پاکستان ایشیامیں کارسازی کامرکزبن سکتاہےپرویزغیاث

مشکل حالات کے باوجودگاڑیوں کے60فیصدپرزہ جات کی مقامی سطح پرتیاری اہم پیشرفت ہے


Business Reporter March 06, 2014
لاہورآٹوشو سے وینڈرزکو نئی منڈیاں تلاش کرنے میں مدد ملے گی،سی ای او انڈس موٹرکمپنی فوٹو: فائل

FAISALABAD: پاکستان ایشیا کی آٹومینوفیکچرنگ اور برآمدات کا مرکز بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے، گاڑیوں کے 60فیصد پرزہ جات کی مقامی سطح پر تیاری اہم پیشرفت ہے۔

انڈس موٹر نے پاکستان میں لوکلائزیشن کے لیے 10 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے اور سال 2012-13 کے دوران مقامی ذرائع سے 18ارب روپے کے پارٹس اور دیگر پرزہ جات خریدے گئے جس سے مقامی صنعت کو استحکام ملا۔ انڈس موٹر کمپنی کے سی ای او پرویز غیاث کے مطابق لوکلائزیشن کو اجاگر کرنے کے لیے منعقدہ نمائش سے نہ صرف معاشی ترقی ممکن ہوگی بلکہ مقامی اور غیر ملکی سطح پر آٹو مارکیٹ کو فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی، نمائش کے لیے پاپام سے تعاون میں بھی یہی جذبہ کارفرما ہے۔

اس آٹو شو میں ہم ایک چھت تلے تمام وینڈرز کو جمع کرنے کے خواب کو پورا کرسکتے ہیں جہاں وہ مقامی سطح پر تیار کی جانے والی مصنوعات کی نمائش کرنے کے ساتھ نئی مارکیٹیں تلاش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود آٹو سیکٹر نے گزشتہ دہائی میں شاندار بہتری کا مظاہرہ کیا اور اب 60 فیصد پرزہ جات مقامی سطح پر تیار کیے جارہے ہیں، لاکھوں لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ جدید ترین ٹیکنالوجی کو منتقل کیا گیا، آج جس سطح پر گاڑیوں کے پرزہ جات مقامی طور پر تیار کیے جارہے ہیں وہ ثبوت ہے کہ کارساز اداروں نے لوکلائزیشن کیلیے اپنے عہد کی تکمیل کی، صرف آئی ایم سی نے 60 وینڈرز تیار اور 34 تکنیکی معاونتی معاہدے کیے تاکہ ملک میں ٹیکنالوجی کی منتقلی عمل میں آسکے۔