پاک بھارت تجارتی تعلقات کی بحالی

پاکستان تمام منفی تبصروں سے قطع نظر بھارت کو غیر امتیازی مارکیٹ رسائی (این ڈی ایم اے) دینا چاہتا ہے


ایس رحمن March 15, 2014

پاکستان اور بھارت کے مابین تجارتی مذاکرات میں پیش رفت کے آثار ہویدا ہیں جب کہ دونوں ملکوں کے وزرائے تجارت خرم دستگیر خاں اور آنند شرما دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات کی بحالی کے لیے سرگرمی سے کوششیں کر رہے ہیں۔ نیز یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان بھارت کو معمول کے تجارتی پارٹنر کا درجہدے دیا جائے۔ اس امر کی کوشش بھی کی جا رہی ہے کہ یہ ہدف بھارت کے قومی انتخابات سے پہلے پہلے حاصل کر لیا جائے۔ دونوں وزراء نے اس راہ میں حائل چھوٹی موٹی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے متعدد مرتبہ ملاقاتیں کی ہیں جب کہ دونوں وزرائے تجارت کی اسلام آباد میں اہم ملاقات کی تاریخ 14 فروری کو طے کی گئی تھی تا کہ تجارتی تعلقات کو معمول پر لانے کا تاریخی اعلان کیا جا سکے لیکن عین موقع پر اس عمل کے مخالفین نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے راہ میں روڑے اٹکا دیے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاک بھارت تجارتی تعلقات کے معمول پر آنے سے کون خوفزدہ ہے۔ قیاس آرائیوں میں اسٹیبلشمنٹ' مذہبی سیاسی سخت گیر عناصر یا ان مقامی کاروباری حلقوں کے نام لیے جا رہے ہیں جو اپنی اجارہ داریوں کے بھاری بھر کم منافع پر کوئی زک نہیں پڑنے دینا چاہتے۔ ٹریڈ اسپیشلٹی یا تجارتی اختصاص رکھنے والے لوگ تجارتی تعلقات کو معمول پر لانے کے حق میں ہیں کہ یہ دونوں ملکوں کے لیے فائدہ مند ہوں گے۔ لیکن حال ہی میں ہم نے ایسے اقتصادی ماہرین کے اعتراضات بھی سنے ہیں جو کہتے ہیں کہ بھارت کو معمول کا تجارتی پارٹنر تسلیم کرنے سے پاکستان کا نقصان ہو گا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان دنیا کے 150 ممالک کے ساتھ کھلے عام تجارت کر رہا ہے لیکن 151 ویں ملک یعنی بھارت کے ساتھ تجارت کرنے سے اس کا کس طرح نقصان ہو گا اس سوال کا جواب درکار ہے لیکن اگر جواب میں عجیب و غریب عذر تراشے جانے لگیں تو اس کا کیا علاج۔

مخالفت کرنے والے بعض بزرجمہر کہتے ہیں چونکہ اپنے جی ڈی پی یا گراس ڈومیسٹک پروڈکٹ کے مقابلے میں ہمارے تجارتی حجم میں اضافہ نہیں ہو رہا اس کی وجہ داخلی ڈھانچے کی خامیوں کو قرار دیا گیا ہے تو کیا داخلی ڈھانچے کی درستگی کے لیے مزید ساٹھ سال تک انتظار کیا جائے یا پھر دنیا کے باقی ممالک کے ساتھ بھی تجارت منقطع کر دی جائے تا کہ ہمیں اندرونی حالات درست کرنے کے لیے مناسب مہلت مل سکے؟ لیکن یہاں یہ بات بھی دیکھنے والی ہے کہ اپنی تمام تر اندرونی خامیوں کے باوجود پاکستان انڈیا سے بھی کہیں زیادہ بڑے اپنے پڑوسی ملک چین کے ساتھ تو معمول کے تجارتی تعلقات بحال رکھے ہوئے ہے۔ اس بات کا متذکرہ تجزیہ نگار کوئی جواب نہیں دیتے اس پر مستزاد یہ کہ غیر سرکاری طور پر بھارت کے ساتھ بدستور تجارت جاری ہے جو یا تو براستہ دبئی ہو رہی ہے یا اپنی سرحد سے اسمگلنگ کی صورت میں۔ مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت کے تمام خدشات اس وقت اچانک ابھر کر سامنے آ جاتے ہیں جب دونوں ملکوں میں تجارتی تعلقات کو معمول پر لانے کی بات باضابطہ طور پر چلتی ہے۔

