ڈالر کی قیمت کے گاڑیوں پر اثرات 4 ماہ بعد نکلیں گے مینوفیکچررز

ایک سال میں لاگت میں نمایاں اضافے کے باوجود کاروں کی قیمتیں ایک ہی سطح رکھیں


Business Reporter March 13, 2014
ایک سال میں لاگت میں نمایاں اضافے کے باوجود کاروں کی قیمتیں ایک ہی سطح رکھیں۔ فوٹو: فائل

پاکستان آٹو موبائل مینوفیکچررز اسمبلرز ڈیلرز ایسوسی ایشن (پاماڈا) کے صدر اقبال شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتیں خطے کے بہت سے ممالک کی نسبت کم ہیں لیکن مقامی کرنسی میں افراط زر، بیرونی کرنسیوں کے مقابلے میں قدر کی کمی اور دیگر عوامل کی وجہ سے کار بنانے والوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑتا ہے۔

کار کی قیمتیں زرمبادلہ میں فوری کمی بیشی کے اثرات کی وجہ سے بڑھائی یا کم نہیں کی جاتیں، امریکی ڈالر میں ہونے والی کمی کے اثرات ان گاڑیوں پر اثر انداز ہوں گے جو 4-3 ماہ کے بعد تیار کی جائیں گی کیونکہ پیداوار سے متعلق زیادہ تر سامان خریدا جا چکا ہے جبکہ کچھ خریدا ہوا سامان سمندری راستوں پر گامزن ہے تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ OEM میں سے ایک نے حال ہی میں اپنے ایک اسٹینڈرڈ ماڈل کی قیمت میں 90,000 روپے کی کمی کر کے اپنے صارفین کو منفرد پیشکش کی ہے۔ پاماڈا کے سربراہ نے کہا کہ مقامی آٹو صنعت کو نئی گاڑیوں کی قیمتیں کم نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہاہے جبکہ پاکستانی روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں اضافہ صرف گزشتہ چند دن میں ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مطالبہ انتہائی غیر منصفانہ ہے کیونکہ گاڑیوں کی قیمت میں ایکس چینج کی شرح ہی محض ایک عنصر نہیں ہوتی، مقامی آٹو صنعت نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران اپنی لاگت میں بھاری اضافے کے باوجود قیمتوں کو ایک ہی سطح پر رکھا ہے جبکہ بجٹ اقدامات میں گاڑیوں کی قیمتوں پر پڑنے والے اثرات کار مینوفیکچررز کا فیصلہ نہیں ہے، فاریکس کا مختصر ترین اثر سال کے دوران صارفین کو منتقل جبکہ باقی ماندہ کو جذب کر لیا گیا تھا اور مقامی صنعت کی جانب سے لاگت کو کم کرنے کی کوششیں کی گئی تھیں۔