تعلیمی نظام کی گائیڈ لائن
ہمارا ملک پچھلے دس برسوں سے جس قتل و غارت گری کا شکار ہے اس کی ایک بڑی وجہ جہل ہے
ایف سی کالج کی 150 سالہ تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ ''دہشت گردی عوام کو نیا پاکستان بنانے سے نہیں روک سکتی، آئین عوام کو اقدار اور اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرتا ہے، آج یہ اقدار اور اصول خطرے میں ہیں، غیر ریاستی عناصر موت کا دھندہ کر رہے ہیں، جدید تعلیم حاصل کرنے والے کھلا ذہن رکھتے ہیں۔ اس سے دور رہنے والے عسکریت پسندی سے متاثر ہوتے ہیں۔''
چیف جسٹس، سپریم کورٹ کے سربراہ ہیں جو عوام کو انصاف فراہم کرتا ہے اور انصاف کی اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ کسی ریاست کی اچھی یا بری کارکردگی دیکھنا ہو تو مفکرین یہ دیکھتے ہیں کہ اس ریاست میں انصاف ہو رہا ہے یا نہیں؟ ایسے ادارے کے سربراہ جب اہم قومی مسائل پر اظہار رائے کرتے ہیں تو اس کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ چیف جسٹس نے ایسے وقت جب کہ سارا ملک خوف و دہشت کی چادر میں لپٹا ہوا ہے اور غیر ریاستی عناصر آئین کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ بچوں کے اسکولوں کو تباہ کر رہے ہیں ان مسائل پر عوام کو ایک گائیڈ لائن دینا اور عسکریت پسندوں کے خلاف آواز اٹھانے کا مشورہ دینا، یقینا ایک جرأت مندانہ اپروچ ہے جس کی تعریف کی جانی چاہیے۔ چیف جسٹس نے ملک میں قتل و غارت سمیت قوم کو درپیش تمام مسائل کی وجہ لبرل تعلیم سے دوری بتائی ہے جو سو فیصد درست ہے۔ انسان تعلیم کے بغیر نامکمل رہتا ہے لیکن اگر تعلیم انتہا پسندی، نفرت اور قتل و غارت کا راستہ دکھاتی ہے تو ایسی تعلیم انسان کو حیوان بنانے کا راستہ ہموار کرتی ہے اگر تعلیم انسانی ذہن کو وسیع النظر اور لبرل فکر کا حامل بناتی ہے تو ایسی تعلیم انسان کو ایک اچھا انسان محبت کرنے والا انسان بناتی ہے۔ اس تناظر میں اگر ہم چیف جسٹس کے خطاب کا جائزہ لیں تو موجودہ فکری انتشار کے تاریک ترین ماحول میں یہ خطاب روشنی کی ایک کرن دکھائی دیتا ہے۔
ہمارا ملک پچھلے دس برسوں سے جس قتل و غارت گری کا شکار ہے اس کی ایک بڑی وجہ جہل ہے لیکن اس کی دوسری بڑی وجہ عوام کی خاموشی ہے ظلم وجبر کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک عوام یعنی ظلم سہنے والے ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے چیف جسٹس نے عوام کی اسی کمزوری کی نشان دہی کرتے ہوئے انھیں یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھائیں۔ اسے ہم تاریخ کا ایک بدترین المیہ ہی کہہ سکتے ہیں کہ ہم پچھلے دس سالوں سے سر جھکا کر ظلم و جبر سہتے آ رہے ہیں۔ اس کے خلاف آواز اٹھانے اس کے خلاف سڑکوں پر آنے کی ہم نے زحمت ہی نہیں کی۔ یہ درست ہے کہ جب تک سیاسی قیادت عوام کی رہنمائی نہیں کرتی بکھرے، بٹے ہوئے اور خوفزدہ عوام از خود سڑکوں پر آنے سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں ہمارے حکمران اس قتل و غارت کے خلاف عوام کی رہنمائی کرنے اور انھیں سڑکوں پر لانے کے بجائے صرف مذمتی بیانات سے کام چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکمران طبقہ اس فضا کو تبدیل کرنے عوام کو خوف و دہشت کے حصار سے باہر نکالنے کے لیے کوئی مربوط پلان بنانے، کوئی جامع منصوبہ بندی اور موثر حکمت عملی بنانے کے بجائے بس پولیس اور رینجرز وغیرہ کو یہ حکم دیتا نظر آتا ہے کہ وہ فوری مجرموں کو گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کریں۔ نہ مجرم انصاف کے کٹہرے میں آ رہے ہیں نہ قتل و غارت رک رہی ہے اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ حکمران نااہل ہیں یا پھر وہ اس قتل و غارت کو روکنا ہی نہیں چاہتے۔ دونوں ہی صورتوں میں یہ طبقہ عوام کا مجرم اور بے گناہ عوام کے قتل کا بالواسطہ طور پر ذمے دار ہے۔ عوام طاقت کا سرچشمہ ہوتے ہیں مشرق وسطیٰ کی تحریکوں نے ثابت کر دیا ہے کہ عوام قوت کا سرچشمہ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بھی عوام نے 1968ء اور 1977ء میں یہ ثابت کر دیا تھا کہ وہی قوت کا سرچشمہ ہیں لیکن پچھلے دس سالوں سے ان پر جمود کیوں طاری ہے؟
اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں تو دو بڑی وجوہات ہماری نظر میں آتی ہیں۔ ایک قیادت کا مجرمانہ کردار دوسرے عسکریت پسندوں کے شریعت نافذ کرنے کے نعرے۔ ہماری سیاسی قیادت اس حوالے سے انتہائی بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے وہ نہ خود متحد ہے نہ اس حوالے سے عوام کو متحد کرنے کی ذمے داری ادا کر رہی ہے۔ اگرچہ بعض مذہبی اور سیاسی جماعتیں اس ظلم و جبر کے خلاف آواز بھی اٹھا رہی ہیں اور عوام کو سڑکوں پر بھی لا رہی ہیں۔ اس حوالے سے متحدہ کی تاریخی ریلی خاص طور پر قابل ذکر ہے لیکن ہمیں جن سنگین مسائل کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کے لیے اس ملک کے عوام کو متحرک ہونا پڑے گا۔ حیرت ہے کہ ایوبی آمریت کے خلاف اور بھٹو کی الیکشن میں نام نہاد دھاندلی کے خلاف لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر آ جانے والے عوام دس سال سے خاموشی کے ساتھ قتل ہو رہے ہیں اور ٹس سے مس ہونے کے لیے تیار نہیں۔ اس کی دوسری وجہ عسکریت پسندوں کے شریعت نافذ کرنے کے نعرے ہیں۔ عوام کا ایک حصہ جو سیاسی حکمرانوں کی 66 سالہ کارکردگی سے سخت مایوس ہے یہ امید کر رہا ہے کہ شاید مذہب کا نام لینے والے ان کے مسائل حل کریں؟ یہ امید بھی عوام کو باہر نکلنے سے روک رہی ہے یہ سیاسی قیادت کی ذمے داری ہے کہ وہ عوام کو خوف و دہشت کی فضا اور غیر منطقی امیدوں کے سحر سے باہر نکالے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ سیاسی قیادت انتہائی بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے تو مذہبی قیادت دوغلی اور منافقانہ سیاست کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جرم خواہ اس کی نوعیت کچھ ہی کیوں نہ ہو جہل کا نتیجہ ہوتے ہیں علم جہل اور برائیاں ختم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن اگر علم تعصبات اور نفرتوں پر مبنی ہو تو جہل اور جرائم ختم کرنے کے بجائے ان کے فروغ کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔غالباً اسی تناظر میں چیف جسٹس نے ہمارے تمام مسائل کی ذمے داری لبرل تعلیم سے دوری بتائی ہے لبرل تعلیم کا واحد مطلب تعصب اور نفرتوں سے پاک علم کے علاوہ کچھ نہیں۔
کہا جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں 60 ہزار مدرسے موجود ہیں جن میں 20 لاکھ طلبا زیر تعلیم ہیں۔ دینی مدرسوں میں تعلیم ہی مفت نہیں فراہم کی جاتی بلکہ کھانا اور رہائش بھی مفت فراہم کی جاتی ہیں اور ان مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی اکثریت ایسی ہوتی ہے جن کے ماں باپ اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات ادا کرنے سے قاصر ہوتے ہیں، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے مدرسوں کا نصاب آج کی تعلیمی ضرورتوں کے مطابق نہیں بلکہ انھیں ایسے راستوں پر لے جاتا ہے۔ جسے ہم عسکریت پسندی کا راستہ کہتے ہیں۔ اس حوالے سے اس افسوسناک حقیقت پر نظر ڈالنا ضروری ہے کہ 60 ہزار مدرسوں میں مفت تعلیم، مفت کھانا، مفت رہائش کے بھاری اخراجات کس طرح پورے کیے جا رہے ہیں؟ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ مدرسوں کی ایک بڑی تعداد کے منتظمین اپنی کوششوں سے یہ اخراجات پورے کر رہے ہیں اور بچوں کو دینی تعلیم دینے میں بھی وہ مخلص ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض بیرونی طاقتیں اپنے فقہی نظریات کی تکمیل کے لیے ان مدرسوں کو خطیر رقوم فراہم کر رہی ہیں۔
غالباً ان ہی حقائق اور کمزوریوں نے ہماری حکومت کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ تمام مدارس کو مرکزی نظام تعلیم میں شامل کرنے کے جتن کر رہے ہیں۔ ایک خبر کے مطابق حکومت نے اپنی قومی سلامتی پالیسی کے تحت تمام مذہبی مدرسوں کو ایک سال کے اندر اندر قومی نظام تعلیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیر داخلہ نے قومی اسمبلی میں پالیسی دستاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ''تمام مدرسے مسئلہ نہیں بن رہے ہیں لیکن ''کچھ'' مدرسے انتہا پسندی پھیلا رہے ہیں۔ دہشت گردوں کی اکثریت ان ہی مدرسوں میں زیر تعلیم رہی ہے، جہاں ان کی ہتھیار اٹھانے کے لیے برین واشنگ ہوتی ہے''۔ وزیر داخلہ اور حکومت کی قومی تعلیمی پالیسی ایک مثبت سمت میں پیش رفت ہے۔ لیکن ہماری قومی تعلیمی پالیسی میں چیف جسٹس آف پاکستان کے اس مشورے کو گائیڈ لائن کی حیثیت دینی چاہیے کہ ''لبرل تعلیم سے دوری ہی ہمارے تمام مسائل کی بڑی وجہ ہے'' دینی مدارس کی انتظامیہ سے بھی عوام توقع کرتے ہیں کہ وہ حکومت کی مثبت کوششوں میں اس کا ساتھ دیں۔