عوامی حمایت سے محروم جماعتیں
پاکستان کےغریب عوام مذہب کا بےحد احترام کرنے کے باوجود مذہبی سیاست یا مذہب کے نام پر سیاست کرنے کوبالکل پسند نہیں کرتے
ہمارے ملک کے بہت سارے المیوں میں ایک المیہ بلکہ بڑا المیہ یہ ہے کہ اس ملک کی مڈل اور لوئر مڈل کلاس پر مشتمل جماعتیں عوامی حمایت سے یکسر محروم ہیں، جس کی وجہ پارلیمانی جمہوریت کے قلعے میں اچھوتوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ درست ہے کہ ہمارا انتخابی نظام صرف ارب پتیوں کو انتخاب لڑنے اور لڑانے کی اجازت دیتا ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ اس اشرافیائی انتخابی نظام میں سوراخ ڈال کر اس میں وسائل کے بغیر بھی داخل ہوا جاسکتا ہے یعنی عوامی حمایت حاصل کرنے کی ایسی راہیں تلاش کی جاسکتی ہیں جو پارلیمانی سیاست کے قلعے میں داخل ہونے کے دروازے کھول سکتی ہیں۔ اس سے قبل کہ ہم ان مڈل اور لوئر مڈل کلاس جماعتوں کی سیاست کا جائزہ لیں جو عوام سے اپنے خلوص کے باوجود عوامی حمایت سے محروم ہیں، متحدہ کی سیاست پر ایک نظر ڈالنا ضروری سمجھتے ہیں۔ ایم کیو ایم کراچی کے طلبا کی ایک چھوٹی سی تنظیم تھی جو اردو بولنے والے طلبا کی نمایندگی کرتی تھی۔ یہ تنظیم جب طلبا سیاست سے آگے آتے ہوئے قومی سیاست میں داخل ہوئی تو دیکھتے ہی دیکھتے اس کی مقبولیت کا عالم یہ ہوگیا کہ وہ چند گھنٹوں کے نوٹس پر ہزاروں انسانوں کو سڑکوں پر لاسکتی ہے، لاکھوں عوام پر مشتمل جلسے کرواسکتی ہے، جلوس اور ریلیاں نکال سکتی ہے۔ ہماری رائج الوقت سیاست میں اسٹریٹ پاور ایک ایسی خوبی ہے جس کے سامنے اشرافیہ بھی دوزانو ہوجاتی ہے۔
اس میں ذرہ برابر شک نہیں کہ متحدہ مڈل اور لوئر مڈل کلاس پر مشتمل جماعت ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نے یہ مقبولیت یہ طاقت کیسے حاصل کی؟ کہا جاتا ہے کہ متحدہ چونکہ لسانی سیاست کرتی ہے اور سندھ میں اردو بولنے والی کمیونٹی کو بڑی جماعتوں نے ہمیشہ نظرانداز کیا اس لیے محرومیوں کا شکار اردو بولنے والی کمیونٹی ایم کیو ایم کی پناہ میں آگئی۔ اس فلاسفی کو ہم سرے سے غلط بھی نہیں کہہ سکتے لیکن کیا 1988سے 2013 تک ہونے والے انتخابات میں ایم کیو ایم جو تاریخی کامیابی حاصل کرتی رہی کیا اسے یہ کامیابی صرف اردو اسپیکنگ ووٹرز کی وجہ سے حاصل ہوئی یا اس میں دوسری زبان بولنے، دوسری قومیتوں سے تعلق رکھنے والے ووٹرز کا بھی ہاتھ ہے؟ ایم کیو ایم اب مہاجر قومی موومنٹ نہیں رہی بلکہ متحدہ قومی موومنٹ بن گئی ہے۔ اس کے باوجود وہ اب بھی ایک بڑی اسٹریٹ پاور ہے۔ اردو بولنے والی کمیونٹی کے ساتھ بڑی جماعتوں کے رویے نے اردو بولنے والی کمیونٹی کو ایم کیو ایم میں پناہ لینے پر مجبور کردیا، یہ ایک کمیونٹی کے احساس محرومی کا نتیجہ ہے۔ اگر اس موقف کو درست مان لیا جائے تو ایک بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 1947 سے محرومیوں کا شکار اس ملک کے 18کروڑ عوام کے لیے کوئی جماعت ''جائے پناہ'' کیوں نہیں بن پا رہی ہے؟
ہمارے کالم کا اصل موضوع ''عوامی حمایت سے محروم جماعتیں'' ہے، چونکہ مڈل اور لوئر مڈل کلاس پر مشتمل جماعتیں ہی عموماً عوامی حمایت سے محروم ہیں اور اس محرومی کی وجہ جہاں ان کی متعصبانہ سیاست ہے وہیں وسائل سے محرومی بھی ہے، اسی لیے ہمیں متحدہ کی مثال پیش کرنی پڑتی ہے کہ متحدہ ان دونوں کمزوریوں کے باوجود آج ملک کی چوتھی بڑی سیاست کیسے بنی ہوئی ہے؟سب سے پہلے ہم ترقی پسند جماعتوں کو لے لیتے ہیں، ان جماعتوں میں کسی ایک جماعت میں بھی جاگیردار وڈیرے بڑے صنعتکار وغیرہ نہیں ہیں لیکن ان کی عوامی حمایت سے محرومی کی وجوہات میں سب سے بڑی وجہ انقلاب کا رومانی تصور ہے۔ یہ جماعتیں اس حقیقت کو اب تک سمجھنے میں ناکام رہی ہیں کہ وقت کا پہیہ اس تیزی سے آگے بڑھتا ہے کہ آج کا حال کل کا ماضی بن جاتا ہے۔ ترقی پسند جماعتیں اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں، وہ نظریاتی کھولیوں سے باہر آنے اور یہ سمجھنے کے لیے تیار نہیں کہ اب روایتی انقلابات کا دور نہیں رہا، اب انقلاب کے لیے نئے راستے، نئے منشور، نئے نعروں کی ضرورت ہے۔ اگرچہ مقصد وہی ہے یعنی عوام کی حاکمیت کا نظام قائم کرنا۔
