ریلوے کی نجکاری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا وزیر ریلوے

چین 4ارب ڈالر انویسٹ کریگا، پشاور تا کراچی نیا ٹریک،اسپیڈ 160کلومیٹر فی گھنٹہ ہوجائیگی


INP March 17, 2014
بجلی منصوبوں کو کوئلے کی فراہمی کیلیے انتظامات کیے جا رہے ہیں،خواجہ سعد رفیق، پریس کانفرنس۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ چین ریلوے ٹریک اور دیگر شعبوں میں 4ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا' ریلوے کی نجکاری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا 'ریلوے میں چوروں اور قبضہ گروپوں کیخلاف کاروائی کیلیے ڈنڈااستعمال کر ونگا۔

(ن)لیگ کے لاڈلے اور راج دلاروں کی امیدوں پر پانی پھر چکا ہے اور ہماری پارٹی سمیت کسی بھی پارٹی کو ریلوے کے معاملات میں دخل اندازی کی اجازت نہیں دیںگے۔ ریلوے کی نجکاری کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا،میں نے جب سے وزارت ریلوے سنبھالی ہے بہت کچھ سیکھ رہا ہوں۔ پشاور تا کراچی نیا ریلوے ٹریک بچھایا جائے گا جس سے گاڑی کی اسپیڈ 160کلومیٹر فی گھنٹہ ہو جائے گی اور لاہور سے کراچی کا سفر صرف10سے 12گھنٹے میں طے ہو گا۔ بجلی کے منصوبوں کو جامشورو،ساہیوال ، جھنگ، رحیم یار خان اور مظفر گڑھ سمیت دیگر مقامات پر ٹرینوں کے ذریعے کوئلے کی فراہمی کیلیے انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں، ریلوے میں کوئی بھی اضافی افسر برداشت نہیں کیا جائے گا، اس لیے 3اے جی ایم فارغ کیے جا رہے ہیں۔ ریلوے کا صرف ایک جی ایم ہو گا اور ریلوے بورڈ کے قیام کیلیے سمری وزیر اعظم کو بھجوا دی ہے۔

آئندہ چند روز میں ریلوے حکام کی ملاقات بھی متوقع ہے۔ ہم نے کرپشن ختم کرنے کا تہیہ کرلیا ہے۔ ریلوے کے 87کروڑ روپے کے اسکریپ اسکینڈل سے 25کروڑ روپے خزانے میں جمع کروائے گئے ہیں۔ کوئلے کی سپلائی کیلیے نیسپاک کے تعاون سے ننکانہ صاحب، نارروال، اوکاڑہ، ساہیوال، گوجرانوالہ اور حسن ابدال میں کنٹینر ٹرمینل تیار کیے جائیںگے۔ اتوار کے روز وہ ریلوے ہیڈ کوارٹر میں ریلوے پریم یونین کے صدر حافظ سلمان بٹ اور دیگر عہدیداران سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کررہے تھے جبکہ اس موقع پر پریم یونین کی جانب سے وفاقی وزیر ریلوے کو اپنے6نکاتی ایجنڈا بھی پیش کیا گیا جس میں ریلوے کی نجکاری نہ کرنے، انجنوں کو بیرون ملک سے منگوانے کے بجائے اپنے وسائل سے انجن بنانے سمیت دیگر مطالبات شامل تھے جس پر وفاقی وزیر ریلوے نے پریم یونین کو یقین دلایا کہ ان کے جائز مطالبا ت کو تسلیم کیا جائے گا۔

اس موقع پر خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ ہمارا نعرہ ریلوے کی بحالی پاکستان کی بحالی ہے اور ریلوے کی نجکاری کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا تاہم اگر ریلوے مسلسل خسارے میںچلتا رہا تو پھر اس کی نجکاری کو کوئی نہیں روک سکے گا جبکہ ریلوے کی خوشحالی کیلیے ہمارا ایک ہی نعرہ ہے کام کام اور کام ہے۔ انہوںنے کہاکہ بزنس ٹرین کا منصوبہ اور ریلوے کی اراضی رائل پام کو دیناکرپٹ منصوبے تھے جس کی وجہ سے ریلوے کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے اور ریلوے کا زخم بہت گہرا ہے اس کی جڑیں بن چکی ہیں لیکن یہ ناممکن نہیں اس کے ٹرن آئوٹ کیلیے ہمیں سب کو مل کر محنت کرنا ہو گی۔ انہوںنے کہاکہ (ن) لیگ کے لاڈلے اور راج دلاروں کی امیدوں پر پانی پھر چکا ہے اور ہماری پارٹی سمیت کسی بھی پارٹی کو ریلوے کے معاملات میں دخل اندازی کی اجازت نہیں دیںگے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے 8سے 9ماہ کے دوران کوئی بھی ریلوے اراضی فروخت نہیں کی اور اب ریلوے کی اراضی کو کرپشن سے بچانے اور ریکارڈ پر لانے کیلیے لینڈ کمپیوٹرائزیشن کر رہے ہیں اور ریلوے نے صوبائی حکومتوں کوخط بھی لکھ دیا ہے کہ وہ ریلوے کی اراضی کو ریلوے کے نام پر منتقل کریں۔

انہوںنے کہاکہ ریلوے کی گاڑیوں کے اوقات کار میں بہتری آئی ہے تاہم نئے 58لوکوموٹیوز کے آنے سے ریلوے میں بہتری آئے گی۔ انہوںنے کہاکہ نیب کو رائل پام کے معاملے کیلیے درخواست دی اور میں عدلیہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ریلوے کے خزانے سے 2,2کروڑ روپے کے وکیل نہیں کر سکتے۔ اس لیے عدالت ہمیں جلد انصاف فراہم کرے۔ انہوںنے کہاکہ بزنس ٹرین سے ریلوے کو خسارہ ہوا ہے اور ہم اس ڈیل کو کینسل کروائیںگے۔ کوئی بھی شخص آئین و قانون کے خلاف کاکام کرے گا تو اسے تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ ہم پنشنرز اور ریلوے کی تنخواہوں کی فراہمی کیلیے آسان طریقہ لا رہے ہیں اور آٹو مینشن کے لیے کرپشن کا خاتمہ بھی ہو گا اور پنشنرز اور تنخواہ اپنی مرضی سے اپنی مرضی کے بینک سے نکلوا سکیں گے۔