وزیراعظم قرض اسکیم نوجوانوں کا امتحان

مقتدر لوگوں کی گہما گہمی کو دیکھتے ہوئے قرض اور غربت کے بہت سے منظر میری نگاہوں کے سامنے سے گزرگئے۔


Zahida Hina March 15, 2014
[email protected]

کنونشن سینٹر اسلام آباد میں کیا چہل پہل، کیا شان، کیا آن بان تھی۔ وہ جن کے سروں پر ہما کا سایہ تھا، ان میں سے بیشتر اپنی اپنی نشستوں پر رونق افروز تھے۔ کراچی، لاہور، پشاور اور دوسرے شہروں سے آنے والے قلم قبیلے کے لوگ ہوٹل رمدا سے دیر میں پہنچے تھے لیکن ان کی نشستیں محفوظ اور مخصوص تھیں اس لیے کسی کو بھی زحمت نہیں ہوئی۔ ایکسپریس کے ایاز خان، سجاد میر، مجیب الرحمان شامی، الطاف حسین قریشی اور بعض دوسروں سے پرانی یاد اﷲ ہے، ان کے ساتھ کھانے کی میز پر سیاست دوراں کی باتیں ہوتی رہی تھیں، سجاد میر اب لاہور جا بسے ہیں لیکن میں انھیں ابھی تک کراچی والوں میں ہی شمار کرتی ہوں۔ ان سے طاہر مسعود، جمال احسانی، صغیر ملال اور ثروت حسین کی باتیں ہوئیں اور دلِ محزوں کتنے ہی بہت سے گزر جانے والے دوستوں کو یاد کرتا رہا۔ پورٹیکو میں گاڑی سے اترتے ہوئے سینیٹر پرویز رشید سے ملاقات ہوچکی تھی، موقع تھا یوتھ بزنس لون کی پہلی قرعہ اندازی کا۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے اس منصوبے کی اخباروں میں اور چینلوں پر تنقید بھی ہورہی تھی اور تنقیض بھی۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے یہ منصوبہ شاید ہمارے لوگوں کے لیے نیا ہو لیکن دنیا اور بہ طور خاص بعض ایشیائی ملکوں نے اس نوعیت کے منصوبوں سے کیا کچھ حاصل کیا ہے اس کا نہ ہمیں علم ہے اور نہ اندازہ۔ کنونشن سینٹر کی مدور چھت میں لگی ہوئی روشنیاں پلکیں جھپکا کر ان سیکڑوں لوگوں کو دیکھ رہی تھیں جو اس قرضہ اسکیم سے اپنا مقدر بدلنے کی امیدیں لے کر آئے تھے اور دھڑکتے دلوں کے ساتھ اس لمحے کا انتظار کررہے تھے جب قرعہ اندازی کے لیے کمپیوٹر کے بٹن دبائے جائیں گے اور ان کے مقدر کا فیصلہ انسان نہیں مشین کرے گی۔

مقتدر لوگوں کی گہما گہمی کو دیکھتے ہوئے قرض اور غربت کے بہت سے منظر میری نگاہوں کے سامنے سے گزرگئے۔ مدر انڈیا کی نرگس جو مہاجن کے پاس اپنے بچوں کی بھوک مٹانے کے لیے مٹھی بھر اناج کے دانے مانگنے جاتی ہے اور وہ اس کی کلائی تھام لیتا ہے۔ کرشن چندر کے وہ افسانے جن میں چند سکوں کے لیے پھیلے ہوئے ہاتھ ہیں، بھوک ہے، بیروزگاری ہے، پھر کم عمر لڑکیاں، دو نوالے بھات کے لیے بدباطن لوگوں کے ہاتھ بیچ دی جاتی ہیں، گروی رکھ دی جاتی ہیں۔ بیسویں صدی کا عظیم ڈرامہ نگار برنارڈ شا آئر لینڈ میں پیدا ہوا۔ اس نے اپنے وطن کی سیاسی غلامی دیکھی، بھوک اور موت کے کٹیلے دانت دیکھے۔ یہ بھی اسی کا زمانہ تھا جب اس نے تاج برطانیہ کے زیر سایہ قحط بنگال کا عفریت دیکھا تھا۔ شاید اسی لیے برنارڈشانے ایک جگہ لکھا ہے کہ غربت ایک جرم ہے۔ وہ اپنے جلو میں ناکامیاں، نامرادیاں، بیچارگی اور بے بسی ساتھ لے کر آتی ہے۔ ایک غریب اور بھوکے انسان کی انا اور خود داری ان لوگوں کے قدموں تلے روندی جاتی ہے جو مجبوروں کی عزت نفس کو کچلنا شان کی بات سمجھتے ہیں۔

