انڈر 19 ورلڈ فائنلسٹ پاکستان ٹیم کا وطن واپسی پر پرتپاک استقبال

مجموعی کارکردگی کو بہتر کہا جاسکتا ہے، فائنل میں حکمت عملی ناکام ہوگئی، کپتان سمیع اسلم کی میڈیا سے گفتگو


Sports Reporter March 03, 2014
مجموعی کارکردگی کو بہتر کہا جاسکتا ہے، فائنل میں حکمت عملی ناکام ہوگئی، کپتان سمیع اسلم کی میڈیا سے گفتگو۔ فوٹو: فائل

آئی سی سی انڈر19 ورلڈ کرکٹ ٹورنامنٹ کا فائنل کھیلنے والی قومی انڈر19ٹیم اتوار کو واپس وطن پہنچ گئی، دبئی سے کراچی آمد پرقائد اعظم انٹر نیشنل ایئر پورٹ پرکھلاڑیوں اور آفیشلز کا والہانہ استقبال کیا گیا اور ان کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور پتیاں نچھاور کی گئیں۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کپتان سمیع اسلم نے فائنل میںجنوبی افریقہ سے 6وکٹوں سے شکست کا ذمے دار بیٹسمینوں کو قرار دیدیا، انھوں نے کہا کہ ہماری ٹیم نے ایونٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، لیکن ٹرافی کے حصول کے لیے آخری جنگ میں ہماری حکمت عملی ناکام ہو گئی اورٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنا ناکامی کا سبب بن گیا، ایونٹ میں شرکت سے کھلاڑیوں کے تجربہ میں اضافہ ہوا جو مستقبل میں ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں معاون ہوگا، ٹورنامنٹ میں بحیثیت مجموعی ہماری کارکردگی کو بہتر اور اطمینان بخش کہا جا سکتاہے لیکن عالمی جونیئر ٹائٹل حاصل نہ کرپانے کا دکھ ضرور ہے، دریں اثنا قومی جونیئر ٹیم کے کوچ اعظم خان نے نمائندہ ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی جونیئر کپ کے فائنل تک رسائی بھی بڑی کامیابی ہے، فائنل میں فاتح ٹیم کے بولرز نے اچھی بولنگ کی جبکہ ہمارے بیٹسمین وکٹ خشک ہونے کی وجہ سے اپنی کارکردگی کے اظہار میں ناکام رہے۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں انٹر نیشنل کرکٹ نہ ہونے کے سبب جونیئر کھلاڑیوں کو سائیڈ میچز میں شرکت کا موقع نھیں مل پا رہا اور وہ انٹر نیشنل تجربہ سے محروم ہیں، اس کے باوجود عالمی جونیئر نمبر2 بن جانا بھی قابل فخر ہے، ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ قومی جونیئر کرکٹ ٹیم میں باصلاحیت اور نوجوان کرکٹرزکو مناسب تربیت کے ساتھ ساتھ ڈومیسٹک کرکٹ میں بھرپور کارکردگی کے مواقع میسر آئیں تو وہ مستقبل میں قومی کرکٹ کا اثاثہ بن سکتے ہیں، ایسے کھلاڑیوں میںقومی جونیئر کپتان و بیٹسمین سمیع اسلم، بیٹسمین امام الحق،فاسٹ بولر ضیاالحق،اسپنر ظفر گوہر،آ ل رائونڈر سعود شکیل اور کامران غلام شامل ہیں، انھوں نے کہا کہ مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے قومی جونیئر کرکٹ ٹیم کے لیے زیادہ سے زیادہ انٹرنیشنل ٹورز کے اہتمام کی کوشش کی جائے گی ۔