ڈالر مزید گرنے والا ہے لوگ بیرون ملک سے کرنسی واپس لے آئیں اسحٰق ڈار

قدرگھٹنے کا فائدہ عوام کو دیا جائیگا، ڈالر بیچنے والوں کی لائنیں لگ گئیں،100روپے سے نیچے لانے کا وعدہ پورا کردیا


INP/این این آئی March 13, 2014
مہنگائی میں کمی سے کچھ ذہنی مریض پریشان ہیں،امن مذاکرات ناکام ہوئے تودوسرا آپشن ہے خواہ اسکی مالی لاگت کچھ بھی ہو، پریس بریفنگ فوٹو : اے پی پی

وفاقی وزیرخزانہ سینیٹراسحاق ڈارنے ڈالرکی قیمت میں کمی کوخوش آئندقرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روپیہ مضبوط ہونے سے لوگوں کا اعتمادبحال ہوچکا ہے۔

ڈالرکی قیمت میں کمی کافائدہ عوام کودیا جائے گا۔ ڈالرمزید گرنے والاہے، لوگ بیرون ملک سے اپنے ڈالر واپس لے آئیں۔ 2025تک پاکستان کودنیا کی18ویں بڑی معیشت بنادیں گے۔ میڈیاکو بریفنگ میں انھوں نے کہاکہ ڈالرکو 100روپے سے نیچے لانے کاوعدہ پوراکر دیا ہے۔ روپے کومزید مستحکم کریں گے۔ زرمبادلہ کے ذخائر 9.52 ارب ڈالرتک پہنچ گئے۔ رواںمالی سال کے 8ماہ میں 1348ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کیں جو گزشتہ سال سے 17فیصد زیادہ ہیں۔ ڈالرکی قدرمیں کمی سے تیل کی قیمت میں کمی متوقع ہے۔ تیل کی ملکی پیداوار چند روز میں 90ہزار بیرل ہوجائے گی۔ حالیہ عرصے میں معاشی ترقی بڑھی اورمہنگائی کی شرح میںکمی ہوئی جس کوآئی ایم ایف نے بھی تسلیم کیا۔ ڈالرکی قدرکم ہونے سے ملک کو قرضوں کی مدمیں 800ارب روپے کافائدہ ہوا۔ ٹماٹر، پیازاور ڈالراقتدار سنبھالنے والی سطح پرواپس آگئے ہیں۔

وزیرخزانہ نے شیخ رشیدکا نام لیے بغیرکہا کہ ایک ساتھی نے استعفیٰ دینے سے بچنے کے لیے اس کوپٹرول میں 10روپے فی لٹرکمی سے مشروط کردیا۔ رواں مالی سال ملکی مہنگائی کی شرح کو 10فیصد تک محدود رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کے لیے حکومت نے 20ارب روپے کی سبسڈی دی۔ ڈالرکی قیمت گرنے سے ان لوگوںکا دعویٰ جھوٹاہو گیاجو کہتے تھے کہ ڈالر 127روپے کا ہوجائے گا۔ حکومتی اقدام سے ڈالربیچنے والوں کی لائنیں لگ گئی ہیں۔ مہنگائی کم ہونے سے کچھ ذہنی مریض پریشان ہورہے ہیں۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ عسکریت پسندوں سے مذاکرات ناکام ہوئے تودیگر آپشن استعمال کریں گے چاہے اس کی مالی لاگت کچھ بھی ہو۔ انتہا پسندی اوردہشت گردی سے قوم کونجات دلانے کے لیے جتنے وسائل خرچ کرناپڑے، کریں گے تاہم مذاکرات کاکامیاب ہونا سب سے بہترحل ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کی ٹیکس ڈائریکٹری شائع کرنے کاوعدہ پوراکر دیاہے۔ اس وقت پہلی مرتبہ 100فیصد پارلیمنٹیرینزکے پاس این ٹی این نمبرہے۔ اگلے اقدام کے طورپر جنرل ٹیکس ڈائریکٹری بھی شائع کی جائے گی۔