ہمارا جنوبی ایشیا غلامی کا طوق گلے میں ڈالے کیسی کیسی اذیتوں سے گزرا ہے۔ اس روز اپنے اردگرد ایک پرجوش رہنما اور ہزاروں پرامید نوجوانوں کو دیکھ کر مجھے ماضی یاد آتا رہا۔ ہمارے رہنماؤں نے، حکمرانوں نے اگر ابتدائی دنوں سے اپنے غریبوں کے بارے میں سوچا ہوتا تو ہم پر وہ قہر کیوں نازل ہوتا جس کا شکار اس ملک کی اکثریت ہوئی۔ اس روز میاں صاحب بتارہے تھے کہ جب انھوں نے اس منصوبے کے بارے میں لوگوں سے گفتگو شروع کی تو بیش تر کا یہی کہنا تھا کہ اس طرح وہ اربوں روپے ڈبو دیں گے۔ نوجوان ان سے قرض لیں گے اور اسے ڈکار جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے ایسی باتیں سن کر بے حد قلق ہوا۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ ہمارے اردگرد ایسے ارب پتی موجود ہیں جنھوں نے حکومتوں سے اربوں روپے لیے اور اسے ہضم کر گئے۔ ان کے قرضے رائٹ آف کردیے گئے لیکن وہ لوگ جن کے خون پسینے کی محنت سے یہ ملک چلتا ہے، ان کو قرض دینے سے پہلے ہی ہم ان کی نیت پر شک کرتے ہیں اور ایسے کسی بھی منصوبے کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں جس سے وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں۔ قرض لوٹا سکیں اور ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ انھوں نے اعداد و شمار کی زبانی یہ بیان کیا کہ ملک کے تمام حصوں سے کتنی درخواستیں آئیں اور ان میں سے کتنی رد کی گئیں۔ انھیں اس بات پر تشویش تھی کہ خواتین کی طرف سے بہت کم درخواستیں وصول ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو ان قرضوں کے ذریعے خود کفیل ہونے کا یہ نادر موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔

چھوٹے یا درمیانے درجے کے کاروبار کے حوالے سے جو سادہ سی بات ہمیں سمجھنی چاہیے وہ یہ ہے کہ معیشت کی ترقی کا یہ طریقہ SME اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز کہلاتا ہے۔ اگر ہم صرف ہندوستان کی طرف دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ شعبہ اس کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی جیسا ہے۔ ہندوستان اس وقت ایشیا کی تیسری بڑی معیشت بن چکا ہے جس میں مینوفیکچرنگ کا شعبہ بے حد اہم ہے جس سے ہندوستان کی 45 فی صد افرادی قوت وابستہ ہے۔ اس وقت ہندوستان میں 13 لاکھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے کام کررہے ہیں اور ان ہی اداروں میں ملک کی برآمدات کا 40 فی صد سامان تیار کیا جاتا ہے۔ ان اداروں نے ہنرمند، نیم ہنر مند لوگوں کو روزگار فراہم کیا، معیشت کو ترقی دی اور آج ہندوستان ایک ابھرتی معاشی طاقت ہے۔ اسی طرح جاپان کو دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی جس کاروباری صلاحیت کی دھوم ہے، وہاں 99 فی صد کاروبار چھوٹے اور درمیانے درجے سے تعلق رکھتا ہے اور جاپانیوں کی اکثریت کا روزگار ان ہی شعبوں سے وابستہ ہے۔ یہ بات ہمارے لیے شاید ناقابل یقین ہو کہ جاپان میں صنعت تجارت اور کاروبار سے تعلق رکھنے والی چھوٹی اور درمیانہ درجے کی کمپنیوں کی تعداد 41 لاکھ 98 ہزار کے لگ بھگ ہے جب کہ بڑی جاپانی کمپنیاں صرف 12 ہزار کے قریب ہیں۔ ان بڑی کمپنیوں میں صرف ایک کروڑ 22 لاکھ جاپانی کام کرتے ہیں اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے 2 کروڑ 84 لاکھ جاپانیوں کو روزگار فراہم کرتے ہیں اور یہ تعداد کل افرادی قوت کا 69 فی صد ہے۔

