روپے کی بے قدری کی وجہ سٹے بازی تھی وفاقی وزیر تجارت

مالی منڈی میں اچانک تبدیلی سے تاجروں کو نقصان ہوا، اب مارکیٹ مستحکم ہو جائیگی


Numainda Express March 13, 2014
مہنگائی میں کمی اور ایکسپورٹ وسرمایہ کاری بڑھے گی، سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیر تجارت و ٹیکسٹائل انڈسٹری انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ حکومت معاشی ترقی کے لیے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں استحکام لائے گی، ملک میں روپے کی قدر میں کمی سٹہ بازی کی وجہ سے ہوئی تھی لیکن حکومتی اقدامات کے نتیجے میں اب یہ بڑھ گئی ہے معیشت کو مضبوط بنائیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا جو چیئرمین حاجی غلام علی کی زیرصدارت ہوا، اجلاس میں سینیٹرز عبدالحسیب خان، ڈاکڑ کریم احمد خواجہ، کلثوم پروین، سعیدالحسن مندوخیل، حاجی سیف اللہ خان بنگش، ایڈیشنل سیکریٹری کامرس، ممبر فیڈرل بورڈ آف ریونیو، سیکریٹری ٹیکسٹائل انڈسٹری و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر انجینئر خرم دستگیر نے کہا کہ مالیاتی منڈی میں اچانک تبدیلی سے تاجروں کو بڑا نقصان ہوا تاہم اب مارکیٹ مستحکم ہو جائے گی۔ اس موقع پر چیئرمین حاجی غلام علی نے کہا کہ خزانہ و تجارت کی وزارتوں کے اقدامات سے ڈالر کی قیمت میں کمی ہوئی، حکومت تاجروں کو عالمی معیار کے مطابق سہولتیں فراہم کرے تاکہ ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہو اور پاکستان کی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکے، پاکستان پوری دنیا خاص طور پر وسط ایشیائی ملکوں کیلیے بہترین منڈی ثابت ہوسکتا ہے۔

خرم دستگیر نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان میں ڈالر کا وسیع کاروبار ہوتا ہے اور تاجروں کا ایک گروپ اپنی رقم کا ایک مخصوص حصہ بیرون ممالک رکھتا ہے، حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ ڈالر کو سو روپے پر لائے گی تو حکومت نے وعدہ پورا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں مزید کمی، تجارتی روابط کو فروغ اور سرمایہ کارڈالر کی قیمت میں ٹھہراؤ کے باعث سرمایہ کاری بڑھائیں گے، ملکی معیشت اور جی ڈی پی میں مزید بہتری ہو گی اور ایکسپورٹ میں اضافہ ہوگا۔