ٹوئنٹی 20 کی عالمی جنگ کیلیے میدان سج گیا

پاکستان بھی فیورٹ ٹیموں میں شامل


Saleem Khaliq March 16, 2014
پاکستان بھی فیورٹ ٹیموں میں شامل۔

کرکٹ کی مختصر ترین طرز ٹوئنٹی 20 کے سب سے بڑے مقابلے کیلیے میدان سج گیا، دنیا بھر میں شائقین کا جوش وخروش آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہے، 16 مارچ سے 6 اپریل تک شیڈول ایونٹ میں پاکستانی ٹیم بھرپور تیاریوں کے ساتھ شریک ہو گی۔

کپتان محمد حفیظ بھی یقیناً یہ چاہیں گے کہ یونس خان کی طرح انھیں بھی ٹرافی ہاتھوں میں تھام کر تصویر بنوانے کا موقع ملے، ٹیم کو محمد عرفان کا ساتھ حاصل نہ ہو گا،7فٹ ایک انچ طویل القامت فاسٹ بولر انجری کا شکار ہیں، تجربہ کار وکٹ کیپر کامران اکمل اور آل راؤنڈر شعیب ملک کی اسکواڈ میں واپسی ہوئی ہے، 2009 میں پاکستان نے لارڈز میں ٹائٹل جیتا تھا اس اسکواڈ کے 7 ارکان احمد شہزاد، کامران اکمل، سعید اجمل، شاہدآفریدی، شعیب ملک، سہیل تنویر اور عمر گل موجودہ ٹیم کا بھی حصہ ہیں۔ اگر کھلاڑی اپنی صلاحیت کے مطابق کھیلے تو ایک مرتبہ پھر ٹرافی پاکستان کے قبضے میں آ سکتی ہے، حال ہی میں بنگلہ دیشی سرزمین پر ہی منعقدہ ایشیا کپ میں عمدہ کارکردگی کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھا رہی ہے۔

ایونٹ میں ٹیم نے بھارت کو بھی شکست دی اور اب افتتاحی میچ میں بھی روایتی حریف سے ہی مقابلہ ہو گا، حالیہ فتح سے گرین شرٹس کا اعتماد آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہے،اسی کے ساتھ بعض معاملات پر کپتان محمد حفیظ کو تشویش بھی ہے، ان میں سرفہرست فاسٹ بولرز کی فارم ہے، ایشیا کپ میں پیسرز بے دانت کے شیر نظر آئے،اب عمر اگل، جنید خان، بلاول بھٹی، محمد طلحہٰ و سہیل تنویر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوگی، ان کا ساتھ دینے کیلیے بہترین اسپنرز شاہدآفریدی، سعید اجمل اور حفیظ موجود ہیں،آفریدی ان دنوں کیریئر کی بہترین بیٹنگ فارم میں دکھائی دے رہے ہیں، وہ فٹنس مسائل کے سبب تاخیر سے اسکواڈ کو جوائن کریں گے، ان کی عمدہ کارکردگی ٹیم کی فتوحات کا امکان بڑھا دے گی۔

حالیہ ایونٹ کی میزبانی کے فرائض بنگلہ دیش نبھا رہا ہے، یہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے ایشیا میں انعقاد کا مسلسل دوسرا موقع ہو گا، اس سے قبل 2012 میں سری لنکا میں انعقاد ہوا تھا۔ مختصر فارمیٹ میں گوکہ کسی ٹیم کو آسان قرار نہیں دیا جا سکتا مگر ایشیائی کنڈیشز کے مدنظر پاکستان، بھارت اور سری لنکا حریف ٹیموں کو پریشان کر سکتے ہیں، ویسٹ انڈیز،آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ میںکسی سے کم نہیں، میگا ایونٹ کا فارمیٹ منفرد انداز کا حامل اور ابتدائی راؤنڈ سپر 10 کے کوالیفائر کی حیثیت رکھتا ہے، ریکارڈ 16 ٹیموں کو صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملے گا، ٹیسٹ ٹیموں بنگلہ دیش اور زمبابوے کو بھی 6 ایسوسی ایٹ اینڈ ایفیلٹ اقوام کے ساتھ کوالیفائنگ مرحلے میں شرکت کرنا ہے، گروپ اے میں میزبان کے ساتھ افغانستان، ہانگ کانگ اور نیپال کو رکھا گیا ہے، بی میں زمبابوے، آئرلینڈ،نیدرلینڈز اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، 8 اکتوبر 2012 تک آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں آٹھویں پوزیشن کی ٹیمیں براہ راست سپر10مرحلے میں پہنچیں، انھیں ابتدائی راؤنڈ کی 2 سائیڈز جوائن کریں گی۔

