ورلڈ 20 ٹوئنٹی 2014 کے گراؤنڈز

2006 میں تعمیر شدہ شیربنگلہ اسٹیڈیم میں 25 ہزار شائقین کی گنجائش موجود اور اسے2007 میں ٹیسٹ اسٹیٹس دیا گیا تھا۔


Saleem Khaliq March 16, 2014
ظہور احمد چوہدری اسٹیڈیم چٹاگانگ میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے 14 میچز کھیلے جائیں گے۔ فوٹو:فائل

شیربنگلہ اسٹیڈیم میرپور، ڈھاکا

2006 میں تعمیر شدہ شیربنگلہ اسٹیڈیم میں 25 ہزار شائقین کی گنجائش موجود اور اسے2007 میں ٹیسٹ اسٹیٹس دیا گیا تھا۔ یہاں فٹبال بھی کھیلی جاتی رہی ہے، اس وینیو پر پہلا میچ دسمبر 2008 میں بنگلہ دیش اور زمبابوے کے درمیان ہوا۔



یہاں ورلڈ کپ 2011 کے افتتاحی میچ سمیت 2 کوارٹر فائنلز بھی کھیلے جا چکے ہیں، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے اس وینیو پر17 میچز شیڈول ہیں، پاکستانی ٹیم ابتدائی مرحلے میں اپنے چاروں میچز یہیں کھیلے گی، ایونٹ کا فائنل بھی شیربنگلہ اسٹیڈیم میں شیڈول ہے۔

یہاں اب تک چار ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کا انعقاد ہوا،پاکستان نے نومبر 2011 میں بنگلہ دیش کو 50 رنز سے ہرایا تھا،یہاں نومبر 2013 میں نیوزی لینڈ نے میزبان کیخلاف5 وکٹ پر204 کا سب سے بڑا اسکور بنایا،دسمبر 2012 میں شکیب الحسن نے ویسٹ انڈیز کیخلاف 88 رنز کی اننگز کھیلی، کیریبیئن بیٹسمین مارلون سموئلز 2 میچز میں 143 کی اوسط سے اتنے ہی رنز 2 ففٹیز کی مدد سے بنا چکے ہیں،شکیب الحسن اور عبدالرزاق 4،4 وکٹوں کے ساتھ کامیاب بولرز ہیں۔

ظہور احمد چوہدری اسٹیڈیم چٹاگانگ

یہاں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے 14 میچز کھیلے جائیں گے، انڈر 19 ورلڈ کپ 2004 کے موقع پر تعمیر شدہ اس وینیو کی 2011 ورلڈکپ کیلیے تزئین وآرائش کی گئی جس سے شائقین کی گنجائش 18 ہزار سے زائد ہو چکی، ظہور احمد چوہدری اسٹیڈیم کو جنوری 2006 میں مکمل انٹرنیشنل اسٹیٹس سے نوازا گیا، یہاں پہلا ٹیسٹ27 فروری 2006 سے میزبان اور سری لنکا کے درمیان کھیلا گیا۔



ورلڈکپ 2011 کے 2 گروپ میچز اس وینیو پر ہوئے تھے، یہاں گذشتہ ماہ بنگلہ دیش اور سری لنکا کے درمیان 2 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کا انعقاد ہوا۔ اس اسٹیڈیم پر رواں برس ہی سری لنکن بیٹسمین کمار سنگاکارا نے میزبان کیخلاف ٹیسٹ میں ٹرپل سنچری بنانے کا اعزاز حاصل کیا، پاکستان نے یونس خان کی ناقابل شکست ڈبل سنچری کی مدد سے دسمبر 2011 میں یہاں 594/5 رنز بنا کر اننگز ڈیکلیئرڈ کی تھی۔

سلہٹ ڈویژنل اسٹیڈیم

2007 میں تعمیر شدہ سلہٹ ڈویژنل اسٹیڈیم کی حال ہی میں تزئین وآرائش کی گئی، ماضی میں یہاں انگلینڈ لائنز سمیت انگلش اور نیپال کی انڈر19 ٹیمیں کھیل چکی ہیں، البتہ کسی ٹیسٹ، ون ڈے یا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کا انعقاد نہیں ہوا، تعمیراتی کام میں تاخیر کے سبب سلہٹ اسٹیڈیم میں ورلڈ ٹوئنٹی 20 میچز کا انعقاد خطرے میں ہی رہا، اس سے قبل یہاں شیڈول بنگلہ دیش و کیویز مقابلہ بھی میرپور منتقل کیا جا چکا تھا، آئی سی سی نے بنگلہ دیش بورڈ کو دی گئی ڈیڈلائن میں توسیع کی تو اسے اطمینان حاصل ہوا۔



یوں سلہٹ کی میزبانی بچ گئی، اس اسٹیڈیم میں ساڑھے 13 ہزار سے زائد شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے، یہاں مینز ورلڈ ٹی 20 کے 6 ابتدائی راؤنڈ اور22 ویمنز میچز کھیلے جائیں گے، ابتدا میں سہلٹ میں صرف خواتین کے مقابلے ہونے تھے مگر کوکس بازار اسٹیڈیم تیار نہ ہونے کے سبب مینز میچز بھی منتقل کرنے پڑے۔