حصص مارکیٹ میں تیزی کی بڑی لہر356 پوائنٹس کا اضافہ

مہنگائی توقعات سے کم، حکومت طالبان فائربندی اورسیاسی حالات میں بہتری پر مارکیٹ کا مثبت ردعمل


Business Reporter March 05, 2014
کراچی اسٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کے دوران بروکرز ڈیجیٹل بورڈ کے نیچے بیٹھے گفتگو کر رہے ہیں، فوٹو : آن لائن

KARACHI: مہنگائی کی شرح توقعات سے کم ہونے اور حکومت و طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے علاوہ سیاسی افق پر حالات قدرے بہتر ہونے کی امید کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں منگل کو قابل قدر نوعیت کی تیزی رونما ہوئی۔

جس سے نہ صرف انڈیکس کی 4حدیں بیک وقت بحال ہوگئیں بلکہ 54 فیصد حصص کی قیمتوں میں اضافہ اور حصص کی مالیت بھی 66 ارب5 کروڑ19 لاکھ84 ہزار721 روپے بڑھ گئی،ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں کی جانب سے3 لاکھ44 ہزار231 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے 10 لاکھ52 ہزار946 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے17 ہزار225 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے12 لاکھ20 ہزار339 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے1 کروڑ27 لاکھ 68 ہزار63 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 39 لاکھ37 ہزار47ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا جس سے ایک موقع پر80 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران میوچل فنڈز کی جانب سے کی جانے والی 1 کروڑ 93 لاکھ39 ہزار 879 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری نے مارکیٹ کی کایا پلٹ دی اور مندی تیزی میں تبدیلی ہو گئی نتیجتاً کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس355.84 پوائنٹس کے اضافے سے 26209.38 ہوگیا ۔

جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 310.23 پوائنٹس کے اضافے سے 19101.20 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس828.34 پوائنٹس کے اضافے سے43924.48 ہوگیا، کاروباری حجم پیر کی نسبت19 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر28 کروڑ71 لاکھ69 ہزار 740 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 373 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 201 کے بھاؤ میں اضافہ، 154 کے داموں میں کمی اور 18 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں رفحان میظ کے بھاؤ 207.49 روپے بڑھ کر 7794.73 روپے اور سیمینس پاکستان کے بھاؤ 60.11 روپے بڑھ کر 1262.36 روپے ہوگئے جبکہ وائتھ پاکستان کے بھاؤ 207.49 روپے کم ہو کر 3942.46 روپے اور آئیس لینڈ ٹیکسٹائل کے بھاؤ 54.49 روپے کم ہو کر 1036.11 روپے ہو گئے۔