جی پی فنڈز سے 50 کروڑ دیگر کاموں پر خرچ ہوئے اسٹیل ملز حکام

مزدوروں کو 3ماہ کی تنخواہ نہیں ملی، فنڈ بھی خرچ کردیا گیا، شیخ رشید


Numainda Express March 14, 2014
اسمگلنگ روکنے کیلیے گندم کی قیمت بڑھانا ضروری ہے، باردانہ کے معاملے میں ٹھیکیداری نظام مسئلہ پیداکرتاہے، پاسکوحکام، غیرمعیاری چاول کا معاملہ ایف آئی اے کے سپرد ، روحیل اصغر کا کمیٹی سے بائیکاٹ۔ فوٹو: فائل

LONDON: قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے غیر معیاری چاول کی خریداری کا بھی معاملہ ایف آئی اے کے سپرد کرتے ہوئے 3 ماہ کی تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اسٹیل ملزحکام نے اعتراف کیا کہ 2009-10ء میں جی پی فنڈز سے50 کروڑ روپے دیگرکاموں میںخرچ کیے گئے ہیںجس پرکمیٹی نے ذمے داروںکا تعین کرنیکی ہدایت اوررقم ایک سال میں قسطوں میں واپس جمع کرانے کاحکم دیا۔ پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کااجلاس جمعرات کے روزچیئرمین کمیٹی سردارعاشق حسین گوپانگ کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہائوس میںہوا۔ اجلاس میں پاکستان اسٹیل ملزکے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیاگیا۔ اجلاس میں اسٹیل ملزکے حکام نے اعتراف کیا کہ 2009-10 میں جی پی فنڈزسے50کروڑروپے دیگرکاموں میں خرچ کیے گئے۔ شیخ رشید نے معاملہ نیب کوبھجوانے کی سفارش کی مگرعارف علوی نے مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ اس معاملے کی تحقیقات کروائی جائے۔ شیخ رشیدکاکہنا تھاکہ مزدوروں کو3 ماہ کی تنخواہ نہیں ملی اوران کا فنڈ بھی خرچ کر دیا گیا۔ کمیٹی نے اسٹیل ملزسے متعلق آڈٹ اعتراضات نیب کی تحقیقات تک ملتوی کردیے۔

وفاقی سیکریٹری تحفظ خوراک سیرت اصغر نے کہاکہ وہ وزارت خوراک وزراعت کے آڈٹ اعتراضات کاجواب نہیںدینگے یہ وزارت صوبوںکومنتقل ہو چکی ہے۔ پاسکوحکام نے کہاکہ باردانہ کے معاملے میں ٹھیکیداری نظام مسئلہ پیداکرتاہے سیاسی مداخلت کے باعث ٹھیکیداری نظام مزید الجھ گیاہے، افغانستان اوروسط ایشیائی ریاستوںکوگندم کی اسمگلنگ روکناہوگی۔ رکن کمیٹی روحیل اصغر نے کمیٹی سے بائیکاٹ کرتے ہوئے کہاکہ کمیٹی آڈٹ پربات کرے گندم کی ناپ تول میں نہیں۔ آڈٹ حکام نے کہاکہ پاسکوکوغیرمعیاری چاول کی خریداری سے41 کروڑروپے کا نقصان ہوا۔ پاسکو نے کہاکہ ہم نے ذمہ داران کیخلاف کارروائی کی ہے مگرتمام لوگ عدالتوں سے بحال ہوگئے ہیں۔ کمیٹی نے معاملہ ایف آئی اے کے سپردکرتے ہوئے تین ماہ کی تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