فلم انڈسٹری کی تباہی کے اثرات میوزک پر نہیں پڑےصابرعلی

پہلی بار نورجہاں کے گانے کو میوزک دیا، عیسیٰ خیلوی کے 70کیسٹ ریکارڈ کروائے


Numainda Express March 09, 2014
پہلی بار نورجہاں کے گانے کو میوزک دیا، عیسیٰ خیلوی کے 70کیسٹ ریکارڈ کروائے۔فوٹو:فائل

پاکستانی فلم انڈسٹری کے معروف میوزک ڈائریکٹر صابر علی نے کہا ہے کہ پاکستانی فلم انڈسٹری اسوقت زوال پذیر بلکہ تباہی کا شکار ہے لیکن فلم انڈسٹری پر زوال کے اثرات میوزک پر نہیں پڑے۔

ایکسپریس سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مجھے میوزک کی دنیا میں قدم رکھے 50سال ہو گئے، رحمان ورما کی شاگردی اختیارکی اور لالہ سدھیر نے مجھے پہلی بار جب فلم میں میوزک ڈائریکٹریشن کی دعوت دی، میں ابھی بہت کم عمر تھا، اس گانے کو نورجہاں پر پکچرائز کیا جانا تھا ۔ اسوقت کے بہت بڑے بڑے میوزیشنز کی موجودگی میں کام کرنے کے لیے پہلے میں بہت نروس ہوا اور پھر ہمت کرکے اپنے کیرئیر کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔

اس وقت نورجہاں ایک گانے کا5 ہزار روپے معاوضہ لیتی تھیں جس میں ایک ہزار روپے انھوں نے مجھے حوصلہ افزائی کے لیے بطور انعام دیے۔ میں نے عطاء اللہ خان عیسویٰ خیلوی کے 70 کیسٹ ریکارڈ کروائے۔ علاوہ ازیں مہدی حسن، نور جہاں، مالا جی، ناہید اختر و دیگر گلوکاروں کے ساتھ کام کیا۔ پاک بھارت مشترکہ پروڈکشن میں ایک فلم ''چمپئن آف لائر'' (جھوٹوں کا بادشاہ) بن رہی ہے یہ انڈیا کے پروڈیوسرراج ببرکی کاوش ہے جس کا میں میوزک دے رہا ہوں، اے آر رحمان اچھا میوزک ڈائریکٹر ہے لیکن نئے میوزک ڈائریکٹرز دماغ سے کام کم جب کہ کمپیوٹر پر بیٹھ کر انٹرنیٹ سے زیادہ فائدہ لیتے ہیں، ماضی کے موسیقار دل سے دھنیں بناتے تھے جوآج تک مقبول ہیں۔