم احمد نوری، اشرف موٹلانی، زاہد ملک، اسلم بھٹی، جاوید ارسلا، شوکت ربانی، جاوید شیخ، یوسف چوہان اور رفیق جدون بھی شامل تھے۔

اس موقع پر تاجر برادری نے کراچی میں تاجروں کو درپیش مسائل بالخصوص فون پر ملنے والی بھتے کی دھمکیوں، دکانوں اور کاروباری مراکز میں کریکر حملوں، اغوا برائے تاوان سمیت دیگر مسائل سے آگاہ کیا۔ شاہد حیات نے تاجروں کو یقین دلایا کہ سندھ حکومت اور سندھ پولیس کراچی میں تاجروں کو درپیش مسائل کے حل کیلیے مکمل سنجیدہ ہیں گزشتہ پانچ ماہ کے دوران ٹارگٹڈ آپریشن میں بڑے پیمانے پر بھتہ خوروں اور جرائم پیشہ گروہوں کا خاتمہ کیا گیا ہے اور مجرموں کو عدالتوں میں پیش کرکے انہیں سزائیں دلوائی گئی ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے ہے۔ انہوں نے تاجر برادری پر زور دیا کہ امن و امان کے قیام کیلیے اداروں کو سپورٹ فراہم کریں اور اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر خاموش رہنے کے بجائے پولیس سے رابطے میں رہیں انہوں نے کہا کہ غیرقانونی اور غیر رجسٹرڈ موبائل فون سمیں امن کے قیام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں جن کو بند کرانے کیلیے صوبائی حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کو کئی مرتبہ آگاہ کیا گیا اور وفاقی حکومت نے بھی اس سلسلے میں اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی پاکستان سے باہر کی مختلف سمیں استعمال کی جارہی ہیں اور ان کا سراغ لگانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس موقع پر تاجر برادری نے اپنی مکمل سپورٹ کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اگر غیررجسٹرڈ سمیں بند نہ کی گئیں تو تاجر موبائل فون کمپنیوں کے دفاتر کا گھیرائو کریں گے۔