کنیریا نے جمع پونجی میچ فکسنگ کا الزام دھونے پر لٹا دی

انگلش کرکٹ بورڈ کی ڈسپلنری کمیٹی نے میری ایک نہ سنی اور اپنی ساکھ بچانے کیلیے مجھے قربانی کا بکرا بنا دیا، کنیریا


Sports Reporter March 12, 2014
انگلش کرکٹ بورڈ کی ڈسپلنری کمیٹی نے میری ایک نہ سنی اور اپنی ساکھ بچانے کیلیے مجھے قربانی کا بکرا بنا دیا، کنیریا ۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

دانش کنیریا نے اپنی جمع پونجی میچ فکسنگ کا الزام دھونے پر لٹا دی،کمرشل کورٹ میں تاحیات پابندی کے خلاف اپیل کی سماعت کیلیے 46 لاکھ 30 ہزار روپے عزیز و اقارب کی معاونت سے اکٹھے کیے، لیگ اسپنر نے شکوہ کیا ہے کوئی قصور ثابت نہ ہونے کے باوجود مجھے عمر بھر کیلیے دیوار سے کیوں لگا دیا گیا؟۔

تفصیلات کے مطابق دانش کنیریا میچ فکسنگ کا الزام ختم کرانے پر بھاری رقم خرچ کر چکے ہیں،انگلینڈ کے کمرشل کورٹ میں تاحیات پابندی کے خلاف اپیل کی سماعت کیلیے سیکیورٹی فیس کے 28 ہزار پائونڈ( 46 لاکھ 30 ہزار روپے) بھی انھوں نے عزیز و اقارب کی معاونت سے اکٹھے کیے ہیں،جج کا کہنا تھا کہ اگر فوری طور پر رقم کا انتظام نہ کیا گیا تو 11اپریل کو کیس کی سماعت نہیں ہوسکے گی، لیگ اسپنر خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے آخری موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتے تھے، اس لیے جیسے تیسے رقم کا انتظام کرلیا۔ ایک انٹرویو میں دانش کنیریا نے کہاکہ مجھ پر براہ راست میچ فکسنگ کے بجائے مرون ویسٹ فیلڈ کی حوصلہ افزائی کا الزام تھا، ایسیکس کائونٹی کے ساتھی کھلاڑی کو سزا سنائے جانے کے وقت جج میرے بارے میں بھی تحقیقات کیلیے کہہ سکتا تھا لیکن کوئی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے کلیئر کردیا۔

انگلش کرکٹ بورڈ کی ڈسپلنری کمیٹی نے میری ایک نہ سنی اور اپنی ساکھ بچانے کیلیے مجھے قربانی کا بکرا بنا دیا، ثبوت کیلیے مسیج، فون کال یا کوئی اور ریکارڈنہ ہونے کے باوجود پی سی بی نے بھی میرے کیس میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی، جو کچھ کمایا تھا اکیلا ہی قانونی جنگ لڑتے ہوئے خرچ کرچکا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ذکا اشرف نے کیس ریویو کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن نجم سیٹھی عبوری چیئرمین بنے تو انکار کردیا، انھیں ایک بار پھر درخواست بھجوا چکا ہوں، وزیر اعظم نواز شریف سے بھی اپیل ہے کہ بے بنیاد الزام کے بوجھ سے آزاد کرنے کیلیے میری مدد کی جائے۔ حیرت کی بات ہے کہ اسپاٹ فکسنگ کیس میں جیل جانے والوں پر بھی آئی سی سی کی پابندی بھی آئندہ برس ختم ہوجائے گی لیکن مجھے پر تاحیات قدغن برقرار رہے گی۔