کسان بھارت کو بلا تفریق مارکیٹ رسائی کیخلاف متحد احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا

لاہورسے31مارچ کولانگ مارچ،واہگہ پرمظاہرہ ودھرنادیاجائیگا،خوراک کیلیےدشمن کےرحم وکرم پرچھوڑاجارہا ہے،خالد محمود/حسن علی


Business Reporter March 06, 2014
کراچی: پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی صدر خالد محمودکھوکھر بھارت کو بلاامتیار مارکیٹ رسائی (این ڈی ایم اے) دینے کے خلاف پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں ۔ فوٹو : محمد ثاقب/ ایکسپریس

لاہور: آل پاکستان کسان اتحاد نے وفاقی حکومت کی جانب سے بھارت کو پاکستانی منڈی میں بلاتفریق رسائی کی سہولت کے خلاف لاہور سے 31 مارچ کو لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جس کا اختتام واہگہ بارڈر پر احتجاجی مظاہرے اور دھرنے کی شکل میں ہوگا۔ پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی صدر خالد محمود کھوکھر نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران احتجاجی مہم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ احتجاجی روڈ میپ دینے پر اس لیے مجبور ہوئے ہیں کہ حکومت نے ہماری تشویش پر کان نہیں دھرے اور اس افسر شاہی کی تجاویز پر عمل کررہی ہے جو قومی مفاد توکجا، صورت حال کی سنگینی کو بھی سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہاکہ یہ صورت حال پاکستان کی پوری آبادی کو خوراک کے لیے ہمارے پکے دشمن، بھارت کے رحم وکرم پر چھوڑ دے گی جو پہلے ہی ہمارے دریاؤں پر قابض ہے، یہ صورتحال پاکستان بھر کے کسانوں کے لیے ہر گز قابل قبول نہیں ہے۔

خالد کھوکھر نے کہا کہ کسان اس وقت تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے جب تک حکومت اپنے یہ فیصلہ واپس نہیں لے لیتی جو ہماری ریڑھ کی ہڈی یعنی زرعی شعبے کی خود مختاری کوتباہ کر دیں گے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کے رویے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس شعبے کی بہبود کا سرے سے خیال ہی نہیں کیا جس کا ملکی جی ڈی پی میں حصہ 21 فیصد ہے اور ملکی آبادی کے 25 فیصد کو روزگار کے مواقع فراہم کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو بلاامتیاز مارکیٹ رسائی (این ڈی ایم اے)کی حیثیت دینے میں حکام کی انتہائی سرعت سمجھ سے بالا ترہے، کوئی بھی ذمے دار حکومت ایسے کوئی بھی فیصلے سنجیدہ سوچ کے بغیر نہیںکرتی کیونکہ ایسی کسی اہم تبدیلی کو ہمیشہ مرحلہ وار اور عبوری طور پر متعارف کرانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارتی عدم توازن ایم ایف این یا این ڈی ایم اے کے حق میں پروپیگنڈا کرنے والوں کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے کیونہ گزشتہ 16برس میں ایم ایف این کا درجہ ملنے کے باوجود پاکستانی اشیا پڑوسی ملک کی منڈیوں میں جگہ بنانے میں ناکام رہی ہیں اور یہی حال مستقبل میںرہے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کا حجم 2.4ارب ڈالر کے قریب ہے جو پاکستان کو 1.84ارب کی برآمدات کے ساتھ بھارت کے حق میں جاتا ہے، بڑی سطح پر ٹیرف رکاوٹیں، پیچیدہ نان ٹیرف رکاوٹوں اور بے انتہا رعایتوں (بالواسطہ اور بلا واسطہ) کی وجہ سے پاکستان زرعی اشیا کے لیے واہگہ یا کسی اور زمینی روٹ کو کھولنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ سندھ چیمبر آف ایگریکلچرکے صدر حسن علی چاہنیونے کہاکہ زراعت کیلیے بھارتی نان ٹیرف رکاوٹیں پاکستان کی نسبت 5گنا زیادہ ہیں یعنی45 فیصد کے مقابل 9 فیصد لہٰذا زراعت کے حوالے سے پاکستان کو بھارت کے لیے برآمدات سے بہت کم کچھ حاصل ہو پائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 17 سال کے بعد صرف یہ فرق رہ جائے گا کہ بھارتیوں کو زراعت اور دیگر شعبوں میں ملنے والی بہت زیادہ رعایتوںکی وجہ سے پاکستانی اشیا اپنی ہی منڈیوں سے محروم ہو جائیں گی جبکہ بھارتی منڈی میں بھی انہیں کوئی قابل ذکر رسائی نہیںمل پائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت زرعی شعبے کو50 ارب ڈالر کی حد تک سبسڈیز فراہم کرتی ہے انہیں حاصل دیگر سہولتوں میں مفت بجلی، سستی یوریا، آبپاشی کیلیے پانی، کم قیمت پر بیج کی فراہمی، نقل و حمل کے سستے ذرائع، رعایتی قیمت پر کیڑے مار دوائیں اور ٹریکٹر جیسی زرعی مشینری شامل ہے، 26 فصلوں کی قیمت کو بھی سبسڈی فراہم کی گئی ہے، اس کے برعکس پاکستانی کسان مہنگی بجلی، مہنگی اور بلیک مارکیٹ میں دستیاب یوریا، مہنگے بیجوں، غیر معیاری زرعی مشینری اور جنرل سیلز ٹیکس کی وجہ سے ایک عذاب میں مبتلا ہیں، جنرل سیلز ٹیکس پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے انوکھا ٹیکس ہے کیونکہ دنیا کے کسی بھی ملک میں زرعی شعبے پرایسا کوئی ٹیکس عائد نہیں ہے۔