ایشیاکپ: سری لنکا میزبانی کو تیار، ایونٹ 27 اگست سے شروع ہونے کا امکان

اسپورٹس ڈیسک  جمعرات 7 جولائ 2022
(فوٹو: ٹوئٹر)

(فوٹو: ٹوئٹر)

کراچی: ایشیاکپ سے ڈالرز آتے دیکھ کر سری لنکا کی آنکھوں میں چمک آگئی جبکہ میچز 27 اگست سے 11 ستمبر تک ممکنہ طور پر کولمبو اور کینڈی میں کھیلے جائیں گے۔

سری لنکن بورڈ کو ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کی جانب سے ایونٹ منعقد کروانے کا گرین سگنل مل گیا ہے، ٹی20 ورلڈکپ کے سبب رواں سال ایشیاکپ ٹی ٹوئنٹی طرز پر کھیلا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق ایشیاکپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ 21 اگست سے شروع ہوں گے، جہاں نیپال، متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، عمان اور ہانگ کانگ کی ٹیمیں ایک دوسرے کے مدمقابل آئیں گی جبکہ ایونٹ کے میزبان سری لنکا، پاکستان، بھارت، افغانستان، بنگلہ دیش پہلے ہی کوائیفائی کرچکے ہیں۔

رپورٹس میں بتایا جارہا ہے کہ پاک بھارت ٹیمیں ٹی20 ورلڈکپ سے قبل ایشیاکپ میں 28 اگست کو ایک دوسرے کے مدمقابل آئیں گی۔

دوسری جانب سری لنکن بورڈ معاشی بحران کے باوجود ٹورنامنٹ کے شایان شان انداز میں انعقاد کیلیے پراعتماد ہے، ملک میں معاشی بحران، فیول کی کمی اور دیگر مسائل کی وجہ سے بعض ایشیائی ممالک کو ایشیا کپ کے سری لنکا میں انعقاد پر تحفظات تھے۔

ایس ایل سی کے چیف ایگزیکٹیو ایشلے ڈی سلوا نے کہا کہ ہم نے میگا ایونٹ شیڈول کے مطابق اپنے ہی ملک میں کرانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، پاکستانی ٹیم ٹیسٹ سیریز کھیلنے کیلیے یہاں پہنچ چکی ، لنکا پریمیئر لیگ 31 جولائی سے شروع ہونے والی ہے، ہم اپنے تمام منصوبوں پر کامیابی کے ساتھ عمل کررہے ہیں، آسٹریلوی ٹیم پہلے ہی سری لنکا میں موجود اور اس کے ساتھ ٹی 20 اور ون ڈے سیریز عمدگی سے انجام پاچکی ، اب دوسرا ٹیسٹ کھیلا جانے والا ہے۔

مزید پڑھیں: ایشیاکپ 2022؛ سری لنکا کو 50 لاکھ ڈالر سے زائد کا نقصان ہوسکتا ہے، رپورٹ

ماہرین کے مطابق سری لنکن بورڈ کیلیے موجودہ صورتحال میں 2 یا زائد ٹیموں کی میزبانی کسی چیلنج سے کم نہیں، یہ بات ڈی سلوا بھی تسلیم کرتے ہیں، انھوں نے کہاکہ میں جانتا ہوں یہ سب کچھ بہت مشکل ہوگا لیکن وزیر کھیل اور وزیر سیاحت دونوں نے ہمیں ٹورنامنٹ کے پْرامن انعقاد اور مکمل سپورٹ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ایندھن کی کمی کے حوالے سے ڈی سلوا نے کہا کہ ہم نے ہوٹلز سے بھی ضمانت لے لی کہ وہ ایونٹ کے دوران پہلے سے ہی اپنے جنریٹرز کیلیے فیول کا انتظام کرلیں گی اور ٹیموں کو بہترین کھانوں کی بلاتعطل فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے گا، اس کے ساتھ ہم بڑے یو پی ایس بھی حاصل کررہے ہیں، آسٹریلیا سے سیریز کیلیے بھی ہم نے بڑی مقدار میں ڈیزل خرید لیا تھا، اسٹیڈیم کے باہر ڈیزل والی گاڑی موجود اور اس سے جنریٹر کو فیول فراہم کیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ملک میں سیاحت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، اگر ہم ایشیا کپ کا کامیاب انعقاد کرتے ہیں تو پھر اس کے ساتھ کچھ کوالیفائرز بھی یہاں پر کھیلے جائیں گے، اس طرح خطیر آمدنی ہوگی، اس ٹورنامنٹ کی سب سے اچھی بات یہ بھی ہے کہ اس کے ساتھ ملک میں بہت سارا زرمبادلہ بھی آئے گا، تمام ٹیموں کو ڈالرز میں ادائیگی کی جائے گی، آپریشنل اخراجات اور ہوٹلز کے بل بھی ڈالرز میں ادا کیے جائیں گے، ایشیا کپ کے دوران ملک میں 3 سے 4 ملین ڈالر کا ریونیو آئے گا، صرف یہی نہیں جب آپ ایشیا کپ کھیلتے ہیں تو پھر ڈسٹری بیوشن فنڈ بھی تقسیم ہوتا ہے، اس سے تمام ٹیموں کو مناسب حصہ ملے گا، مہمان ٹیموں کے روزہ مرہ کے اخراجات کیلیے بھی ڈالرز ادا کیے جائیں گے، دوسرے ممالک سے آنے والی ٹیمیں بھی اپنے ساتھ ڈالرز لائیں گی۔

مزید پڑھیں: ایشیاکپ پر چھائے سیاہ بادل تیزی سے چھٹنے لگے

ڈی سلوا نے مزید کہا کہ اگرچہ اس ٹورنامنٹ کی کوئی میزبانی فیس نہیں ہے لیکن میچ ٹکٹوں کی فروخت سے بورڈ کو ہی فائدہ حاصل ہوگا، راؤنڈ روبن فارمیٹ کے تحت کھیلے جانے والے ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں کم سے کم 2 مرتبہ ایک دوسرے کے مدمقابل آئیں گی، آئی سی سی ورلڈ کپ میں ان حریف ممالک کے درمیان میچ کی ٹکٹیں ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوچکی ہیں،اس لیے سری لنکا کرکٹ کو بھی ایشیا کپ میں اس سے فائدہ پہنچے گا،اے سی سی سے ڈسٹری بیوشن فنڈ کی صورت میں 2 سے 3 ملین ڈالر الگ سے بھی موصول ہوں گے، ٹورنامنٹ میں پاکستان، بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش اور افغانستان کی ٹیمیں براہ راست شریک ہوں گی جبکہ اضافی ایک ٹیم کے انتخاب کیلیے کوالیفائنگ راؤنڈ ہوگا،اس میں یواے ای، کویت، سنگاپور اور ہانگ کانگ کی ٹیمیں شریک ہوں گی۔

ڈی سلوا نے کہا ایشیا کپ کے میچز ممکنہ طور پر کولمبو اور کینڈی میں کھیلے جائیں گے مگر ابھی ہم نے انھیں فائنل نہیں کیا، امید ہے کہ اگلے ایک سے 2 ہفتوں میں حتمی فیصلہ ہو جائے گا، ایک گروپ کولمبو اور دوسرا کینڈی میں میچز کھیلے گا، فائنل رائونڈ مقابلے کولمبو میں ہی ہونگے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