بر صغیر میں غربت اور اسلحہ کی تجارت
دنیا کے 6 ارب کے لگ بھگ عوام جس غربت، بھوک اور افلاس کا شکار ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ دنیا بھر کے ملکوں۔۔۔
دنیا کے 6 ارب کے لگ بھگ عوام جس غربت، بھوک اور افلاس کا شکار ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ دنیا بھر کے ملکوں کے دفاعی اخراجات ہیں۔ پاکستان اور بھارت کا شمار دنیا کے غریب ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔ اب تک کہا جا تا رہا تھا کہ ان دونوں ملکوں میں 40 فیصد لوگ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں لیکن تازہ انکشافات کے مطابق بھارت میں ایسے لوگوں کی تعداد 54 فیصد ہوگئی ہے اور لگ بھگ اتنا ہی اضافہ پاکستان میںہوا ہے۔ اس ترقی معکوس کی دیگر وجوہات میں ایک بڑی وجہ ہتھیاروں کی دوڑ ہے۔ علاقائی تنازعات وہ سب سے بڑی وجہ ہے جو ہر ملک کو ہتھیار خریدنے اور ہتھیار بنانے پر مجبور کردیتی ہے۔ پاکستان اور ہندوستان جن علاقائی تنازعات میں 66سال سے گھیرے ہوئے ہیں ان میں اہم تنازعہ کشمیر ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ان اندوہ ناک علاقائی تنازعات کو ناقابل حل کیوں بنا دیا گیا ہے؟ کوئی مفادات ہیں؟ ایک مبہم سی احمقانہ تاویل یہی پیش کی جاتی ہے کہ ان تنازعات کی وجہ سے ملک کی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ کیا عوام کی تقدیر پر سانپ بن کر بیٹھنے والے ان تنازعات کو حل کرنے میں عوام کو شامل کیا گیا۔ کیا ان تنازعات کو حل کرنے میں دونوں ملکوں کے امن دوست ادیبوں، شاعروں، دانشوروں کی خدمات اور صلاحیتوں کو کبھی استعمال کرنے کی کوشش کی گئی؟ اس سوال کا جواب نفی میں اس لیے آتا ہے کہ حکمران طبقات اور ان کے سرپرست سرمایہ دارانہ نظام کا مفاد اس میں ہے کہ علاقائی تنازعات ختم نہ ہوں تاکہ کھربوں ڈالر کے اسلحے کی تجارت جاری رہے۔ ترقی یافتہ ملکوں کے حکمران طبقے ہتھیاروں کی صنعت سے کھربوں ڈالر بٹورتے رہیں اور ترقی پذیر ملکوں کا حکمران طبقہ ہتھیاروں کی خریداری میں اربوں روپوں کی رشوت کک بیک کھاتا رہے۔ یہی وہ اصل وجہ ہے جو حکمران اور عالمی سرمایہ داروں کو علاقائی تنازعات حل کرنے سے روکتی ہے۔ پاکستان کے حکمران طبقات میں اگرچہ روایتی تمام شرعی عیب موجود ہیں لیکن مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہم ان میں کوئی زیادتی، کوئی ہٹ دھرمی اس لیے تلاش نہیں کرسکتے کہ وہ ان تنازعات کا کمزور فریق ہیں اور کمزور فریق کی کمزوری یہ ہوتی ہے کہ وہ دادا گیری اور ہٹ دھرمی نہیں کرسکتا۔
ہندوستان کا حکمران طبقہ اپنے جنگجویانہ مزاج کی وجہ سے دفاع پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ دفاع پر زیادہ رقوم خرچ کرنے والے ملکوں میں ہندوستان آٹھویں نمبر پر ہے اور ہتھیاروں کی خریداری میں اس کا شمار دنیا کے دس بڑے ہتھیار کے خریداروں میں ہوتا ہے۔ ہندوستان اس سال صرف روس سے 11 ارب ڈالر کے ہتھیار خرید رہا ہے۔ بھارت روس سے جو لڑاکا ہوائی جہاز Sukhoi خرید رہا ہے اس ایک جہاز کی قیمت تقریباً 55 ملین ڈالر ہے۔ ہندوستان کے وزیر دفاع اے کے انتھونی کا ارشاد ہے کہ انڈیا غیر معینہ مدت تک بیرونی ملکوں سے اسلحہ نہیں خرید سکتا، اب اسے اس شعبے میں خود کفیل ہونا پڑے گا۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ایک تجزیہ کار Pieter Wezeman کے مطابق دنیا میں کسی ایسے ملک کی مثال نہیں مل سکتی جو انڈیا کی طرح ہتھیاروں کی صنعت کے اپنے ملک میں فروغ کے لیے ہاتھ پیر مار رہا ہو۔ اس حوالے سے بھارتی حکومت جس مشکل مسئلے کا شکار ہے وہ یہ ہے کہ بھارت کی ہتھیاروں کی صنعت شدید کرپشن کا شکار ہے اور سر توڑ کوششوں کے باوجود بھارتی حکومت اس بھاری کرپشن کو نہیں روک پارہی ہے۔ حکومت کو یہ خوف لاحق ہے کہ اگر بھارت کو دفاعی شعبے میں خود کفیل بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پھر اس شعبے میں ممکنہ طور پر پھیل جانے والی کرپشن کو کس طرح روکا جائے گا؟