اس حوالے سے دوسری مڈل کلاس کی جماعتوں میں ''قوم پرست'' جماعتیں سرفہرست ہیں، بدقسمتی سے قوم پرستی اپنے نام ہی کے ساتھ تعصب کا تصور اور تاثر لاتی ہے۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ قوم پرست جماعتوں کی قیادت اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہے اور غریب عوام کی بالادستی پر یقین بھی رکھتی ہے لیکن اس کی پہچان اگر قوم پرستی بنادی جائے تو پھر تعصب اور محدودیت اس کا لازمہ بن جاتا ہے۔ مثلاً سندھی قوم پرست، پختون قوم پرست، بلوچ قوم پرست وغیرہ، اس قوم پرستی کی اضافت نے ان جماعتوں کو قومی سیاست سے نکال باہر کرکے قومیتی سیاست کے حصار میں قید کردیا ہے۔ کیا یہ جماعتیں قوم پرستی کی سیاست سے نکل کر قومی سیاست کی طرف نہیں آسکتیں، جب کہ یہ جماعتیں غریب عوام کی حاکمیت پر یقین رکھتی ہیں، کیا غریب صرف سندھی پختون یا بلوچ ہی ہیں؟ اگر قوم پرست جماعتیں اس ملک میں عوام کی حاکمیت پر یقین رکھتی ہیں تو سب سے پہلے انھیں غریبوں میں امتیاز کی سیاست سے دست بردار ہونا پڑے گا اور زبان، قومیت رنگ، نسل سے بالاتر ہوکر سیاست کے محاذ پر آنا ہوگا۔ ویسے بھی 66 سال کی قوم پرستانہ سیاست نے ان جماعتوں کو عوام سے اس قدر دور کردیا ہے کہ یہ جماعتیں کسی بلدیاتی الیکشن میں اپنا ایک کونسل بھی منتخب نہیں کرواسکتیں۔ ان کی اسی کمزوری نے بڑی اور اشرافیائی جماعتوں کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ عوام کو بے وقوف بنا رہی ہیں اور ہر الیکشن ان کے لیے اقتدار کی ضمانت بن رہا ہے۔ اب قوم پرست جماعتوں کو یہ حقیقت تسلیم کرلینی چاہیے کہ قومیتوں کے مسائل ان کی محرومیاں قوم پرست سیاست سے دور نہیں ہوسکتیں، اس کے لیے قومی سیاست کے ذریعے اقتدار تک پہنچنے کا راستہ تلاش کرنا پڑے گا۔ دوسرا کوئی راستہ نہیں اب الزامات اور نفرتوں کے ذریعے قوم پرستی کی سیاست کا مطلب کنویں کے مینڈک بننے کے علاوہ کچھ نہیں۔
یہاں ہم مختصراً تحریک انصاف کا حوالہ دینا چاہتے ہیں کہ عمومی طور پر مڈل کلاس کی اس جماعت کو آگے بڑھنے کا موقع ملا تھا لیکن اپنی حماقتوں، اپنے فکری انتشار اور موقع پرستی کی وجہ سے اس جماعت نے اقتدار کی طرف پیش رفت کرنے کا موقع کھو دیا۔ اگر ان ہی روایات کا یہ جماعت اعادہ کرتی رہی تو پھر اس کا مستقبل تاریک تر ہوتا جائے گا۔
آخر میں ہم عوامی حمایت سے محروم مذہبی جماعتوں کی سیاست پر ایک سرسری نظر ڈالیں گے۔ یہ جماعتیں مڈل اور لوئر مڈل کلاس پر مشتمل ہیں لیکن ان کے منشور میں عوام کی حاکمیت اور عوامی مسائل شاید ضمناً آتے ہیں۔ یہ جماعتیں مذہبی سیاست سے نکلنے کے لیے تیار نہیں اور پاکستان کے غریب عوام مذہب کا بے حد احترام کرنے کے باوجود مذہبی سیاست یا مذہب کے نام پر سیاست کرنے کو بالکل پسند نہیں کرتے، جس کا ثبوت 1970 سے 2013 تک ہونے والے انتخابات کے نتائج کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ یہ اس ملک اور قوم کی اجتماعی بدقسمتی ہے کہ اس ملک میں وہ جماعتیں ہمیشہ عوامی حمایت سے محروم رہیں جو مڈل اور لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہیں ان کی کمزوریاں زمینی اور صنعتی اشرافیہ کی طاقت بن گئی ہیں۔