فیڈریشن نے بھارت کو بلاامتیاز مارکیٹ رسائی کی حمایت کردی

حکومتی اقدام سے چند سال میں پاک بھارت تجارت 10 ارب ڈالرتک پہنچ جائیگی، ذکریاعثمان


Business Reporter March 11, 2014
وزیر اعظم اور وزیر تجارت سے فیصلے کو حتمی شکل دینے کے لیے ذاتی دلچسپی لینے کی اپیل۔ فوٹو: فائل

ایف پی سی سی آئی نے بھارت کو پاکستانی منڈی تک بلاامتیاز رسائی کی حمایت کردی ہے۔

بھارت کی طرف سے 300 پاکستانی اشیا پر ٹیرف میں کمی اور تجارت میں حائل تمام نان ٹیرف رکا وٹوں کو ختم کر نے پر رضامندی کا اظہار کرنے پر بھارت کو بلاامتیار مارکیٹ رسائی (این ڈی ایم اے) کا در جہ دینے کے لیے موجودہ حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے فیڈریشن آف پا کستا ن چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹر ی کے صدر ذکریا عثمان نے کہا کہ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کے فر وغ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور اس سے چند سال میں باہمی تجارت 10 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے وزیراعظم اور وزیر تجارت پر زور دیا کہ وہ اس فیصلے کو حتمی شکل دینے میں ذاتی دلچسپی لیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت میں اضافے کے لیے کوششیں بارآور ثابت ہوں اور دو نوں ملکوں کو اس کا فا ئد ہ پہنچے۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کو ڈبلیوٹی او کا ممبر ملک بننے کے بعد 1996 میں پسندیدہ قوم ( (ایم ایف این) کا در جہ دیا تھا جس کے بعد بھارت کی پاکستان میں ایکسپورٹ میں بتدریج اضافہ شروع ہوا لیکن پاکستان کی ایکسپورٹ بھارت کے لیے آج بھی بہت کم ہے، بھارت کو این ٹی ایم اے کا در جہ دینے اور اسکی طر ف سے پاکستان کے لیے تجارتی ترغیبات سے فائدہ اٹھانے سے دونوں ممالک کے درمیان با ہمی تجارت میں اضا فہ ہو گا، بھارت کو این ڈی ایم اے کا در جہ دینے سے دونوں ممالک کے منیوفیکچررز میں مسابقت میں بہتری آئے گی اور دنوں ممالک کے درمیان تجارت معمول پر آنے سے سارک ممالک کے مابین سافٹا پر بھی اثر پڑے گا جو 2016 سے لا گو ہوگا اور جس کے تحت ٹیرف زیرو ہوجائے گا۔

دونوں ممالک کا کاروباری طبقہ سرمایہ کاری میں مضبوط تعلقات رکھنے کا خواہاں ہے اور ان دونوں ممالک کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری معمول پر آنے سے دونوں طرف روزگار بڑھے گا، غربت میں کمی اور دونوں ملکوں میں امن اور خو شحالی آئے گی ۔ زکریا عثمان نے کہا کہ یہ دور گلوبلائز یشن کا ہے اور دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اپنے بیشتر معاشی ذرائع کو غیرضروری سیکٹرز کے بجائے ضروری سیکٹرز پر استعمال کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کی بڑی مارکیٹ ہے اور پاکستانی منیوفیکچررز اور ایکسپورٹرز کو جارحانہ مارکیٹنگ اور کوالٹی مصنوعات سے بھارتی مارکیٹ سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے روشن امکانات کودیکھتے ہوئے پاکستانی حکام کو واہگہ بارڈر پر ضروری سہولتیں فراہم کرنی چاہئیں۔ انھوں نے امید ظاہر کہ این ڈی ایم اے کے بعد بارڈر کے دونوں اطرا ف 8 ہزار اشیا کا کاروبار ہو سکے گا۔