بھارت میں ہتھیاروں کی تیاری پر کوئی 50 سرکاری لیبارٹریز دن رات کام کررہی ہیں جو 40 آرڈیننس فیکٹریز میں تیار ہوجانے والے اسلحے میں معروف ہیں لیکن نتیجہ اب تک صفر ہے۔ ان مشکلات کی وجہ بھارت بیرونی ملکوں سے بڑے پیمانے پر ہتھیار خریدنے پر مجبور ہے۔ ہتھیاروں کی بھارتی خریداری میں 2011 کے مقابلے میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے اور بھارت دنیا میں مجموعی طورپر تیار ہونے والے اسلحے کا 12 فیصد خرید رہا ہے۔ بھارت کی اسلحے کے صنعت میں اب تک بیرونی سرمایہ کاروں کو 26 فیصد سرمایہ کاری کی اجازت تھی لیکن بھارتی حکومت نے بیرونی سرمایہ کاروں کو اس شعبے میں سرمایہ کاری کی ترغیب فراہم کرنے کے لیے بیرونی سرمایہ کاری کی مد میں میں 26 فیصد سے اضافہ کرکے 49 فیصد کردیا ہے لیکن اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کی ابھی تک کسی ملک نے کوشش نہیں کی۔ غالباً اس کی وجہ بھارت کے اس شعبے میں پھیلی ہوئی کرپشن ہے۔بھارت بیرونی ملکوں سے جو اربوں ڈالر کا اسلحہ خرید رہا ہے، اس میں سے 79 فیصد روس، 6 فیصد برطانیہ، 4 فی صد ازبکستان، 4 فیصد اسرائیل اور 2 فیصد امریکا سے خرید رہا ہے، اس خریداری سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ اسلحے کی خریداری میں بھارت کا روس پر کس قدر انحصار ہے۔ پچھلے دنوں بھارت میں روس کے سفیر مسٹر Alexander Kadakin نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی کہ روس کی بھارت کو اسلحہ سپلائی (فروخت) میں کوئی کمی ہورہی ہے۔ موصوف نے فرمایا کہ بھارت کی اسلحے کی مارکیٹ میں روسی اسلحے کی فروخت میں کمی کی افواہیں مکمل طور پر بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔ بھارت کی اسلحے کی صنعت میں تیار ہونے والے اسلحے کی خریداری کے لیے بھارتی فوج بالکل تیار نہیں۔ بھارت کی اسلحہ سازی کی صنعت میں کرپشن کے علاوہ بھی کئی مشکلات درپیش ہیں، اس لیے بھارت کو باہر سے اسلحہ خریدنا پڑتاہے جن کا 79 فیصد حصہ صرف روس سے خریدا جارہا ہے۔
ان چند حقائق کا تذکرہ ہم نے ضمناً کیا ہے، اصل مسئلہ پسماندہ ملکوں کے محکمہ دفاع پر قومی دولت کا بے تحاشا استعمال ہے۔ اس مسئلے کو صرف ہندوستان اور پاکستان کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کی ضرورتوں کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اسلحہ فروخت کرنے والے بڑے ملکوں میں اس صنعت پر کھربوں ڈالر کا سرمایہ لگا ہوا ہے اور اس سے اربوں ڈالر کا منافع حاصل کیا جارہا ہے۔ کیا ایسے بے انتہا منافع بخش کاروبار کو سرمایہ دار ملک ترک کرسکتے ہیں؟ علاقائی تنازعات بے مقصد جنگیں وغیرہ در اصل اسی ذہنیت اور ضرورت کی پیدا کردہ ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ اس المیے کا حصہ ہے۔ یہ مسئلہ بظاہر تو دو ملکوں کے جائز و ناجائز مفادات کا مسئلہ نظر آتا ہے لیکن اس کے پیچھے جو اصل محرکات کارفرما ہیں وہ سرمایہ دارانہ نظام کی ضرورتیں ہیں۔ امریکا اور اس کے اتحادی اگر خلوص نیت سے چاہیں تو کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ حل کراسکتے ہیں لیکن اگر یہ مسئلے حل ہوجائیں تو اس کھربوں ڈالر کی اسلحے کی فروخت کا کیا ہوگا جو بھارت پاکستان اور عرب ممالک خرید رہے ہیں۔