حصص مارکیٹ میں محدود تیزی 70 پوائنٹس کا اضافہ

انڈیکس25853 پر بند،193 کمپنیوں کی قیمتیں بڑھ گئیں، 159 کے دام میں کمی


Business Reporter March 04, 2014
تیزی کے باوجود پونے 2 ارب کا نقصان، کاروباری حجم میں بہتری، 24 کروڑ حصص کے سودے۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

طالبان کی جانب جنگ بندی کے باقاعدہ اعلان نے کراچی اسٹاک ایکس چینج کے کاروبار پر پیر کو مثبت اثرات مرتب کیے اورکاروبار کے تمام دورانیے میں مارکیٹ مثبت زون میں رہی لیکن جنگ بندی کے باوجود بم دھماکوں کی نئی لہر نے سرمایہ کاروں کو مضطرب کردیا جس کی وجہ سے پیر کو توقعات کے مطابق بڑی نوعیت کی تیزی رونما نہ ہوسکی۔

تیزی کے سبب انڈیکس کی25800 کی حد بحال ہوگئی اور52.58 فیصد حصص کی قیمتیں اگرچہ بڑھ گئیں لیکن آل شیئرانڈیکس5.09 پوائنٹس کم ہوکر19277.31 کی سطح پر آنے حصص کی مالیت بڑھنے کے بجائے 1 ارب74 کروڑ18 لاکھ 68 ہزار28 روپے گھٹ گئی، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں کی جانب سے20 لاکھ 45 ہزار804 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے 4 لاکھ 92 ہزار 497 ڈالر اور میوچل فنڈز کی جانب سے10 لاکھ74 ہزار 789 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ مقامی کمپنیوں کی جانب سے 3 لاکھ 79 ہزار 839 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے21 لاکھ13 ہزار493 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے15 لاکھ 94 ہزار301 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔

ماہرین اسٹاک وتاجران کا کہنا ہے کہ پیر کو کاروبار کے ابتدا میں 262 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس کی26000 پوائنٹس کی حد بھی بحال ہوگئی تھی لیکن طالبان کی جانب سے جنگ بندی اور حکومت کی جانب سے بھی فضائی حملے نہ کرنے کے اعلان کے باوجود سرمایہ کاروں میں امن کے حوالے سے تحفظات پائے گئے جسکی وجہ سے بیشترشعبوں نے مارکیٹ میں رونما ہونے والی تیزی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے حصص کی آف لوڈنگ کو ترجیح دی جس سے تیزی کی شرح میں کمی واقع ہوئی نتیجتا کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 70.26 پوائنٹس کے اضافے سے 25853.54 ہو گیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 35.79 پوائنٹس کے اضافے سے 18790.97 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 209.47 پوائنٹس کے اضافے سے 43096.14 ہوگیا۔

کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت 2.62 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر24 کروڑ10 لاکھ37 ہزار920 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار367 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 193 کے بھاؤ میں اضافہ، 159 کے داموں میں کمی اور15 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