پاک بھارت تجارت کی مخالفت کرنے والے ایک تجزیہ نگار نے ایک انگریزی اخبار میں تحریر کیا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت میں پاکستانی صارفین کو بہت معمولی فائدہ ہو گا۔ مزید کہنا یہ تھا کہ ملکوں میں تجارتی بات چیت سالہا سال تک چلتی رہتی ہے، آخر ہمیں اتنی جلدی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ فاضل مضمون نگار کو یہ علم بھی نہیں کہ یہ تجارتی مذاکرات نہیں ہیں بلکہ تجارتی تعلقات کو معمول پر لانے کی بات چیت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان نے دنیا بھر کے دیگر ممالک کو تجارت کے لیے جو مقام دے رکھا ہے وہی بھارت کو بھی دے دیا جائے۔ مضمون نگار موصوف نے مزید کہا ہے کہ پاکستان کو تجارتی ڈیل میں زیادہ جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ حالانکہ انھیں علم ہونا چاہیے کہ یہ کوئی تجارتی ڈیل کا معاملہ نہیں ہے اور نہ ہی آزادانہ باہمی تجارت کا کوئی سمجھوتہ ہے جس کے لیے پاک چین ایف ٹی اے کا حوالہ دیا گیا ہے۔

تاہم پاکستان تمام منفی تبصروں سے قطع نظر بھارت کو غیر امتیازی مارکیٹ رسائی (این ڈی ایم اے) دینا چاہتا ہے جس کے لیے دونوں وزرائے تجارت بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن اس کے لیے بھارت کو بھی پاکستان کے لیے بعض تحفظات کا اعلان کرنا پڑے گا۔ پاکستان کو اس امر کی ضمانت بھی لینا پڑے گی کہ بھارت پاکستان کی حساس ''سافٹ لسٹ'' کی پابندی کرتے ہوئے سنتھیٹک ٹیکسٹائل، فارما، زراعت اور آٹو سیکٹر میں مخل نہ ہو اس کے جواب میں پاکستان بھارت کو خصوصی منفی فہرست سے خارج کر دے گا اور تمام تجارتی اشیا کے لیے واہگہ اٹاری کا زمینی روٹ کھول دے گا۔ اس سے بار برداری کے بھاری اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی جس سے خام مال کی قیمت میں بھی بہت کمی ہو گی۔ اس سے پاکستان کے زرمبادلہ کی خاصی بچت ہو گی اور ہماری مصنوعات عالمی مارکیٹ میں مسابقت پیدا کر سکیں گی۔ مزید براں پاکستان بہت سی ایسی اشیاء جو دنیا کے دور دراز کے ممالک سے درآمد کرتا ہے وہ اسے بھارت سے مقابلتاً خاصے کم نرخوں پر حاصل ہو سکیں گی نیز ہمیں اپنے کاروباری افراد کے مفادات کو محفوظ رکھنے کی خاطر تجارتی دفاع کے قوانین سے کام لینا ہو گا جو ڈبلیو ٹی او نے وضع کر رکھے ہیں۔

جہاں تک بھارت سے سستی درآمد سے پاکستانی صنعت کاروں کو پہنچنے والے نقصان کے خدشے کا تعلق ہے تو اس کے سدباب کے لیے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) اور ٹی بی ٹی (یعنی ٹیکنیکل بیریئرز ٹو ٹریڈ) موجود ہیں۔ ان کا اور دیگر کئی تکلیف دہ چیزوں کا بھی بتدریج خاتمہ ہو جائے گا۔ بھارت کے لیے پاکستان کی برآمدات آئندہ تین سال میں تین گنا ہونے کے بعد کتنی ہو جائیں گی جب کہ موجودہ سطح 300ملین امریکی ڈالر (یعنی 30 کروڑ ڈالر) کے لگ بھگ ہے۔ اس سے بھارت کو ایف ڈی آئی کا درجہ ملنے میں سہولت ہو گی اور دونوں ملکوں کے دیگر معاملات بھی سلجھ سکیں گے۔

(انگریزی سے ترجمہ)