فوج کا مذاکرات کا حصہ نہ بننا خوش آئند ہے منور حسن

تھر کے بچوں کے قتل کا مقدمہ ناچ گانوں میں مگن رہنے والے حکمرانوں کیخلاف درج کیا جائے


Numainda Express March 09, 2014
تھر کے بچوں کے قتل کا مقدمہ ناچ گانوں میں مگن رہنے والے حکمرانوں کیخلاف درج کیا جائے۔ فوٹو: فائل

امیر جماعت اسلامی سید منورحسن نے کہا ہے کہ وزیر اعظم طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی کیلیے وزیروں مشیروں کی بیان بازی پر پابندی لگائیں۔

جب وزیر داخلہ فوکل پرسن ہیں تو پھر بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والوں کو کیوں نہیں روکا جارہا؟ وہ وزیر دفاع خواجہ آصف کے آپریشن کے حوالے سے انٹرویو پر تبصرہ کررہے تھے۔ منورحسن نے کہاکہ فوج کی طرف سے مذاکراتی عمل کا حصہ نہ بننے اور حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کا بیان خوش آئند ہے، انھوں نے کہا ہے تھر میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے قتل کا مقدمہ ان حکمرانوں کے خلاف درج ہونا چاہیے جو سندھ فیسٹیول کے نام سے 15 دن تک ناچ گانوں میں مگن رہے ،انھوں نے کہا ایک طرف وزیر اعظم اور سابق صدر زرداری تھرکول منصوبے کا افتتاح کرکے سندھ کی ترقی کے دعوے کررہے تھے تو دوسری طرف زندگی روٹی کے ایک ایک نوالے اور پانی کے ایک ایک گھونٹ کو ترستی دم توڑ رہی تھی، انھوں نے متاثرہ علاقوں میں الخدمت فائونڈیشن کی امدادی سرگرمیوں کومزید فعال اور بہتر بنانے کی ہدایت کی ۔