مین ایونٹ میں شریک 10 ٹیموں کو 2 گروپس میں جگہ دی گئی، ہر گروپ کی ٹاپ 2 سائیڈز سیمی فائنل کیلیے کوالیفائی کر لیں گی، 2009 کے چیمپئن پاکستان کو دفاعی چیمپئن ویسٹ انڈیز،2007 میں ٹائٹل جیتنے والے بھارت، آسٹریلیا اور ایک کوالیفائر کے ساتھ گروپ ٹو میں شامل کیا گیا،اسے ''گروپ آف ڈیتھ'' بھی قرار دیا جا رہا ہے، گروپ ون میں 2010 کا چیمپئن انگلینڈ، 2 بار کا فائنلسٹ سری لنکا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ اور ایک کوالیفائر شامل ہوں گے۔



بنگلہ دیش میں شیڈول ایونٹ ابتدا میں خدشات کا شکار رہا، وینیوز کی بروقت تیاری نہ ہونے کے سبب ایک موقع پر ٹورنامنٹ سری لنکا یا جنوبی افریقہ بھی منتقل کرنے پر غور کیا گیا، میچز چار شہروں میں ہونے تھے، ان میں ایک کوکس بازار کو خارج کر کے دیگر تین کو آخر کار کلین چٹ مل ہی گئی،اس سے قبل بار بار کی وارننگز کے باوجود میزبان نے تعمیراتی کام میں خاصی سستی برتی تھی۔ اس مسئلے سے نجات ملی تو بنگلہ دیش میں سیکیورٹی کے معاملات پیدا ہو گئے، گذشتہ برس کیوی ٹیم ایک موقع پر دھماکوں کی آوازوں کے سبب کئی روز تک ہوٹل میں دبکی بیٹھی رہی تاہم اس نے دورہ مکمل کیا، مگر ویسٹ انڈین انڈر 19 ٹیم اتنی ہمت نہ دکھا سکی اور ٹور ادھورا چھوڑ کر چلی گئی، اس سے یہ باتیں زور پکڑنے لگیں کہ ایونٹ بھارت یا سری لنکا منتقل کر دیا جائے گا،عام انتخابات کے بعد بنگلہ دیش کے حالات مزید بگڑ گئے، ایسے میں ایک سیاسی رہنما کو جب پھانسی ہوئی تو پاکستانی اسمبلی میں مذمت کی گئی۔

اس پر تو پورا بنگلہ دیش پاکستان کا مخالف بن گیا، سفارت خانے پر دھاوا تک بولا گیا، یوں گرین شرٹس کی ایونٹ میں شرکت مشکوک ہو گئی، آئی سی سی نے ڈھاکا میں ایک سیکیورٹی کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں پاکستان سمیت کئی ممالک کے نمائندے شریک ہوئے، اس وقت تک ملکی حالات بھی بہتر ہو چکے تھے یوں بنگلہ دیش کی میزبانی بچ گئی،پاکستان نے بھی نمائندے کی مثبت رپورٹ ملنے کے باوجود معاملہ حکومت پر چھوڑ دیا جس کی کلیئرنس کے بعد ٹیم ایشیا کپ میں شریک ہوئی، وہاں عوام نے پاکستانی کھلاڑیوں کو بھرپور پذیرائی بخشی جس سے خدشات کا خاتمہ ہو گیا۔ بنگلہ دیش نے بھی تمام شریک ٹیموں کو فول پروف سیکیورٹی کی یقین دہانی کرائی، اس ضمن میں ورلڈ کپ 2011 جیسا تھری ٹائر نظام اپنایا جا رہا ہے، پلیئرز کو سربراہ مملکت جیسی سیکیورٹی فراہم کی گئی، اس میں فوج کا تعاون بھی حاصل ہے۔

ایونٹ کی مجموعی انعامی رقم 3 ملین ڈالر ہے، فاتح کو 1.1 ملین دیے جائیں گے،رنراپ کے حصے میں ساڑھے پانچ لاکھ ڈالر آئیں گے۔ آئی سی سی نے ایونٹ کیلیے آفیشل نغمے کا بھی اعلان کیا ہے، اس کے بول '' چار چوکا ہوئے ہوئے'' ( چوکے، چھکے، تفریح اور کھیل) ہیں، اسے بنگلہ دیش کے معروف گلوکار اور کمپوزر فواد الامقتدر نے ترتیب دیا جبکہ اس میں کئی گلوکاروں نے اپنی آواز کا جادو جگایا ہے۔

بنگلہ دیشی عوام کرکٹ سے خاصی محبت کرتے ہیں، ایسے میں آئندہ چند روز کے دوران کھلاڑیوں کو بہترین ماحول میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کا موقع ملے گا۔