برآمدی شعبوں کی زیرریٹنگ ختمریفنڈزدینے کامطالبہ

ریفنڈزروکنے اورپیداواری اخراجات میں اضافے کے باعث ایکسپورٹرزبحران کا شکارہیں


Business Reporter March 09, 2014
ریفنڈزروکنے اورپیداواری اخراجات میں اضافے کے باعث ایکسپورٹرزبحران کا شکارہیں۔فوٹو:فائل

وفاقی حکومت اگر5 برآمدی سیکٹرز کا زیروریٹنگ کا درجہ بحال اورسیلز ٹیکس ریفنڈ وکسٹمز ری بیٹ کی مد میں پھنسے ہوئے اربوں روپے مالیت کی ادائیگیاں کردی جائیں تو جی ایس پی پلس سے مکمل استفادہ ممکن ہے۔

یہ بات زبیرموتی والا کی صدارت میں کونسل آف آل پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز (کیپٹا) کے منعقدہ ہنگامی اجلاس میں کہی گئی۔ اجلاس میں وزارت ٹیکسٹائل انڈسٹری اور ایف بی آر کے اعلیٰ حکام کے ساتھ منعقدہونے والے حالیہ اجلاسوں کا جائزہ لیتے ہوئے اتفاق کیا گیا کہ سیلز ٹیکس ریفنڈ کلیمز، کسٹمز ری بیٹ کلیمز کی ادائیگی نہ ہونے اور پیداواری اخراجات بڑھنے سے برآمدکنندگان شدید مالی بحران کا شکار ہیں اور اس سنگین صورتحال میں حکومت جی ایس پی پلس سے بھرپور استفادہ کر کے برآمدات میں اضافے پر زور دے رہی ہے، ادھر بزنس کمیونٹی کو انفرااسٹرکچر امن و امان اور بجلی گھروں کی استعداد سے کم پیداوار کے سنجیدہ مسائل کا بھی سامنا ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ وفاقی وزیر خزانہ کو جی ایس پی پلس اور مطلوبہ انفرااسٹرکچر ضروریات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی تھی جسے انہوں نے سراہا تھا۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ برآمدی سیکٹرز کو دوبارہ زیروریٹنگ پر بحال کیا جائے اور انہیں درپیش تمام مسائل اور رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے۔

اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ مسائل کے حل کیلیے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر تجارت و ٹیکسٹائل انڈسٹری انجنئیر خرم دستگیر، چیئرمین ایف بی ار اور ان کی ٹیم سے ملاقاتیں کی جائیں گی اور انہیں برآمدات میں فروغ اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے سنگین مسئلے پر قابو پانے سے متعلق قابل عمل تجاویز پیش کی جائیں گی۔ اجلاس میں اس امید کا اظہار کیا گیا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار برآمدات میں مزید اضافے، مزید زرمبادلہ کے حصول اور مزید روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے جارحانہ اقدامات کرینگے۔ اجلاس میں وزیر خزانہ سے فوری تفصیلی ملاقات کا وقت دینے کی اپیل بھی کی گئی۔ اجلاس میں پاکستان ایپرل فورم کے چیئرمین جاوید بلوانی، پاکستان بیڈویئرایسوسی ایشن کے نقی باڑی، پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے عرفان باوانی، پاکستان نٹ ویئر اینڈ سویٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندے کامران چاندنہ اور رفیق گوڈیل، پاکستان کاٹن فیشن ایپرل ایسوسی ایشن کے خواجہ عثمان، پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹ ایسوسی ایشن کے ارشد عزیز، ٹاؤلز مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین افتخار احمد ملک، پاکستان کلاتھ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین عابد چنائے اورآل پاکستان ٹیکسٹائل پروسسنگ ملزایسوسی ایشن کے چیئرمین اقبال لاکھانی بھی موجودتھے۔