آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی سے ڈالر کی پرواز تھم گئی

انٹربینک میں ڈالر 221 روپے سے نیچے آگیا جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 222 روپے کی سطح پر آگئی


Staff Reporter August 30, 2022
(فوٹو : فائل)

آئی ایم ایف سے 6 ماہ کے طویل انتظار کے بعد قرض پروگرام کی منظوری کے ساتھ رواں ہفتے ہی چھٹی اور ساتویں قسط کے اجرا سے دو ہفتوں سے جاری ڈالر کی پرواز ایک بار پھر رک گئی جس سے انٹربینک میں ڈالر 221 روپے سے نیچے آگیا جبکہ اوپن مارکیٹ میں 222 روپے کی سطح پر آگیا۔

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 1 روپے 79 پیسے کی کمی سے 220 روپے 12 پیسے کی سطح پر بند ہوئی جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 8روپے 50پیسے کی کمی سے 222روپے کی سطح پر بند ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: انٹر بینک میں ڈالرکی قدرمیں 1.27روپے کی کمی

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے چئیرمین ملک بوستان نے کہا ہے کہ بھارت بنگلہ دیش اور افغانستان کی کرنسیوں کی قدر ڈالر کے مقابلے میں بالترتیب 80روپے 95روپے اور 90روپے ہے۔

مقامی ایکس چینج کمپنیز نے مشترکہ حکمت عملی کے تحت ڈالر کی قدر کو مرحلہ وار بنیادوں پر 180روپے تک نیچے لانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف سے قسط کی پاکستان منتقلی کے ساتھ ڈالر کی قدر 210روپے کی سطح پر آجائے گی جسکے بعد دوست ممالک سے تقریبا 30ارب ڈالر کا فنڈ موصول ہونے کے نتیجے میں ڈالر کی قد 200روپے اور بعدازاں 180روپے کی نچلی سطح پر آجائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرض کی ادائیگی کی منظوری دے دی

دوسری جانب بازار حصص میں بھی تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں 318پوائنٹس کی تیزی رہی۔ 100 انڈیکس بڑھ کر 42823پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔

واضح رہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) بورڈ نے پاکستان کے ساتویں اور آٹھویں اقتصادی جائزے اور اسٹاف سطع کے معاہدے کے ساتھ 1.17 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی بھی منظوری دیدی ہے۔