ہمارے لیے یہ بات بھی ناقابل یقین ہوگی کہ ٹویوٹا، ہنڈا اور سونی جیسی دنیا کی عظیم الشان اور دیوہیکل کمپنیاں گھر کے گیراج یا کسی چھوٹے سے کمرے میں قائم ہوئی تھیں اور انھوں نے معمولی قرض سے کام شروع کیا تھا۔ اسی طرح آج کا چین جو امریکا کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بن چکا ہے، اس کو اس مقام پر لانے کا سہرا ڈنگ ژیاؤ پنگ کے سر ہے جنھوں نے سرکاری سرپرستی میں چلنے والے اداروں کے ایک بڑے حصے کو چھوٹے اور درمیانی سطح کے غیر سرکاری اداروں میں بدل دیا۔ ان اداروں کی مالی معاونت کی گئی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ اس تبدیلی کے بعد چین نے معیشت اور تجارت کے میدان میں زقندیں لگائیں۔ آج نتیجہ یہ ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے یہ ادارے چین میں ملازمت اور روزگار فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں یعنی 86 فیصد چینی ان اداروں سے وابستہ ہیں اور چین کی جی ڈی پی میں ان کاحصہ 60 فیصد ہے۔ چین، جاپان اور ہندوستان کی مثالیں میں نے اس لیے دیں کہ یہ ہمارے ایشیائی پڑوسی ہیں، انھوں نے بھی ہماری طرح غربت جھیلی ہے اور اب عالمی معیشت میں ان کا شمار صف اول میں ہوتا ہے۔ ان ملکوںکو دنیا کی عظیم معاشی قوت بنانے میں چھوٹے اور درمیانے درجے درجے کی صنعتوں اور کاروبار نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ معیشت کی عالمی درجہ بندی میں اس وقت ہمارا ملک 44 ویں نمبر پر ہے۔ نوجوان قرض اسکیم سے استفادہ کرنے والوں کے لیے وہ راہ کھلتی ہے جس پر چل کر تخلیقی صلاحیت رکھنے والے ذاتی اور قومی ترقی میں بڑا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

پاکستان نے ہمیشہ اپنی ''اشرافیہ'' کی صلاحیتوں اور ذہانتوں پر انحصار کیا۔ اس ''اشرافیہ'' نے ہمیں ایک ایسے پس ماندہ اور غیر مستحکم ملک کا تحفہ دیا جہاں غربت، بیروزگاری، بھوک، دہشت گردی، لاقانونیت، نسلی لسانی اور مسلکی منافرت کا دور دورہ ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اس ''اشرافیہ'' کو اب آرام کرنے دیا جائے اور پاکستان کے ان محنت کش اور باصلاحیت نوجوانوں کو آزمایا جائے جن کے پاس عزم و ہمت ہے، محنت اور مشقت کی صلاحیت ہے، کمی ہے تو صرف سرمائے کی، چند ہزار اور چند لاکھ کے سرمائے کی۔ یہ وہ سرمایہ ہے جو قرض لینے والے کو اور دوسروں کو بھی روزگار کے مواقع فراہم کرے گا۔ ملکی معیشت کا دائرہ وسیع ہوگا اور ایک خوشحال اور جمہوری ملک کی بنیاد رکھی جاسکے گی۔ بنگلہ دیش کے محمد یونس نے غریب عورتوں کو بکری اور مرغی خریدنے، ان کا دودھ اور انڈے بیچنے کے لیے چند ہزار ٹکے ادھار دیے تھے۔ ان غریب اور ان پڑھ عورتوں نے محمد یونس کو مایوس نہیں کیا تو ہم یہ کیسے مان لیں کہ ہماری نوجوان لڑکیاں اور لڑکے وزیراعظم کی اس معاشی پہل کاری کی اہمیت کو نہیں سمجھیں گے۔

مقبول خبریں